Chitral Times

Aug 13, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے میں امن و امان حوالے وزیراعلیٰ محمود خان کے زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس

شیئر کریں:

صوبے میں امن و امان حوالے وزیراعلیٰ محمود خان کے زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبے میں امن و امان کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منگل کے روز وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بلدیاتی انتخابات اور صوبے میں جاری پولیو مہم کے خصوصی تناظر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف، چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری اور وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں ڈویژنل کمشنرز ، ریجنل پولیس آفسران اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔


وزیراعلیٰ نے گذشتہ چند دنوں کے دوران صوبے کے بعض اضلاع میں پیش آنے والے بدامنی کے واقعات خصوصا ًپولیو ٹیموں کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو ایسے واقعات کے موثر تدارک کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ۔گزشتہ مہینے چارسدہ کے علاقے مندنی میں پیش آنے والا واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ اسپیشل برانچ کے ذریعے واقعے کے تمام پہلوو¿ں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ جلد پیش کی جائے، اس ناخوشگوار واقعے کے تمام محرکات کو سامنے لایا جائے اورآئندہ اس طرح کے واقعات کی موثر روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ مجرموں کو سزا دینے کے لئے قوانین اور عدالتیں موجود ہیں، کسی کو بھی حکومت کی عملداری کو چیلنج کرنے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 19 دسمبر کوبلدیاتی انتخابات کے پرامن ماحول میں انعقا د کو اپنی حکومت کی اہم ترجیح اور ذمہ داری قرار دیتے ہوئے انہوں نے ہدایت کی کہ ان انتخابات کے پرامن انعقاد کیلئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے، اس سلسلے میں پولیس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کو بھی مستعد ہونا پڑے گا، صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے درکار تمام تر مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔


ضم اضلاع میں قبائل کے درمیان جائیداوں کے دیرینہ تناعات کو علاقے میں بدامنی کی بڑی وجوہات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی نے محکمہ داخلہ، پولیس، متعلقہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ان تنازعات کے پرامن حل کیلئے مقامی روایات کے مطابق موثر اور فریقین کے لئے قابل قبول لائحہ عمل تشکیل دے کر ایسے تمام تنازعات کو جلد سے جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔ ہزارہ ریجن میں میگا ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے غیر ملکیوں کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لئے وزیر اعلی نے متعلقہ کمشنر اور آر پی او کو متعلقہ محکموں اور اداروں کی مشاورت سے سکیورٹی پلان از سر نو تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ امن و امان کی صورتحال کا سبب بننے والے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط خبروں کے موثر روک تھام کیلئے انہوں نے پولیس اور متعلقہ محکموں اور اداروں کو اس سلسلے میں ایک ریگولیٹری میکنزم تشکیل دینے کے لئے ضروری ہوم ورک مکمل کرکے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔
صوبے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کے لئے انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کو بلدیاتی انتخابات کے فوراً بعد صوبہ بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاﺅن دوبارہ سے شروع کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلی نے مزید ہدایت کی کہ انٹیلی جنس اداروں کی مدد سے تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کرنے والوںکی نشاندہی کی جائے تاکہ ان کے خلاف موثر کارروائیاں عمل میں لائی جاسکیں۔اُنہوںنے متعلقہ محکموں اور اداروں کو منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے متعلقہ نجی شعبوں کے اشتراک سے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کی ۔ علاوہ ازیں وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو مہمند سپیشل خاصہ دار فورس کو تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ جلد حل کرنے، ایکس سروسز مین کی مستقلی اور ملاکنڈ لیویز کو ریگولر پولیس میں ضم کرنے کا عمل تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔


اجلاس کے شرکا ءکو صوبے میں امن و امان کی تازہ صورتحال ، بلدیاتی انتخابات کیلئے سکیورٹی انتظامات اور دیگر مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلئے 77 ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے، اس کے علاوہ ایف سی اور آرمی کی 10 ہزارکوئیک ریسپانس فورس بیک اپ پر موجود ہوگی، سکیورٹی اعتبار سے 17 اضلاع کے نو ہزار پولنگ ا سٹیشنزکو سکیورٹی اعتبار سے تین مختلف کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔کٹیگری اے پولنگ اسٹیشن میں کل 9 اہلکار ، کیٹگری بی میں 5 کیٹگری سی میں تین اہلکار شامل ہوں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2021 کے مقابلے میں گزشتہ مہینے صوبے میں قتل ، اغواءاور ڈکیتی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے،نومبرکے مہینے میں صوبے میں 1879 اشتہاری مجرمان کو گرفتار کیا گیا، نومبر کے مہینے میں منشیات کے خلاف کاروائیوں میں مختلف قسم کی2800 کلوگرام منشیات پکڑی گئیں جبکہ غیر قانونی اسلحے کے خلاف کاروائیوں میں 5454 اسلحہ پکڑا گیا ہے۔ اجلاس کے شرکاءکو بتایا گیا کہ صوبائی دارلحکومت پشاور میں اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کیلئے ابابیل اسکواڈ کے نام سے ایک خصوصی اسکواڈ تشکیل دیا جارہا ہے ،


ابتدائی طور پر یہ سکواڈ200 موٹر سائیکلوں اور 800 پولیس اہلکاروں پر مشتمل ہو گا،بعد میں اس سکواڈ میں 200 مزید موٹر سائیکلوں اور 800 پولیس اہلکاروں کا اضافہ کیا جائے گا، اگلے مرحلے میں ابابیل سکواڈ کو صوبے کے چھ اضلاع تک توسیع دی جائے گی جبکہ تیسرے مرحلے میں اسے 25 اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔


شیئر کریں: