Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

معاشرہ اور بے لوث خدمت گزار۔ صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

ایک جغرافیائی علاقہ جہاں مشترکہ ثقافت اور لوگوں کے احساسات میں ہم آہنگی پائے جاتے ہو معاشرہ کہلاتا ہے۔معاشرہ لوگوں سے بنتی ہے اور وہی لوگ اس معاشرے کو سمبھالتے ہیں۔ اس معاشرے کے انونچ نیچ کے ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ اقدار سے اقتدار  تک، اتحاد سے لیکر انصاف تک ہر کمی بیشی کی ذمہ داری انسانوں کی ہے۔ انسان کو اس معاشرے کا ستون فقار سمجھا جاتا ہے ۔ یہ آزمودہ حقیقت ہے کہ بہترین معاشرہ بہترین لوگوں سے بنتاہے۔ 


معاشرے کو ماہریں نے انسانی سوچ اور ترقی کے بنیاد پر 6 ادوار میں تقسیم کیے ہیں ۔ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اسے  Modern and Post modern society کہتے ہیں یعنی ہم جدید معاشرے سے بھی کچھ آگے  جارہے ہیں۔ ہمیں جدید دور کے انسان ہونے کے ناطے جدید معاشرہ تشکیل دینا ہوگا۔ معاشرے میں دو چیزیں ایسی ہیں جو ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتی ہیں ۔ ایک تعاون دوسرا مقابلہ۔ مستحکم معاشرے کےلیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بہت ضروری ہے۔  مقابلہ، معاشرے کاحصہ ہے مگر جب مقابلہ یعنی کمپٹیشن تعاون سے زیادہ پروان چڑھنے لگے یا معاشرے میں لوگوں کے اپس میں مقابلہ بہت آگے چلی جائے تو معاشرہ زوال کی طرف گامزن ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ وہی معاشرہ مٹ جاتا ہے ۔


قصہ مختصر یہ ہے کہ  معاشرے کی ترقی میں ہر فرد اور ہر طبقے کی خدمات درکار ہوتی ہے چاہئے وہ جس شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتا ہو۔ چاہئے وہ استاد ہو یا پولیس، ڈاکٹر  ہویا مزدور  سب معاشرے کیلئے ضروری ہیں ۔ افسوس اس بات کی ہے ہم جدید دور میں ان پوشیدہ حقائق سے پردہ اٹھانے میں ناکام ہیں۔ انکی حوصلہ افزائی معاشرے  کیلئے انتہائ ضروری  ہیں ۔کل کی بات ہے کہ ایک بہت ہی عمدہ شخصیت جو کہ قدرتی حسن کی حفاظت اور معاشرے کی اصلاح کیلئے کام کرتا، ایک نجی ٹی وی چینل میں ماحولیات پر لیکچر ررہا تھا۔ جس پر کچھ لوگوں نے مسبت کمنٹس پاس کیے تو ایک  دوست آگے سے جواب دیا بس کر یار ایک کباڑ والے کا کیا لیکچر اور اس کا کیا اوقات جس پر ہم تبصرہ کرے۔ 


یہ صرف اس جوان کی باتیں نہیں بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے مجموعی سوچ کی عکاسی کرتا  ہے۔ جو لوگ معاشرے میں ایسے کام کرتے ہیں بظاہر مغیوب سمجھی جاتی ہیں لیکں  یہی لوگ معاشرے کیلئے بہت  اہم  اور مشکل کام سرانجام دے رہے ہیں۔ ایسے مجاہد النفس لوگ اپنے خودی اور شخصیت کو مٹا کر معاشرے کے ان پہلوؤں میں خدمات انجام دےرہے ہیں جو  ہمارے بس سے باہر ہیں۔اگر یہ لوگ بھی پیچھے ہٹ جائے تو شاید  ہم بھی کباڑ کے انبار میں  پڑے رہتے  ۔ طول گفتگو کا  مقصد یہ ہے کہ ہم جدید دور میں رہ رہے ہیں تو اپنے سوچوں کو بھی وسعت دیکر اپنے دلوں میں ان  بے لوث خدمت گزاروں کےلیے بھی جگہ بنانا ہوگا تاکہ وہ بھی خود کو  اس معاشرے کا اہم ستون جان کر  احساس کمتری کا شکار نہ ہو  اور اپنی خدمات بہتر انداز سے سر انجام  دیتے رہے ۔


وماعلینا الاالبلاغ ۔


شیئر کریں: