Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انسداد منشیات، اداروں کی تطہیر ناگزیر۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایاگیا کہ گذشتہ 12سالوں میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کی 68کروڑکی جائیدادیں ضبط کی گئیں۔قائمہ کمیٹی نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اتنی مالیت تو صرف افیون کی ایک بوری کی ہوتی ہے جو حکام نے 12سا ل میں ضبط کیں ہیں،ہمارے بچے تباہ ہورہے ہیں سعودی عرب کی طرح پاکستان میں بھی منشیات فروشوں کے سر قلم کا قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ حکام نے بتایاکہ منشیات کی سمگلنگ کونہیں روکاجاسکتا۔پاک بھارت سرحد پردونوں ممالک کی طرف سے سخت سیکورٹی انتظامات کے باوجود آ ج بھی جانوروں کی سمگلنگ ہورہی ہے۔ملک کے تمام اضلاع اور جیلوں میں منشیات کے عادی افراد کے لیے بحالی مرکز بنانا ضروری ہوگیاہے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وزیراعظم اورچاروں وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کرکے انہیں منشیات کے کاروبار کے خاتمے کے لئے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ انسداد منشیات کے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پہلے تمام ہسپتالوں میں ایک وارڈ منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے مختص کئے گئے تھے۔ منشیات کے عادی افراد نے ہسپتالوں کے سٹاف کوہی منشیات پر لگادیا اس وجہ سے یہ وارڈ ختم کرنے پڑے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات کے استعمال کی شکایات مل رہی ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں اے این ایف کو جانے سے منع کردیا گیاہے۔خیبر پختونخوا حکومت نے قانون سازی کرکے صوبے میں اے این ایف کے اختیارات ختم کردیئے ہیں۔

پولیس منشیات فروشوں کے خلاف ٹارگٹ آپریشن نہیں کرتی۔چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ منشیات فروش چھوٹے بچوں کو استعمال کرتے ہیں خود آزادپھیرتے ہوتے ہیں غریب کے بچے پکڑے جاتے ہیں۔ منشیات فروش ارب پتی بن گئے ہیں ان کو کوئی نہیں پکڑتا۔ پاکستان میں منشیات کے 20بڑے ڈیلرز پکڑکر قرار واقعی سزا دی جائے تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔پشاور میں سڑک کنارے جھاڑیوں اور پلوں کے نیچے منشیات استعمال کرنے والوں نے اپنے مستقل ٹھکانے بنارکھے ہیں۔سرعام ہیروئن اور آئس کا استعمال کیاجارہا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے سڑکوں پر نشہ کرنے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔

کارخانو مارکیٹ نشے کے عادی افراد کا مرکز بن چکا ہے۔ نشے کے عادی ان ہزاروں افراد کو کہاں سے منشیات سپلائی ہوتی ہیں ان بارے میں پولیس، انسداد منشیات فورس اور ایجنسیوں کو بخوبیعلم ہے۔ مگر ان پر ہاتھ ڈالنے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی۔ عام تاثر یہی ہے کہ منشیات کے اس کاروبار میں سرکاری حکام کو روزانہ کی بنیاد پر باقاعدگی سے حصہ ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ عوامی مطالبے اور حکومتی اعلانات کے باوجود منشیات کا دھندہ کم ہونے کی بجائے روزبروز بڑھتا جارہا ہے۔ اکثر نوجوان برے ماحول کی وجہ سے نشے کی لت میں پڑجاتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے گھریلوپریشانیوں کے باعث نشے میں سکون تلاش کرتے ہیں ایک بار منہ سے یہ کافر لگ جائے تو چھوٹنے کا نام نہیں لیتا۔چرس، افیون، بھنگ کے بعد ہیروئن اور اب آئس اورشیشہ کا استعمال عام ہونے لگا ہے۔

کسی دل جلے نے یہ بات مشہور کردی کہ آئس اور شیشے کے استعمال سے نیند اڑجاتی ہے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات نے شروع میں پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھنے کے لئے نشہ استعمال کرنا شروع کیا۔ اب اس کے عادی ہوکر تعلیم ہی نہیں بلکہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہونے لگے ہیں اور قوم کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔اگر منشیات کی تیاری، کاروبار اور استعمال کی روک تھام کے لئے قائم نصف درجن ادارے معاشرے سے اس لعنت کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں تو ان کی تنظیم نو ضروری ہے۔کیونکہ اس برائی کو فروغ دینے میں اس کی روک تھام پر مامور اداروں کی کوتاہی کا بڑا ہاتھ ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ معاشرے میں 80فیصد جرائم میں پولیس والوں کا ہاتھ ہوتا ہے اسی طرح 90فیصد منشیات کے کاروبار میں بھی سرکاری اداروں کی سرپرستی حاصل ہے۔

منشیات کے کاروباراور استعمال کی روک تھام متعلقہ سرکاری اداروں کی تطہیر کے بغیر ممکن نہیں۔ قائمہ کمیٹی کی سفارش کے مطابق منشیات فروشوں کے خلاف سخت قانون سازی اب ناگزیر ہوچکی ہے۔ سعودی عرب سمیت بعض ممالک نے منشیات کے کاروبار اور استعمال پر موت کی سزا مقرر کرکے اس دھندے پر قابو پالیا ہے۔ہمارے ہاں بھی قانون سازی کے ساتھ قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ منشیات پر کنٹرول کا قوم کے مستقبل سے براہ راست تعلق ہے۔ اپنے مالی مفادات کے لئے قوم کا مستقبل خطرے میں ڈالنا ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے اور اس کا قومی سلامتی سے بھی براہ راست تعلق بنتا ہے۔ قانون سازی کے ذریعے منشیات کی پیداوار، کاروبار، سپلائی اور استعمال کو قومی مفادات سے متصادم قرار دے کر ہی اس برائی سے قوم کو بچایا جاسکتا ہے۔ صرف حکومت اور سرکاری ادارے ہی نہیں، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، محراب و منبر اور فلاحی تنظیموں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔


شیئر کریں: