Chitral Times

Jan 24, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود-تقلیدی رجحان اور ہمارا معاشرہ۔ شہزادی کوثر

شیئر کریں:

آج کل بہت سی چیزیں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی تیزی سے اپنائی جا رہی ہیں جن میں کسی دوسرے کا انداز،طرز زندگی ،فیشن نشست وبرخاست  وغیرہ شامل ہیں ۔اچھی عادات ،قابل تقلید اعمال انسانیت کی بھلائی کے کاموں کو اپنانا قابل تعریف ہے،لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ غیر ضروری کاموں میں ایک دوسرے کی نقل کرنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ  ان باتوں کا اثر ہمارے ماحول اور معاشرے پر کیا پڑے گا ۔۔ کیا ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اقدار اس کی اجازت دیتے ہیں ؟ کیا ہماری  روایات ان باتوں کی متحمل ہو سکتی ہیں ؟ ہمارا مذہب ان کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ یہ سوالات ہمیں خود سے اس وقت کرنے کی ضرورت ہے جب ہم اندھوں کی طرح دوسروں کے پیچھے چلنے کے خواہشمند ہوں

ہر ملک ،قوم معاشرہ اور علاقہ اپنی انفرادیت رکھتا ہے ہمارے رسوم ورواج، شادی بیاہ ،تہوار ،خوشی اور غم مل کر انہیں منفرد بناتے ہیں ۔ صدیوں سے ان کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے کئی نسلیں گزری ہیں اور آج ہم اس تہذیب و ثقافت کے امین بن گئے ہیں تو اپنی زندگی اس ثقافت کے سانچے میں ڈھال کر ہی ہم اپنی شناخت برقرار رکھ پائیںگے لیکن گزرتے وقت کے ساتھ بہت سے نئے طور طریقے اپنائے جا رہے ہیں جو نہ صرف ہمارے علاقے کے لئے پریشان کُن ہیں بلکہ ہماری ثقافت کے ساتھ بھی ان کا کوئی جوڑ نہیں ۔

شادی بیاہ میں بہت سی نئی اور واہیات رسمیں جو پچھلے چند سالوں سے اپنائی جا رہی ہیں ،اسلام میں نکاح سب سے ضروری اور اہم رسم ہے لیکن مسلمانوں نے دوسروں کی تقلید میں منگنی، مہندی ،مایوں اورڈھولکی اور برائدل شاور جیسی فضول رسموں کو اپناتے ہوئے نہ صرف اسلامی رسموں کو گہنا دیا ہے بلکہ دوسرے سفید پوش طبقے کی پریشانیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے جو سوائے معاشی پریشانی اور والدین کو ذہنی کوفت میں مبتلا کرنے کے اور کچھ نہیں۔ ایسی چیزوں کے ذریعے والدین پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے اور دوسری طرف غریب اور تنگ دست ماں باپ کی بچیاں احساس محرومی میں مبتلا ہو جاتی ہیں ، معاشرتی تفریق اور اونچ نیچ کا تصور انہی چیزوں سے اجاگر ہورہا ہے۔ہمارے دین نے ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی بھلائی رکھی ہے ۔

نکاح کے ذریعے نوع  انسانی کو گناہوں کی طرف جانے سے روکا گیا ہے تا کہ معاشرے کی بنیاد ہی سنت رسولﷺ پر عمل پیرا ہو کر اعلیٰ اخلاق و کردار کے حامل افراد سے رکھی جائے اس میں دکھاوا کرنے اور دوسروں کو ان کی تنگدستی کا احساس دلانے کی اوچھی حرکت شریف انسان کو زیب نہیں دیتا ۔نسل انسانی کی پیدائش اور پرورش عورت کے لئے شرف کی بات ہے ،ازل سے اب تک عورت اس مرحلے سے گزرتی رہی ہے اس کے بارے میں دوسروں کو تب ہی معلوم ہوتا تھا جب گھر میں بچے کی آواز اپنی آمد کا اعلان کرتی تھی ،لیکن اب جذبہ امومت کا بھی سستی مصنوعات کے اشتہار کی طرح پروپگنڈہ کیا جا تا ہے جس کا آغاز گود بھرائی جیسی واہیات رسم سے کیا جاتا ہے اور اس تقریب کی تصویریں بنا کر پوری دنیا کو آگاہ کرنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

ماں کا کیا رتبہ اور مقام ہوتا ہے اس کی حیثیت بھی دکھاوے سے بڑھ کر کچھ نہیں رہی ۔ اب تو موت کو بھی مذاق بنانے کی ریت  چل نکلی ہے۔موت کی خبر سب سے پہلے سوشل میڈیا پر نشر کرنے اور میت کی تصویر اپلوڈ کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش ہوتی ہے۔ گویا نیوز چینل ایک دوسرے سے بازی جیتنے کی دوڑ میں شریک ہیں ۔ میت کی عزت اور احترام کرنا مسلمان اور انسان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم ہے مگر اب تو یہ حال ہے کہ ایک طرف کسی نے اپنی آخری سانسیں لیں تو دوسری طرف اس کی تصویریں انٹرنیٹ کی زینت بن گئیں ،اور اس میں عورت و مرد کی بھی تخصیص نہیں رکھی جارہی۔ اور ہر کوئی اپنے سٹیٹس پر اس کی تصویر لگاتا ہے چاہے مرحوم/ مرحومہ سے اس کی کوئی رشتہ داری تھی یا نہیں ۔ ایسا کرتے ہوئےکیا ہم  مرحوم / مرحومہ کو خراج تحسین پیش کر رہے  ہیں یا اس کی توہین کررہے ہیں۔ اس وقت انہیں دعاوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ ان کی تصویر کو پوری دنیا کے سامنے اشکار کر نے کی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی بیوقوفی کی وجہ سے کسی کی روح کو اذیت دینے کی وجہ  بن جائیں  ۔                                                  


شیئر کریں: