Chitral Times

Aug 13, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے دو ہیرے جو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ہدایت اللہ

شیئر کریں:

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال میں کم وسائل والے ٹیلنٹٹ طلبا وطالبات کے اعلیٰ تعلیم کیلئے کوشان ادارہ روز کے چیئرمین ہدایت اللہ نے کہا ہے کہ دور جدید میں مسلمانوں کی علمی میدان میں پسماندگی کی ایک وجہ علماء و مشائخ کی جدید علم کی مخالفت خیال کیا جاتا ہے ۔ جو کہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ آج کے طلسماتی دور میں صرف سائنس کے ساتھ دینی تعلیم کی اہمیت کو دوراندیش لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ ایسے دوراندیش حضرات میں چترال کے دو ہستیوں خطیب شاہی جامعہ مسجد چترال مولانا خلیق الزمان اور مولانا خلیل الرحمن پیش امام عمار بن یاسر مسجد اسلام آباد کا نام قابل ذکر ہے۔ جو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ اور اسی میدان میں کام بھی کر رہے ہیں ۔


چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ دونوں حضرات گذشتہ کئی سالوں سے ROSE – Chitral کے وسالت سے چترال کے قابل اور ہو نہار بچوں کی معاونت کرر ہے ہیں۔ ان کا کردار معاشرے کے دوسرے صاحب ثروت لوگوں کیلئے مثال ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ چترال کے صاحب استطاعت افراد اس نیک کام میں ان علماء کی تقلید کرتے ہوئے چترال میں جدید تعلیم کو عام کرنے کیلئے ROSE – Chitral کی معاونت کرینگے۔


شیئر کریں: