Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہم تو ڈوبے ہیں صنم۔۔۔۔۔۔ قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو عالمی سطح پر آنا شروع ہوگیا ہے، کرونا وبا کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی پیداوار میں کمی نے صورت حال خاصی مختلف اختیار کی اور اس کے نتائج عوام کو بھگتنا پڑرہے ہیں، اس امر کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کا رجحان شروع ہوگیا اور نمایاں کمی کے بعد عوام کو توقع تھی کہ وہ قوت برداشت سے زیادہ خرید کے بعد تھوڑا ریلیف بھی حاصل کرسکیں گے لیکن دیکھنے میں آیا کہ عوام کو عالمی سطح پر کم ہوتی قیمتوں کا فائدہ نہیں پہنچا اور ماہرین کے خیال میں حکومت اب بھی پیٹرول پر بہت زیادہ منافع لے رہی ہے، ہماری سرکار کی یہ ’’خوبی‘‘ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوتے ہی یہاں اس کے نرخ اس طرح بڑھا دیئے جاتے ہیں جیسے گھنٹوں قبل ہی خریداری کی ہو اور کمی ہوجائے تو ریلیف کا تصور ہی بدل جاتا ہے اور اب تو یہ خواب سا بن گیا ہے کہ کوئی ایسا ریلیف ملے جو سبسڈی مافیاکو ملنے کے بجائے عوام تک پہنچ سکے۔


معاشی ماہرین آنے والے وقت پر عوام کو خبردار کررہے ہیں کہ وہ اس امر کا احساس کریں کہ ایک کڑا وقت دوبارہ ملک پر آنے والا ہے او ر اس کا نزلہ صرف غریب عوام پر ہی گرے گا۔ تیل کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ہی مہنگائی کا ایک طوفان از خود برپا ہوجاتا ہے۔ جس قسم کی معاشی پالیسیاں اس وقت لائی جا رہی ہیں اس میں آئی ایم ایف اور بالخصوص سعودی عرب سے قرض نے بڑی بے چینی پیدا کی ہوئی ہے، متعلقہ ادارے تو بحران کا سارا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر منتقل کردیتے ہیں لیکن دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ اس کے اثرات سے کوئی بھی طبقہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ رہا۔ آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدی جارہی ہے، بتایا جاتا ہے کہ بجلی کی پیدوار کم ہو یا زیادہ، اس کے مقرر کردہ ریٹ کی وجہ سے گھریلو، تجارتی اور کمرشل صارفین متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔دوسری جانب زرعی شعبے پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے، حکومت کو بخوبی علم ہے کہ ٹیوب ویل بجلی سے چلتے ہیں، اضافی بوجھ پڑنے سے لامحالہ زرعی شعبے سے منسلک افراد سبزیاں اور دیگر اجناس مہنگے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں اور مختلف ہاتھو ں سے ہوتی ہوئی یہ اجناس جب عام لوگوں تک پہنچتی ہیں تو ان کے نرخ یکدم آسمانوں سے بات کرنے لگتے ہیں، جب تک حکومت بادی ٔ النظر کوئی اقدامات کرتی ہے تو اربوں کھربوں روپیہ کا ٹیکہ عوام کو لگ چکا ہوتا ہے، جو مافیاکی جیبوں سے کس طرح نکالیں جائیں اس کا کوئی موثر حل بھی سامنے نہیں۔


مہنگائی کے اس سونامی میں منی بجٹ کی آمدآمد ہے اور ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق12جنوری سے قبل اس کو پارلیمنٹ میں منظور کروانا بھی ضروری ہے۔ منی بجٹ کے خدوخال بھی سامنے آچکے ہیں اور حزب اختلاف ان خدشات کا اظہار کررہی ہے کہ منی بجٹ سے مہنگائی کا بھیانک بدترین سیلاب آنے والا ہے۔ حکومت موجودہ معاشی حالات کا ذمہ دار سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کو قرار دینے میں مصر ہے کہ اگر ان کی ترجیحات درست سمت پر ہوتیں تو آج مملکت کو اس قسم کی گھمبیر صورت حال کا سامنا نہ ہوتا۔ حکومتی موقف اپنی جگہ لیکن عوام یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ آخر کب تک سود کی ادائیگی کے لئے بھی حکومت کو بیرونی قرضوں پر انحصار کی پالیسی اپنا نا ہوگی۔ سعودی عرب جیسے دوست ملک کی جانب سے جن شرائط پر اس بار قرضے دیئے گئے ہیں وہ ملکی معیشت کو وقتی سہارا تو شاید دے دیں لیکن ان کی شرائط سے سمجھنا ہوگا کہ آئی ایم ایف، سعودی عرب اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے اتنی سخت شرائط ملکی تاریخ میں پہلی بار کیوں لگائی جا رہی ہیں؟۔


بلدیاتی انتخابات قریب آرہے ہیں اور قریباََ تمام سیاسی جماعتوں کی توجہ ممکنہ انتخابات پر مبذول ہو چکی، آنے والے مہینے عوام کے لئے سخت امتحان ثابت ہوں گے کہ ایک جانب معاشی صورت حال گھمبیر و گنجلگ ہے تو دوسری جانب بلدیات کے بعد قومی و صوبائی انتخابات کا دور بھی قریب پہنچ چکا ہوگا۔ انہیں ایسے وقت میں ریلیف کی توقع ہوتی ہے اور کوئی بھی برسر ِ اقتدار جماعت بھی کبھی نہیں چاہے گی کہ ان پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے، لیکن سوال پھر سامنے آکھڑا ہوتا ہے کہ کیا ملکی معیشت تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات کا بوجھ بھی ان حالات میں اٹھاسکے گی کہ 60فیصد حکومتی اخراجات کے لئے بیرون قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور کڑی سے کڑی شرائط کو طوعاََ و کرہاََ قبول بھی کرنا پڑتا ہے۔ آنے والے دور میں حکومت جس کی بھی ہو، لیکن معیشت کی جو درگت اِس وقت بنی ہوئی ہے اُسے درست کرنے میں دانتوں تلے پسینہ اور عوام کی کمر ٹوٹ جانی ہے۔


وزیراعظم حکومتی اداروں کو اپنے انتظامی اخراجات کو کم کرنے کی کئی بار ہدایات دے چکے، حال ہی میں غیر ملکی دوروں میں کمی کرنے پر احکامات جاری کئے گئے، لیکن پھر وہی ایک سوال کہ کیا اداروں نے اپنے اخراجات حقیقی معنوں میں اتنے کم کرلئے ہیں کہ ملکی معیشت کو سہارا مل سکے اور اداروں کا بوجھ صارفین پر منتقل نہ ہو۔ ایسے کئی سوالات ہیں جن کا جواب عوام کے نزدیک اور، حزب اختلاف کے لئے کچھ اور اور حزب اقتدار کے لئے دوسرا ہے۔ حکومت کو معاشی سمت کی بحالی کے لئے عام صارفین پر بوجھ منتقل کرنے کے بجائے اشرافیہ سے ٹیکس کی وصولی پر توجہ مبذول کرنی چاہیے، لاکھوں ایسے لوگ ہیں جو ٹیکس دائرے میں نہیں اور قانونی پیچیدگیوں کا فائدہ اٹھا کر حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرتے، برآمدات، درآمدات، احتساب اور منی لانڈرنگ پر حکومتی اقدامات کے نتائج حوصلہ افزا اور دور رس نہیں کیونکہ پاکستان اپنی بساط کے مطابق جتنا کرسکتا ہے وہ اتنا ہی کرے گا، سب سے اہم معاملہ ٹیکس نادہندگان سے رقوم کی وصولی ہے۔ عوام تو چھوٹی سی چھوٹی اشیا ضروریہ کے لئے ٹیکس ادا کردیتے ہیں لیکن لاکھوں پُرتعیش محلات میں رہنے والے کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس کا اندازہ خود اراکین اسمبلی کے ٹیکس گوشواروں سے لگایا جا سکتا ہے۔ جب کروڑوں روپے خرچ کرکے الیکشن میں جیتنے کے بعد ’’عوامی نمائندے‘‘ ایوانوں میں پہنچ سکتے ہیں تو ان کی جیب میں ٹیکس دینے کے لئے رقم کیوں نہیں ہوتی، اس سوال کو بھی کئی بار پوچھا جاچکا ہے لیکن جواب ندارد۔


شیئر کریں: