Chitral Times

Jan 19, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسلام میں اقلیتوں کے حقوق اور سانحہ سیالکوٹ۔ تحریر:اشتیاق احمد

شیئر کریں:

حصہ دوم: اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق
اسلام ایک ایسا دین ہے جو کسی بھی مذہب کو بری نگاہ سے نہیں دیکھتا، بلکہ تمام آسمانی مذاہب کی تصدیق کرتا اور ان کے پیروکاروں کو مکمل آزادی دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رہیں یہودیت اور عیسائیت کی طرح وہ اپنا دروازہ طالب ہدایت کے لیے بند نہیں کرتا بلکہ ہر وقت کھلا رکھتا ہے۔


مگر کسی بھی غیر مسلم کو جو مسلم حکومت کے زیر نگیں زندگی گزار رہا ہو، مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ اسلام قبول کرلے قرآن کریم میں واضح حکم ہے:دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔
سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’اپنے رب کے راستے کی طرف اچھی باتوں کے ذریعے بلائو اور بہت پسندیدہ طریقےسے بحث کرو‘‘۔
اسی کے ساتھ اس کی بھی تلقین ہے :مسلمانو! جو لوگ اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہیں ،انہیں برا نہ کہو، یہ لوگ نادانی سے خدا کو برا کہنے لگیں گے۔ (سورۃ الانعام)نیزفرمایا گیا:’’جس نے اس کے رسولﷺ کی ہدایت کے مطابق سیدھی راہ اختیار کی، وہ تو اپنے ہی لیے اختیار کرتا ہے اور جو بھٹکا ،وہ بھٹک کر اپنا ہی راستہ کھوٹا کرتا ہے‘‘۔سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد رب العزت ہے:جو شخص سیدھی راہ پر چلتا ہے وہ اپنے نفع کے لیے راہ پر چلتا ہے اور جو شخص بے راہی اختیار کرتاہے سو وہ بھی اپنے نقصان کے لیے بے راہ ہوتا ہے‘‘۔ ان آیتوں سے واضح ہوا کہ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ روگردانی کرنے والوں سے کوئی تعرض نہ کیا جائے، ان پر کوئی زور، جبر اور زبردستی نہ کی جائے۔


اس میں کچھ تردد شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ مسلمانوں نے اس حکم خداوندی کی پاس داری کی ہے، بلکہ ان احکام کے مطیع و فرماں بردار بن کر رہے اور ان کا پورا پورا حق ادا کیا۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدینؓ نے مختلف اقوام سے جو معاہدے کیے اور ان کے ساتھ جو صلح نامے کئے ،ان میں اسلام کی وسعت نظری کا اندازہ اور دریادلی کا ثبوت ملتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ غیر اقوام کے لوگوں نے بھی اس چیز کو تسلیم کیا ہے کہ اسلام کس طرح غیر مذاہب کے لوگوں کا ادب واحترام کرتا ہے، انہیں کس طرح سے مذہبی آزادی، معاشرتی و تجارتی آزادی کی چھوٹ دیتا ہے۔


اہل نجران کی درخواست پر نبی اکرم ﷺنے جو انہیں صلح نامہ لکھ کر دیا تھا، اس کے الفاظ یہ تھے۔’’نجران کے عیسائیوں اور ان کے ہمسایوں کے لئے پناہ اللہ کی اور محمد ﷺ کا عہد ہے ،ان کی جان، مذہب ، زمین، اموال، حاضر وغائب، قاصدوںاور ان کے مذہبی نشانات، سب کے لئے جس حالت پر وہ اب تک ہیں ،اسی پر بحال رہیں گے۔ ان کے حقوق میں سے کوئی حق اور نشانات میں سے کوئی نشان نہ بدلا جائے گا۔ (فتوح البلدان)


حضرت عمرفاروقؓ نے اہل بیت المقدس کو جو صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس کے الفاظ اس طرح ہیں:’’انہیں امان دی، ان کی جان ومال اور ان کے کنیسوں اور صلیبوں اور ان کے تندرستوں اور بیماروں کے لئے یہ امان ایلیا کی ساری ملت کے لیے ہے۔عہد کیاجاتا ہے کہ ان کے کنیسوں کو مسلمانوں کا مسکن نہ بنایا جائے گا اور نہ ہی انہیں منہدم کیا جائے گا۔ نہ ان کے احاطوں اور ان کی عمارتوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔ نہ ان کی صلیبوں اور ان کے اموال میں سے کسی چیز کو نقصان پہنچایا جائے گا ان پر دین کے معاملے میں کوئی جبر نہ کیا جائے گا اور نہ ان میں سے کسی کو ضرر پہنچایاجائے گا‘‘۔ (تاریخ طبری)


عصر حاضر میں جہاں سستی و کاہلی لوگوں کی فطرت ثانیہ بن کر ان کو اپنے مقصد زندگی سے دور کیے جا رہی ہے، وہاں ان کو ظاہر پرستی اور ظاہر بینی کی ایسی لت لگی ہوئی ہے کہ ہر چیز کو اسی ظاہر کی عینک سے دیکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جس سے بے شمار غلطیوں اور بے راہ رویوں کی راہیں پھوٹتی ہیں۔ اسی سبب عظیم نے لوگوں کے لئے کسی بھی مذہب کو سمجھنے کےلئے وہ راہیں فراہم کیں کہ لوگ کسی بھی مذہب کو سمجھنے کے لئے ان اصولوں اور بنیادوں کی طرف عود کرنے کے بجائے اس مذہب کے پیرووں کی طرف دیکھتے ہیں اور اسی کو مذہب سمجھنے لگتے ہیں، چاہے وہ پیرو کار اپنے مذہب سے کتنے ہی کورے اور جاہل کیوں نہ ہوں،اور ان کے مذہب کے درمیان بعد المشرقین ہی کیوں نہ ہو۔


بطور مثال آج کی دنیا میں عیسائیت کو سمجھنے کےلئے برائے نام عیسائیوں کی طرف دیکھنا قدرے مضحکہ خیز ہوگا، اس لئے کہ عیسائیت کی عمارت اس وقت زمین بوس ہوگئی تھی جس وقت اسے عملی دنیا سے بے دخل کر کے چند رسوم و رواج کی چار دیواری میں محصور کیا گیا تھا ،اور جس وقت وہ مادیت کے سامنے ہتھیار ڈال چکی تھی۔
کچھ یہی رویہ دوسرے مذاہب کے ساتھ ان کے نادان پیروکاروں نے برت رکھا ہے اور بدقسمتی سے اسی گھیرے میں اسلام {چند مستثنیات کے علاوہ }بھی آگیا۔اور اس بہتی گنگا میں اسلام کے ناداں پیروکوں نےبھی ہاتھ دھونے لگے۔حالانکہ وہ اسلام جس کے شارع نے فرمایا تھا


مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا{المائدۃ 32}
ترجمہ:جس نے کسی جان کو بغیر کسی شخص کے یا زمین کے اندر فساد پھیلاتے ہوئے قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو (قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا۔
اوررہبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس نے کسی ذمی(غیر مسلم) کو ناحق قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا{صحیح بخاری: 3166}


اب دنیا بھی چند خود کو مسلمان کہلانےوالوں کو اسلام سمجھنے لگی ہے۔ حالانکہ دین اسلام میں کوئی غلط بات اس دلیل سے صحیح نہیں ہو سکتی ہے کہ بڑے بڑے لوگ اس کے مرتکب ہوئے ہیں چہ جائے عوام کےیہ ایسی واضح بات ہے جس سے یگانے ہی نہیں بلکہ بیگانے بھی خوب واقف ہیں۔


بے شمار واقعات جو اسلام کے نام پر دنیا کے سامنے رونما ہوئے ہیں جن سے ناجائز فائدہ اٹھا کر موقع پرستوں اور ابن الوقتوں نے اسلام کی ایسی تصویر کشی کی ہے ، کہ رحمت والا دین دنیا کے سامنے زحمت نظر آنے لگا ہے ،اور محبت کا درس دینے والا دین نفرت کی آماجگاہ دکھائی دینے لگا ہے۔


حالانکہ جدید تحقیق کے متوالے دوسروں کا بخیہ ادھیڑنے میں تیز دست اور اپنے بارے میں بھولے اور نرم گیر بننے والےحضرات مستشرقین {جن کی تحقیق کی فلک بوس عمارت چند ایک بوسیدہ ہڈیوں پر کھڑی ہے} وہ بھی جان بوجھ کر زمینی حقائق اور اصول و قواعد سے اغماض برت کر اسلام کو بدنام کرنے کے لئے ایسی بودی چیزوں پر اپنی تحقیق کی داغ بیل ڈال دیتے ہیں جو خود ان کے ہاں کسی چیز کے ثبوت کے لئے ناکافی ہیں۔ ان کی مثال اس گندی مکھی جیسی ہے جو ہر وقت گندگی کی تلاش میں ہوتی ہے۔ یہ حضرات بھی اسلام کو قرآن وحدیث سے سمجھنے کے بجائے ان نادان پیرووں کو دیکھتے ہیں جن کا دین سے برائے نام نسبت رہ گئی ہے۔


مجھے احساس ہے کہ اسلام کے حوالے سے سے دل ناتواں اعتراضات کے مزید بوجھ سہارنے سے کمزور تو ضرور ہے مگر قلم کو جنبش نہ دینا شاید اس کو مزید بے بس اور عاجز کردے۔ اس لئے مجبور ہوکر کچھ حسرتیں سپرد قرطاس کر رہا ہوں۔
میری ذاتی رائے ہے کہ اس سانحے کے اسباب اور وجوہات دو طرح کے ہوسکتے ہیں ۔
یا اس سانحے کی آگ بھڑکی نہیں بلکہ بھڑ کائی گئی،اور جو لوگ شریک ہوئے ،وہ آئے نہیں بلکہ لائے گئے، اور درحقیقت فتنہ اٹھا نہیں اٹھایا گیا ہے اس کے پیچھے ان گندی مکھیوں {اسلام دشمن عناصر }کی قوت شامہ ہے جو کوسو ں دور خوشبو سے اعراض کرتی ہوئی بدبو پر ڈھیرا ڈال دیتی ہے۔اس طرح کی مثالیں دور نبوی سے دور حاضر تک بھری پڑی ہیں۔


اس طرح یہ سانحہ سیالکوٹ بھی آئے روز ز دشمنان اسلام کے قلم کی زینت بنتا رہے گا، وہ اس کو ہوا دیتے رہیں گے اور اسلام کے نام پر کیچڑ اچھالنے میں کو کسر باقی نہیں چھوڑیں گے۔مگر اسلام ان شاء اللہ ہمیش تابندہ رہے گا۔
افسوس سانحے میں اسلام کے نام پر اسلام کی دھجیاں اڑائی گئی، محمد الرسول اللہ کے نام پر ہدایت رسول کو پس پشت ڈال دیا گیا اور ایمانی جذبے کے نام سے شیطانی جذبے سے ایک معاہد ذمی کو ظلم کی آنکھ میں جھونک دیا گیا۔اس طرح کی حرکت کسی مسلمان سے بہت بعید ہے۔ اس لئے کہ رحمت دو جہاں نے فرمایا تھا کہ: فتنہ سو رہا ہے۔اس کے جگانے والے پر اللہ کی لعنت تو کون مسلمان ہوگا جو اللہ کی لعنت کو جان بوجھ کرلےلے۔


یا احمقوں کی جنت کے امید وار جاہل عوام نے جان بوجھ کر یہ کام کیا ہے۔میں پھر بھی ان جاہلوں کو قابل ملامت نہیں سمجھتا جو اس غریب آدمی کے قتل میں شریک ہوئے، اس لئے کہ ان کی تربیت ہی ایسی کی گئی کہ وہ یہ کام کرتے ہوئے اس کو دین کی خدمت سمجھ رہے تھے۔ وہ سارے ان پڑھ،جاہل اور دین سے کورے ہیں۔ میں درحقیقت قابل ملامت ان رہنماووں اور لیڈرز کوسمجھتا ہوں جو دین کو سمجھے بغیر خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر کمر کس کے میدان دین میں چھلانگ لگاتے ہیں۔ جن کے ہاتھوں دین کی رہنمائی کا زمام دینا بندر کے ہاتھوں کلہاڑی دینے کے مترادف ہے کہ کسی بھی وقت اپنا یا دوسرے کا نقصان کرسکتا ہے۔
ان جیسوں کی تصویر کشی کرتے ہوئے اقبال نے بہت خوب کہا تھا۔


شکایت ہے مجھے یارب خداوندان مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
حالیہ سانحہ سیالکوٹ بھی ان غلط کھینچی ہوئی تصاویر میں سے ایک ہے جس کا داغ اسلام کے دامن پہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے دامن پر ہے۔ جمال الدین افغانی نے کسی کے پوچنے پر بتایا تھا کہ مجھے دنیا میں مسلمان تو بہت نظر آئے مگر اسلام بہت کم ،اور دنیائے کفر میں اسلام تو بہت نظر آیا مگر مسلمان نہیں ۔


کیا خبر کتنے ہزاروں مائل اسلام لوگ اس وجہ سے اسلام سے بدظن ہوگئے ہوں گے، کتنے اسلام کی سرحد تک پہنچے ہوئے متلاشیاں حق مایوسی سے یہ کہتے ہوئے پسپا ہو گئے ہوں گے کہ جس دین میں انسانیت کے ساتھ یہ سلوک ہے اسی دن میرا کیا بنے گا۔


شیئر کریں: