Chitral Times

Jan 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صلاحیت اور صالحیت کا فرق! – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

کسی بڑے سے بڑے آدمی سے کہیے کہ اس کا جوتا ٹوٹ گیا، چار ٹانکے لگادیں، وہ فوراً کہہ دے گا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں، جوتا موچی کے پاس لے جائیے۔ کسی قابل سے قابل آدمی سے کہیے کہ پیٹ میں درد ہورہا ہے، وہ کہے گا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو، ڈاکٹر سے مشورہ کرو۔ کسی لائق سے لائق انسان سے پوچھئے کہ تقسیمِ جائیداد کا جھگڑا ہے میں کیا کروں، وہ کہہ دے گا کہ کسی قانون دان کے پاس جائو، غرض کہ دنیا میں کوئی کام ایسا نہیں جس کے متعلق کوئی یہ نہ کہہ دے کہ میں اس کا اہل نہیں، لیکن اقتدار کی کرسی کسی بھی فرد کو پیش کردیجیے، کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں اس کا اہل نہیں، اس کے لئے کسی ایسے شخص کی تلاش کیجیے جو اس کی قابلیت رکھتا ہو، یعنی دنیا میں جوتا گانٹھنے تک کے لئے کسی قابلیت کی ضرورت ہے، لیکن حکومت کے لئے کسی اہلیت کی ضرورت ہے نہ قابلیت کی، نہ استعداد شرط ہے نہ موزونیت۔ یہ وہ کرسی ہے جس پر بیٹھنے کے لئے ہر کوئی تیار ہے اور تیار ہی نہیں بلکہ کرسی پر بیٹھنے کے بعد سمجھتا ہے کہ اس سے زیادہ اس کے لئے کوئی اور موزوں ہی نہیں۔ حالاںکہ دنیا میں سب سے زیادہ مشکل کام حکومت ہے، کسی انسان کا، دوسرے انسانوں کے معاملات میں حکم ہونا اور ان کے اختیار و ارادہ پر پابندیاں عائد کرنا۔
حکومت کا محسوس ہونا کیا معنی رکھتا ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔


رات کا سناٹا، دن بھر کا تھکا ماندہ گھوڑا قدم قدم چل رہا تھا، گاڑی بان بھی اونگھ رہا تھا، فضا کے سکوت کو توڑتے ہوئے یوں ہی گاڑی بان سے پوچھا، کہو میاں! اب تو تمہاری حالت بہتر ہوگئی ہوگی۔ گاڑی بان چونکا اور عجیب بے رخی سے بولا، بابو صاحب، محض تم لوگوں کے یہاں آجانے سے ہماری حالت میں کیا فرق پڑے گا، پہلے بھی مزدوری کرتے تھے جو اَب ہے، سنا تھا کہ عنقریب اپنی حکومت آجائے گی اور ہماری حالت میں فرق آجائے گا، لیکن معلوم نہیں وہ حکومت کب تک آئے گی، بس سنتے ہی آرہے ہیں، جب اُسے بتایا کہ حکومت تو آچکی، تمہیں خبر ہی نہیں۔ اس نے حیرت سے مڑ کر دیکھا اور کہا، بابو جی کیا کہا، ہماری حکومت آچکی ہے؟ یہاں تو وہی لائسنس کلرک ہے، وہی جھڑکیاں اور وہی اس کے تقاضے، وہی پولیس ہے اور ان کی بیگار اور گالیاں، وہی تیل کی مصیبت، دہی دانے اور گھاس کی دقت، ہماری اپنی حکومت ہوتی تو یہ حالت کیسے رہتی؟


 اس کا جواب کسی کے پاس نہیں اور اس کا جواب دے بھی کون سکتا تھا۔ اسے وہ کہ جن کی زبانوں پر ہزار مرتبہ جمہوریت آنے کے باوجود ان کا دل ایک بار بھی گواہی نہیں دے سکا، اسے دل کے کانوں سے سن رکھیں کہ یہ لفظ کبھی شرمندہ معنی نہ ہوگا جب تک ایک مزدور تک بھی یہ محسوس نہ کرنے لگے کہ اس کی حالت میں فی الواقع فرق پیدا ہوگیا ہے۔ اور یاد رکھیے، یہ تبدیلی احوال نہ اس وثیقہ سے ہوگی جو ارباب ِ اختیار کے کہنے سے مل جاتا ہے اور نہ اُن قوانین وضوابط سے جو مشین کی طرح نافذ کرنا چاہتے ہیں، بلکہ یہ تبدیلی اُس وقت تک پیدا نہ ہوگی جب تک ہمارے اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ ہوجائے۔


اس امر کو سمجھنے کے لئے اس طرح سمجھنا ہوگا کہ:
ارے! یہ تم کیا کررہے ہو، کشتی میں چھید کیوں کرتے ہو، کشتی میں چھید کیون کرتا ہے؟  پچاس دفعہ ملاح سے کہا کہ تم نے بادبان غلط باندھا ہے، کشتی، سمتِ ساحل نہیں جارہی، اس کا
رخ سیدھا کرو، لیکن یہ سنتا ہی نہیں، اب جو کشتی بیکار ہوگی تو پتا چلے گا۔۔۔ ارے پاگل ! کشتی میں چھید کروگے تو کشتی کے ساتھ خود بھی ڈوبوگے، اب سمجھنا یہ ہے کہ بار بار سمجھانے اور تنبیہہ کے باوجود ملاح نہیں مانتا تو اگر تم میں سے کوئی ناخدائی جانتا ہے تو ملاح کے ہاتھ سے چپو چھین لو اور کشتی کا رخ سیدھا کردو، لیکن کشتی کو سلامت رکھو کہ اس کی سلامتی میں خود تمہاری سلامتی ہے۔


پاکستان کے اراکین ایوان بالا و زیریں اور عنان حکومت کی فکر کرنے والوں کو ہر وقت یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھیں جو خود مملکت کی کمزوری کا باعث بن جائے کہ ا س کشتی کے (خدانکردہ) ڈوبنے سے ہم سب غرق قعرِ مذلت ہوجائیں گے۔ عوام کی مشکلات عملی ہیں، ان کا حل بھی عملی طور پر ہی ہوسکے گا، بھوک کا علاج روٹی کے سوا کچھ نہیں، عوام آپ کی ان مذہب کے نام پر اپیلوں سے زیادہ متاثر نہیں ہورہے اور یہ عین فطری چیز ہے ، وہ اپنے مصائب کا حل چاہتے ہیں، اگر آپ اس کا حل اب بھی پیش نہ کرسکے تو جو شخص بھی انہیں ان کا حل بتائے گا وہ اس کی طرف چلے جائیں گے۔
یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل، اگر کوئی عمل دفتر میں ہے


اس حقیقت کا اعتراف کرلینا چاہیے کہ بعض کوتاہیاں ہوئیں اور اس کے بعد جن مصیبتوں کا شکار ہوئے ان کی زیادہ وجہ خود اپنی خامیاں اور مآل اندیشیاں تھیں، اس اعترافِ حقیقت سے فائدہ یہ ہوگا کہ ہم آئندہ کے لئے محتاط ہوجائیں اور اپنی کمزوریوں اور خام کاریوں کو رفع کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن ہمارے ارباب حل و عقد غالباً اس ڈر سے کہ اس اعتراف سے کہیں وہ قصوروار نہ ٹھہرادیے جائیں، قوم کو جھوٹا اطمینان دلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، جو کسی کے حق میں بہتر نہیں۔


شیئر کریں: