Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

”ہجوم” نہیں ”قانون” مولانا خلیق الزمان کا کارنامہ – نوید مسعود ہاشمی

شیئر کریں:

”ہجوم” نہیں ”قانون” مولانا خلیق الزمان کا کارنامہ – نوید مسعود ہاشمی

سیالکوٹ کی فیکٹری میں سری لنکن شہری کی… ورکرز کے ہاتھوں جان بچانے کی کوشش کرنے والے …عدنان ملک کو وزیراعظم نے تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا، جبکہ پنجاب حکومت اسے ”انسانی حقوق” کا ایورڈ دے گی…۔میرے نزدیک حکومت کا یہ ایک اچھا عمل ہے، ہمیں ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے…. کہ جو ”ہجوم” کے تشدد سے انسانوں کو بچانے کی کوشش میں اپنی جان بھی دائو پہ لگا دیتے ہیں، عدنان ملک نے تو سری لنکن شہری کو بچانے… کی کوشش کی …مگر وہ بپھرے ہوئے ”ہجوم” کے ہاتھوں پریانتھا کو بچا نہ سکا (بہرحال ان کی کوشش بھی لائق تحسین ہے) لیکن اس کے باوجود وزیراعظم نے تمغہ شجاعت اور پنجاب حکومت نے اسے انسانی حقوق کا ایوارڈ دینے کا اعلان کیا… جبکہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا…. سب نے اسے قومی ہیرو کے طور پر متعارف کروایا… جس پر میرے سمیت کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) یا پیپلزپارٹی کی حکومت میں یہ واقعہ اسی طرح پیش آتا تو پھر عدنان ملک جیسوں کو کون پوچھتا؟


مثال پیش خدمت ہے، یہ سال 2017ء کی بات ہے… چترال کی شاہی مسجد میں ہزاروں چترالی مسلمان… جمعہ کی ادائیگی کے لئے جمع ہیں۔… خطیب مسجد مولانا خلیق الزمان خطبہ جمعہ دے رہے ہیں… کہ اسی دوران ایک شخص کھڑا ہو کر باآواز بلند اپنی ”نبوت” کا اعلان کرتا ہے… (نعوذ باللہ) اس کا یہ اعلان سن کر ہزاروں مسلمانوں پر چند سیکنڈ کے لئے سکتہ طاری ہو جاتا ہے… اور پھر سینکڑوں لوگ انتہائی اشتعال کے عالم میں جھوٹی نبوت کے دعویدار بدبخت کو مارنے کے لئے… اس کی طرف بڑھتے ہیں، شاہی مسجد کے خطیب مولانا خلیق الزمان مشتعل لوگوں کو سمجھاتے ہیں… کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں مت لیں، اس ملعون کو کوئی ”ہجوم” مت مارے… بلکہ ہم اسے قانون کے حوالے کرکے عدالت کے ذریعے قرار واقعی سزا دلوائیں گے، جھوٹی نبوت کے دعویدار اس ازلی بدبخت کو مولانا خلیق الزمان سخت جدوجہد کے بعد۔۔۔ زندہ سلامت پولیس کے حوالے کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ عین جمعہ کے دوران مسجد میں ہزاروں لوگوں کے سامنے اپنی نبوت کا۔۔۔ اعلان کرنے والے ملعون کو پولیس کے حوالے کرنا مولانا خلیق الزمان کو اتنا مہنگا پڑا ۔۔۔کہ مشتعل لوگوں نے نہ صرف یہ کہ ان کی قیمتی گاڑی کو جلا ڈالا۔۔۔۔بلکہ چترال شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے، جلائو گھیرائو شروع ہوگیا، ایک ”گستاخ” کو قانون کے حوالے کرنے کے جرم میں مولانا خلیق الزمان کی زندگی دائو پر لگ گئی۔ ”مولانا” کو کئی روز تک ایک کمرے میں روپوش رہنا پڑا، مولانا خلیق الزمان کے پیچھے سالہا سال سے نمازیں پڑھنے والے، ان کے پیچھے جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھنے والے، ان کے علم، فہم و فراست اور دین سے محبت کے عینی شاہدین بھی۔۔۔ اس بات پہ سیخ پا ہوئے کہ آخر ”مولانا” نے ایک گستاخ ملعون کی زندگی ”ہجوم” کے ہاتھوں بچا کر اسے قانون کے حوالے کیونکر کیا؟

chitraltimes shahi khateeb chitral vehicle caught fire


لیکن مولانا خلیق الزمان نے اپنی زندگی کو خطرات سے دوچار کرکے بھی۔۔۔ عوام کو سمجھایا۔۔۔ کہ کسی بھی مجرم کو سزا دینا، کسی گروہ، ہجوم یا عوام کا کام نہیں، ہاں عدالت اور قانون اسے سزا ضرور دے سکتا ہے، بالآخر ”مولانا” کی مدعیت میں اس گستاخ ملعون کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی، مولانا نے تن تنہا ملعون کے خلاف مقدمہ لڑا اور گستاخ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے عمر قید کی سزا دلوائی۔۔


مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال کہ جنہیں… مولانا فضل الرحمن کے سیالکوٹ کے واقعہ کے حوالے سے دئیے جانے والے بیان کی اصلاح کی تو فکر ہے، سے میرا سوال یہ ہے کہ سال 2017ء میں…. چترال کی شاہی مسجد میں ملعون گستاخ کو ”ہجوم” سے بچا کر ”قانون” کے حوالے کرنے کے…. جرم میں جب مولانا خلیق الزمان کی زندگی خطرات سے دوچار ہوئی، تب وہ اور ان کی حکومت کہاں تھی؟ فواد چوہدری اگر حکومت میں نہیں تھے، مگر زندہ تو تھے…. انہوں نے چترال کی شاہی مسجد کے خطیب کے اس کارنامے کے حق میں…. اگر کہیں بیان دیا ہو تو سامنے لایا جائے؟


ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، یورپی یونین سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کے وہ ادارے کہ… قانون توہین رسالت جن کے نشانے پر رہتا ہے، وہ سب کدھر تھے؟ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے آپ کو مشکلات کی… آگ میں ڈال کر قانون کی عملداری کی اعلیٰ مثال قائم کرنے والے…. مولانا خلیق الزمان کو… تمغہ شجاعت یا انسانی حقوق ایوارڈ دینے کا اعلان کیوں نہ کیا؟ اگر ن لیگی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اپنے ہی وطن کے دورے پر آنے والی ملالہ یوسف زئی ….. کے شاہانہ پروٹوکول اور استقبال کے لئے قومی خزانہ لٹا سکتے ہیں…. تو پھر چترال کی شاہی مسجد کے خطیب کے بے مثال کارنامے کی ….حوصلہ افزائی کرنے میں کیا رکاوٹیں حائل تھیں؟ ملکی قیادت میں صرف تنہا مولانا فضل الرحمن تھے کہ جنہوں نے خود…. چترال فون کرکے مولانا خلیق الزمان کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی…. بلکہ انہیں ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا تھا,


لیکن مسلم لیگ (ن) کی پوری وفاقی حکومت، خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت، فواد چوہدری اینڈ کمپنی، یورپی یونین، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سمیت، انسانی حقوق کے تمام بین الاقوامی اداروں پر اس اہم موقع پر سکوت مرگ طاری رہا۔…

تقریباً بائیس، پچیس سال قبل اس خاکسار کو چترال کی شاہی مسجد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کا موقع ملا، تو تب مولانا خلیق الزمان سے طویل ملاقات ہوئی، لیکن اس کے بعد تادم تحریر ہماری دوسری ملاقات نہیں ہوئی، مگر سیالکوٹ کے پرتشدد واقعہ کے بعد جو شرپسند عناصر اس کی ذمہ داری قانون توہین رسالت، یا مذہب پسندوں پر ڈالنے کی کوششیں کر رہے ہیں، میں نے ضروری سمجھا کہ ان کے اس بھونڈے پروپیگنڈے کا جواب دلیل سے دیا جائے، مولانا خلیق الزمان آج بھی حیات ہیں۔… ”الحمدللہ، ہے کوئی اینکر، اینکرنی، کالم نگار، تجزیہ نگار یا حکومتی وزیر کہ…. جو ہمت کرکے انہیں چترال سے بلوائے… اور ہجوم کے ہاتھوں گستاخ کو بچا کر قانون کے حوالے کرنے کے کارنامے پر ان کی… حوصلہ افزائی کرکے… دنیا کو بتائے کہ کراچی سے لے کر چترال تک کے علماء اور مذہب پسند، محبت رسولۖ میں فدا ہونا عین عبادت سمجھتے ہیں…. اور ہر گستاخ کو قانون کے ذریعے سخت سے سخت سزا دلوانے کے متمنی ہیں، اگر کسی کو یقین نہ آئے تو وہ چترال کی شاہی مسجد کے خطیب کو دیکھ لے؟

اگر تحریک انصاف میں ”ن لیگی” مائیڈ سیٹ نہ ہو تو عدنان ملک کے…. بعد ایک تمغہ شجاعت مولانا خلیق الزمان کے نام بھی ہونا چاہیے، فواد چوہدری سے تو کوئی امید نہیں ہے، حافظ طاہر محمود اشرفی وزیراعظم کی توجہ اس طرف مبذول کروائیں، تو ممکن ہے کہ ایک اور تمغہ شجاعت اس کے صحیح حقدار تک پہنچ جائے۔


شیئر کریں: