Chitral Times

Jan 21, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بارشوں کی کمی کے باعث چترال انتہائی خشک سالی کی لپیٹ میں،اکثر زمیندار فصل اور چارہ سے محروم

شیئر کریں:

چترال ( محکم الدین ) گذشتہ اپریل سے بارشوں کی شدید کمی کے باعث چترال انتہائی طور پر خشک سالی کی لپیٹ میں ہے ۔ جس کی وجہ سے فصل ربیع و فصل خریف دونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ بارشوں کی کمی سے مکئی اور دھان کی فصل سمیت سبزیات مختلف بیماریوں کا شکار چہوئے ۔ اور اب چترال بھر میں گندم ، جو وغیرہ کی کاشت مکمل طور پر خراب ہو چکی ہے ۔ خصوصا پانی کی قلت کے شکار علاقے جن میں خاص چترال شہر کے مقامات سنگور، ڈنگریکاندہ ، خورکشاندہ ،او چشٹ ،بکامک ، دنین ، اورغوچ ، بروز ، کجو ، پرئیت ، موری لشٹ ، گہرئیت ، کیسو ، خیرآباد ، اوسیاک ، سوئیر ، لاوی شامل ہیں ۔ بارشوں کا انتظار کرتے ہوئے گندم کاشت ہی نہ کر سکیں ۔ اورجنہوں نے بارشوں کی امید پر گندم کی بوائی کی تھی ۔ ان کی امیدیں بھی تاحال بار آور ثابت نہ ہو ئی ہیں ۔ یوں خشک زمین میں دانے کیڑےمکوڑوں کی نذر ہو گئےہیں ۔ اور کھیت چٹیل میدانوں کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے مختلف لوگوں نے کہا ۔کہ ایک طرف بیچ اور کھاد کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف لوگ بارش کے قطروں کو ترس رہے ہیں ۔ کہ کسی طرح زمین گیلی ہو ، تاکہ بوائی شدہ بیچ اگ آئیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم خوراک کیلئے گندم اور چو پایوں کیلئے بھوسہ و چارہ دونوں سے محروم ہو گئے ہیں ۔ اس لئے حکومت سے مطالبہ ہے ۔ کہ قبل از وقت ہمارے لئے امداد کے طور پر خوراک اور جانوروں کیلئے چارے کا انتظام کرے ۔

چترال میں بارشیں نہ ہونے کے سبب موسمیاتی حالات سنگین سے سنگیں تر صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ندی نالوں میں پانی انتہائی کم سطح پر آگئے ہیں ۔ جس سے آبپاشی کے پانی کیلئے چترال کی زمینیں ترس رہی ہیں ۔ جبکہ اوپر سے اللہ پاک نے باران رحمت کو روک رکھا ہے ۔ پانی کی شدید کمی نے ہائیڈل پاور سٹیشنوں کی پیداوار کو بھی بری طرح متاثرکیاہے ۔ اور چترال میں پیسکو اور غیر سرکاری پاور ہاوسز سب پانی کی کمی کا شکار ہیں ۔ دوسری طرف مسلسل خشک موسم کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔ جنہوں نے بچوں اور بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ چترال کے بالائی علاقے جو ماہ نومبر میں ہی برف سے ڈھک جاتے تھے ۔ اب ان پہاڑوں پر برف کا نام و نشان ہی نہیں ہے ۔


شیئر کریں: