Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اومی کرون کا پہلا کیس:ابھی نمونے کے اومی کرون ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ۔این آئی ایچ

شیئر کریں:

کراچی(سی ایم لنکس)این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ کراچی میں سامنے آنیو الے مشتبہ اومی کرون کیس میں ابھی تک مکمل جینوم کی ترتیب کے ذریعے نمونے کی اومی کرون ویرینٹ ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہینیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھَ نے کراچی میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومی کرون کی مشتبہ کیس کی وضاحت کر دی۔این آئی ایچ کے مطابق ابھی تک مکمل جینوم کی ترتیب کے ذریعے نمونے کی اومی کرون ویرینٹ ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ عالمی حالات کی روشنی میں عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جلد از جلد ویکسین لگوائیں۔دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی کے نجی اسپتال نے خاتون میں اومی کرون کی تصدیق کی ہے۔ محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ خاتون میں اومی کرون کی تصدیق 8دسمبر کو ہوئی۔ اومی کرون سے متاثرہ خاتون اپنے گھرمیں آئیسولیٹ ہیں۔خاتون میں اومی کرون ویرینٹ کی بظاہر کوئی علامت نہیں۔ خاتون ویکسینیٹڈ نہیں اورنہ ہی کوئی ٹریول ہسٹری ہے۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنرضلع شرقی کو مائیکرواسمارٹ لاک ڈاؤن کی سفارش کی ہے۔

ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 350 کیس،10 اموات رپورٹ ہوئیں، نیشنل کمانڈ اینڈآپریشن سینٹر


اسلام آباد(چترال ٹائمز رپورٹ )گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث کے خیبرپختونخوا کے بعد پنجاب میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 10 اموات ہوئیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 350 افراد کے کووڈ۔ 19 ٹیسٹ مثبت آئے۔ملک کے 4 بڑے شہروں میں وینٹیلیٹرز پر کووڈ۔ 19 کے مریضوں کے تناسب کے لحاظ سے پشاور میں 19 فیصد،اسلام آباد میں 10 فیصد،سرگودھا میں 10 فیصد اور لاہور میں 9 فیصد مریض ہیں۔اسی طرح سے ملک کے چار بڑے شہروں میں آکسیجن کی سہولیات والے بستروں پر کورونا کے مثبت کیسز کے تناسب کے لحاظ سے ملتان میں 24 فیصد،اسلام آباد میں 13 فیصد،سرگودہا میں 15 فیصد اور بنوں میں 15 فیصد مریض ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ۔19 کے 46 ہزار 697 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے سندھ میں 10 ہزار 942،پنجاب میں 18 ہزار 91، خیبرپختونخوا میں 11 ہزار 25،اسلام آباد میں 5 ہزار 508، بلوچستان میں 583،گلگت بلتستان میں 285 ٹیسٹ، آزاد کشمیر میں 263 ٹیسٹ شامل ہیں۔ اب تک ملک بھر میں کووڈ۔19 سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 12 لاکھ 49 ہزار 421 ہو چکی ہے۔بلوچستان،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کووڈ۔19 کا کوئی بھی مریض اس وقت وینٹیلیٹر پر نہیں ہے جبکہ ملک بھر میں کووڈ۔19 کے لیے مختص وینٹیلیٹرز پر 87 مریض ہیں۔ ملک بھر میں کووڈ۔19 کے ایکٹو کیسز کی تعداد 9 ہزار 829 ہے۔ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 12 لاکھ 88 ہزار 53 ہے جن میں سے آزاد کشمیر میں 34 ہزار 595، بلوچستان میں 33 ہزار 519، گلگت بلتستان میں 10 ہزار 422،اسلام آباد میں 1 لاکھ 8 ہزار 22، خیبر پختونخوا میں 1 لاکھ 8 ہزار 514،پنجاب میں 4 لاکھ 43 ہزار 682 اور سندھ میں 4 لاکھ 77 ہزار 299 مریض ہیں۔ملک بھر میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 28 ہزار 803 ہو چکی ہے۔جن میں سے سندھ میں 7 ہزار 630 اموات، پنجاب میں 13 ہزار 46 اموات جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 2 مریض ہسپتالوں میں اس وائرس سے جاں بحق ہوئے،خیبر پختونخوا میں 5 ہزار 874 اموات جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 6 مریض ہسپتالوں میں اس وائرس سے جاں بحق ہوئے،اسلام آباد میں کل 962 اموات جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک مریض ہسپتال میں اس وائرس سے جاں بحق ہوا،بلوچستان میں کل 362 اموات،گلگت بلتستان میں 186 اموات، آزاد کشمیر میں اس وائرس سے 743 اموات ہو چکی ہیں جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک مریض ہسپتال میں اس وائرس سے جاں بحق ہوا۔اب تک ملک بھر میں کووڈ۔19 کے 2 کروڑ 23 لاکھ 85 ہزار 347 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ملک بھر میں کووڈ۔19 کے علاج کیلئے مختص 640 ہسپتالوں میں 809 مریض زیر علاج ہیں۔

آرڈیننس جاری کرنا تو جمہوری طریقہ کار ہی نہیں ہے، سپریم کورٹ


اسلام آباد( چترال ٹائمز رپورٹ )سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ آرڈیننس تو جمہوری طریقہ کار ہی نہیں ہے۔سپریم کورٹ میں سیکڈ ایمپلائز ایکٹ نظر ثانی کیس پر سماعت ہوئی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بہت لوگ نکالے گئے لیکن ایکٹ صرف خاص گروپ کو ریلیف دینے کیلئے کیوں بنایاگیا؟، قانون سازوں کے ذہن تو نہیں پڑھ سکتے تاہم پیش کی گئی دستاویزات بھی خاموش ہیں، تقرریاں درست ہوں یا غلط کیا دس بارہ سال ملازمت کا کوئی فائدہ دیا جا سکتا ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فیصلے سے دس بارہ سال ملازمت سے حاصل ہونے والے فائدے کو بھی روک دیا گیا۔ وکیل حامد خان نے دلائل دیے کہ 19 سال کی عمر میں بھرتی ہونے والا بھی آج 40 سال کا ہوچکا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں کا اسٹیٹس بھی دیکھنا ہے، آ رڈیننس تو ختم ہو جاتا ہے کیا اس کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین رہ سکتے ہیں؟جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آ رڈیننس تو جمہوری طریقہ کار ہی نہیں ہے، پھر تو ہر حکومت آرڈیننس لائے بھرتیاں کرے، ایسے تو سارے کام آرڈیننسز سے ہی چلتے رہیں گے، جمہوری نظام حکومت میں تو پارلیمنٹ سپریم ہوتی ہے۔وکیل رضا ربانی نے موقف اختیار کیا کہ موجودہ دور حکومت میں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے، عدالت کو ایکٹ کی اہمیت کیلئے مختلف دستاویزات دکھاؤں گا، ایکٹ کا کوئی بھی سیکشن بنیاد حقوق یا آئین کے خلاف نہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ نظر ثانی کیس کا جائزہ لیتے ہوئے کیس کے نتیجہ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، اٹارنی جنرل عدالتی سوالات پر دلائل دیں، کتنے ملازمین حکومتی اداروں اور کتنے خود مختار اداروں سے ہیں، کس ادارے نے ملازمین کی تقرری کیلئے کیا طریقہ کار اپنایا، عدالتی فیصلوں کے باوجود کیا ملازمین کو یوں بحال کیا جا سکتا تھا، کیا دوبارہ بحالی کے عمل میں ملازمین میں تفریق ہو سکتی ہے، پہلے حکومت نے مخالفت کی اور اب حمایت کی کیا وجہ ہے۔عدالت نے مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی۔


شیئر کریں: