Chitral Times

Jan 18, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے،سپریم کورٹ

شیئر کریں:

اسلام آباد( چترال ٹائمز رپورٹ) بلدیاتی انتخابات کے الیکشن شیڈیول میں تبدیلی کیلئے خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست مسترد کردی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کے ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن شیڈول میں تبدیلی کیلئے صوبائی حکومت کی درخواست مسترد کردی۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ الیکشن کمیشن پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے تمام اقدامات کر چکا ہے۔ بلدیاتی الیکشن شیڈیول جاری کرنے میں پہلے ہی دو سال تاخیر ہوچکی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ صرف الیکشن نہیں صحیح معنوں میں نمائندگی کی ضرورت ہے۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جماعتی بنیادوں پر الیکشن سے برادریوں میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔ ملک میں جمہوریت کو تقویت دینے کیلئے سیاسی جماعتوں کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کو سیاسی عمل سے نہیں نکالا جاسکتا۔جسٹس منصور علی شاہ بولے کوئی بھی سیاسی جماعت عدالت میں نہیں آئی۔ سیاسی جماعتوں کو آکر کہنا چاہیئے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے سے نقصان ہورہا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ کے حکم کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں اگر عدالت حکم امتناع نہیں دیتی تو الیکشن کی تاریخ بدلنے کی اجازت دے۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تاریخ تبدیل کرنے کے ہم سخت مخالف ہیں۔ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

برطرفی کے 10 سال بعد سول جج عہدے پر بحال


لاہور(سی ایم لنکس)لاہور ہائیکورٹ نے کرپشن و نااہلی کے الزامات ثابت ہونے پر ایک سول جج کو عہدے سے فارغ کر دیا جبکہ برطرفی کے 10 سال پورے ہونے پر ایک سول جج کو بحال کر دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے سول جج شرافت علی ناصر کو نوکری سے فارغ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سول جج شرافت علی ناصر کیخلاف 2014ء کی کرپشن کی شکایت پر الزامات ثابت ہوئے۔شرافت علی ناصر کو قانون کے مطابق وضاحت و دفاع کے تمام مواقع فراہم کئے گئے جس میں وہ اپنا دفاع نہ کر سکے۔ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے برطرفی کے دس سال بعد سول جج محمد خالد کو عہدے پر بحال کر دیا گیا۔ انہیں 2011 میں عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔


شیئر کریں: