Chitral Times

Jan 21, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جی پی فنڈ فیسلیٹیشن سیل کا قیام ; 2006 سے بھرتی ہونے والے ملازمین کا جی پی فنڈ ڈیٹا ڈیجیٹائز کردیا گیا

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) ڈیجیٹل پاکستان کی جانب ایک اہم پیش رفت، اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا نے سرکاری ملازمین کی سہولت کے لیے جی پی فنڈ فیسیلیٹیشن سیل کا آغاز کر دیا۔ جہاں پر 2006 سے بھرتی ہونے والے ملازمین کا جی پی فنڈ ڈیٹا ڈیجیٹائز کر دیا گیا۔


کنٹرولر جنرل آف اکاونٹس پاکستان فرخ احمد حمیدی نے بدھ کے روز اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا پشاور آفس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے جی پی فنڈ فیسیلیٹیشن سیل فیز ون اور ڈیجیٹل کانفرنس روم کا بھی افتتاح کیا جبکہ اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا مرتضی خان نے فرخ احمد حمیدی کو مختلف سیکشنز کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔


اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرخ احمد حمیدی نے کہا کہ نئے سیل کے آغاز سے کاغذی کارروائی کے جنجھٹ سے چھٹکارا ملے گا اور ملازمین کو مزید آسانی میسر ہوگی۔ خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں میں بھی یہی ڈیجیٹائزیشن کا عمل دہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک کلک سے سرکاری ملازمین بغیر کسی پریشانی کے جی پی فنڈ تک رسائی حاصل کر سکیں گے کیونکہ اب جی پی فنڈ فیسیلیٹیشن سیل میں تمام امور ڈیجیٹل کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی پی فنڈ فیسیلیٹیشن کے فیز II میں 2006 سے پہلے بھرتی ملازمین کا ڈیٹا ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔اس سلسلے میں ڈیٹا اندراج کے لیے ہیوی ڈیوٹی سکینرز حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ماحول دوست انداز میں دفتری امور نمٹانے کے حوالے سے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس فرخ احمد حمیدی نے کہا کہ منصوبے سے پیپر لیس ماحول، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی جبکہ منصوبے کی تکمیل سے خیبرپختونخوا کے پانچ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین مستفید ہوں گے۔

انہوں اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب وسائل میں ڈیجیٹل عمل کو کسی خرچ کے بغیر مکمل کرنا قابل تعریف ہے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا مرتضیٰ خان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ جی پی فنڈ فیسیلیٹیشن سیل کے قیام سے اب ایک ہی چھت تلے سہولیات دی جا رہی ہیں۔ اب ہفتوں کی بجائے چوبیس گھنٹے کے اندر کسی بھی ملازم کی متعلقہ فائل پراسس ہوگی جبکہ فائل پراسس کی تکمیل پر متعلقہ ملازم کو بذریعہ موبائل میسج بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب صوبہ بھر میں کسی بھی ملازم کے ٹرانسفر ہونے سے تنخواہ لیٹ نہیں ہوگی۔ ملازمین کا ڈیٹا ان کے پرسنل نمبر پر ہر اکاؤنٹ سرکل میں دستیاب ہوگا۔

خدمات کی بہتر فراہمی میں شفافیت برقرار رکھنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مرتضیٰ خان نے کہا کہ شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے شکایات کی بنیاد پر قانونی کارروائیاں کی گئیں ہیں کیونکہ دفتر کی دہلیز کے بجائے گھر کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی مشن ہے۔ شفافیت کو فروغ دینے کے لیے صوبہ میں موجود تقریباً 180 سے زائد آفیسرز کی روٹیشن کی گئی ہے تاکہ متعلقہ جگہ پر اسی مناسبت سے ملازم مقرر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا سمیت دیگر تمام متعلقہ افراد کی سہولت کے لیے انفارمیشن اور کمپلینٹ ریڈرسل سیل بنایا گیا ہے جبکہ شکایات کے بروقت ازالے کے لئے وٹس ایپ سہولت بھی فعال ہے۔ تقریب میں ڈپٹی آڈیٹر جنرل سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر بہترین کارکردگی دکھانے والے87 افسران وملازمین اور خدمات کی فراہمی والے افراد میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔


شیئر کریں: