Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

معاشرتی ترقی: معاشی ترقی کا لازمی جز- محمد اشفاق خان 

شیئر کریں:

اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے اواخر میں ملائیشیا کے سابق صدر اور مشہور انقلابی لیڈر جناب مہاتیر محمد پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ راقم ان دنوں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ماسٹرز کر رہا تھا۔

جناب مہاتیر محمد نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا بھی دورہ کیا۔ یونیورسٹی آڈیٹوریم میں ان کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران ان سے ایک سوال کیا گیا کہ کسی وقت میں ملیشیا بھی ایک ترقی پذیر ملک ہوا کرتا تھا لیکن جناب مہاتیر محمد  کی قیادت میں  ان کی سیاسی اور معاشی ٹیم   کی کوششوں کے نتیجے میں ملائیشیا براعظم ایشیا کی مضبوط ترین معیشت بنا اور ایشین ٹائیگر کہلایا، پاکستان کے اس وقت کے حالات کے تناظر  میں ان سے سوال کیا گیا کے پاکستان کو ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن کرنے کے لئے وہ کیا اقدامات ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کا جواب انتہائی مختصر لیکن بے حد معنی خیز تھا ۔ انہوں نے جواب دیا”  کہ ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے لئے سب سے پہلے بحیثیت قوم یہ ارادہ  کرنا ہوتا ہے کہ ہمیں ترقی کرنی ہے” . بظاہر ایک مختصر اور سادہ سا نظر آنے والا یہ جواب اپنے اندر بے پناہ معنی لیے ہوئے ہے۔ اس مختصر لیکن جامع جواب میں معاشرتی ترقی کو معاشی ترقی کی بنیاد گردانا گیا ہے۔

ہم نہ صرف معاشی اعتبار سے پسماندہ قوم ہیں بلکہ معاشرتی لحاظ سے بھی ہم ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات ہوں، مذہبی رسومات اور فرائض کی ادائیگی ہو یا سیاسی اجتماعات ہوں، ہم بحیثیت قوم وقت کی پابندی جیسے اہم اصول کی خلاف ورزی کرنے کے عادی بن چکے ہیں۔ وقت اور وعدے کی پابندی تو ایک طرف، اپنے قیمتی وقت کو ضائع کرنے میں  بھی ہم کسی سے پیچھے نہیں۔  آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، ایک طرف آپ کو نوجوان پب-جی کھیلتے نظر آئیں گے  تو دوسری طرف بڑے، بزرگ سبھی فیس بک اور ٹک-ٹاک  پر بے تحاشا وقت صرف کرتے نظر آئیں گے ۔ نجی زندگی ہو، پیشہ ورانہ معاملات ہوں یا کاروباری لین دین ، بے دھڑک جھوٹ بولنا اور دھوکہ دہی ہمارا معمول بن چکا ہے۔ ہم ایک دوسرے پر اپنا اعتماد اور اعتبار کھو بیٹھے ہیں۔ اخلاقی پستی میں تو ہم اس درجہ پر ہیں کہ اگر ہم اپنا  بٹوا یا موبائل کہیں پر رکھ کر بھول آئیں تو انکا واپس ملنا محال ہوتا ہے۔  مساجد اور دیگر مختلف عوامی مقامات پر نصب  پانی کے وقف کولرز / ٹینکیوں  کے ساتھ پینے کے لئے برتن  رکھتے ہوئے بھی انھیں زنجیر یا رسی سے باندھنا پڑتا ہے تاکہ کوئی اٹھا کر نہ لے جائے۔ آپ اپنی  سائیکل، موٹر سائیکل  یا موٹرکار کو لاک کئے بغیر  ذرا چند منٹ کے لئے کہیں جا کر تو دیکھئے، واپسی پر ان کا نام و نشان تک نہیں ملے گا۔ ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی ، رشوت، جھوٹے وعدے، اختیارات کا ناجائز استعمال،  جعلی ادویات ، جائیدادکے تنازعےاور بہنوں کے حصے کی جائیداد ہڑپ کرنے جیسے مسائل کی تو میں بات ہی نہیں  کرونگا۔

اگرچہ ہمارے دین میں صفائی کو نصف ایمان کا درجہ دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی آپ کو ہر جگہ گندگی اور غلاظت کے ڈھیر نظر آئیں گے۔

یہ روش ترقی کی خواہش رکھنے والی قوم کی روش  نہیں۔ یہ سوچ ترقی کی راہ پر چلنے والی قوم کی سوچ  نہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو بدلنا  ہوگا۔ گفتار کے غازی سے کردار کا غازی بننا  ہوگا۔ ہمیں بحثیت قوم یہ تہیا کرنا ہوگا کہ ہمیں آگے جانا ہے، ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہونا  ہے۔ اور اس مقصد کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی،  اپنے آپ کو بدلنا ہوگا ، اپنی سوچ کو ٹھیک کرنا ہوگا، تمام اخلاقی اور معاشرتی بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا ۔

تو آئیے! آج سے ہی ابتدا کرتے ہیں، اپنے آپ سے ہی ابتدا کرتے  ہیں۔ آج سے ہی اپنے نصب العین کا تعین کرتے ہیں ۔ آج سے جھوٹ ، فریب ، دھوکا دہی ، رشوت خوری ، ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی ، چوری ، کاہلی، وعدے کی خلاف ورزی ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ان جیسی تمام دیگر برائیوں سے توبہ کرتے ہیں۔

محمد اشفاق خان 

پی ایچ ڈی اسکالر                                                                 

جارج اگست یونیورسٹی گوٹینگن، جرمنی


شیئر کریں: