Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مختصر سی جھلک -انفردیت سے اجتماعیت کا سفر-فریدہ سلطانہ فَری

شیئر کریں:

پہلا حصہ

 عقل اورشعور ہمیشہ سےانسان کواچھائی اوربرائی میں تمیزاورفرق سکھاتی ہےاوراسی بنا پرانسان دوسرے مخلوقات سےا فضل اوراعلی بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اوراسی کی مدد سے ایک باشعورمعاشرہ کی بنیاد بھی رکھی جاسکتی ہے۔ یہ بات بھی طے ہے کہ معاشرہ انسانوں کے اپس میں مل جل کر رہنے،برداشت کرنے اورایک دوسرے کےدکھ درد و معاملا ت زندگی  میں شریک ہونے کا نام ہے۔ جہاں انسان نہ ہو یا انسان نما رویوں کا فقدان ہو تو اس جگہ کو جنگل و بیاباں ہی قراردیا جا سکتا ہے اورپھر وہاں کا طبعی ماحول کتنا ہی خوشگوار کیوں نہ ہو وہ معاشرہ نہیں کہلاتا اورنہ ہی اس میں بسنے والوں کو انسان کہا جا سکتا ہے۔

دانش ورلوگوں کا قول ہے کہ ایک کامیاب و پرامن معاشرہ کی تعمیر و ترقی کے لئے وہاں کے بسنے والوں میں بہت سے مثبت عوامل کے ساتھ ساتھ  محبت، رواداری، ہمدردی، صبرو تحمل برداشت اورایک دوسرے کی عزت واحترام جیسے عناصر کا ہونا بے حد لازمی ہےاور یہ بات بھی  قابل غور ہے کہ کسی بھی پرامن معا شرے کی تشکیل ہمیشہ گھرسے ہی شروع ہوتی ہے کیونکہ انفرادیت  اخر میں اپنی حقیقی شکل میں اجتعماعیت کو ہی جنم دیتی ہے اور گھر کا ماحول ایک چھوٹا معاشرہ خیال کیا جاتا ہےاوراس اندرونی ماحول یعنی چھوٹے معاشرے سے ہرانسان خصوصا ہر بچہ بڑے معاشرے یعنی خارجی ماحول کی طرف سفر کرتا ہے اب اس سفر کے دوران ہرانسان  خصوصا بچہ اپنے اندرونی ماحول سے جوکچھ سیکھ چکا ہوتا ہے وہی لیکر بیرونی ماحول کے میدان میں اترتا ہے اوراسکا سب سے پہلاحدف ارد گرد کا ماحول اور انسانی رویہ و شخصیت  ہوتا ہے جو ایک سے دوسرے میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یوں انفرادیت اپنے ساتھ جوڑے تمام پہلووں سمیت اجتماعیت میں بدل جاتی ہے۔

اگرہرایک صحت مند اور مثبت سوچ لیکرمیدان میں اترنے لگے تواس معاشرے سے ہر طرح کی بیماری جیسے ،رشوت ،بے ایمانی ،دھوکا، جھوٹ، قتل وغارت ،عورتوں اور بچوں کے ساتھ جنسی تشدد والدین کےساتھ بد سلوکی ،مذہب کے نام پر قتل و غارت وغیرہ کا خاتمہ ہو نے لگے گا تب انفرادیت سے اجتماعیت کا سفر بھی سود مند ثابت ہوگا اوریوں ہر فرد معاشرے کی تعمیرو ترقی میں اپنےحصے کا کردارمثبت طریقے سے ادا کرنے میں کامیاب ہوگا۔جب ہم بات کردارکی کرتے ہیں تو اس میں سب کا کردار اپنی جگہ  اہم  ہے مگروالدین اوراساتذہ  کا کردار فرد سے لیکرمعا شرے کی تعلیم و تربیت میں ریڑھ کے ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔والدین اوراسا تذہ ہی وہ افراد ہیں جن کے ہاتھوں میں نسلیں پروان چڑھتی ہیں اورانہی نسلوں کی انفرادی تربیت اگرمثبت طریقے سے مثبت ہاتھوں میں ہونے لگے توانفرادیت سے اجتماعیت کا سفر ہر لحاظ سے سود مند اور کارامد ثابت ہوجائے گا۔

 انفرادی و اجتماعی و دونوں قسم کے تربیت کے لئے مذہب ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی منزل پر پہنچ سکتے ہیں کیونکہ اسلام میں فرد واحد کی بھی وہی اہمیت ہے جو اجتماعیت کی ہے  ۔۔۔۔۔۔۔جاری


شیئر کریں: