Chitral Times

Jan 21, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صداقت، عدالت، شجاعت-تحریر: وجیہ الدین جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی چترال لوئر

شیئر کریں:

“بانگ دارا” کی آخری نظم “طلوع اسلام” رنگ رنگ کی خوبیوں اور گوناگوں محاسن کا مجموعہ ہے۔ معنی آفرینی اور شوکت الفاظ کا یہ حسین مرقع نو بندوں پر مشتمل ہے۔ خاص بات اس کی یہ ہے کہ اس میں یاس انگیزی اور نومیدی کے بجائے رجائیت کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور مسلمانوں کو ان کا مقام و مرتبہ یاد دلا کر عمل کی ترغیب دی گئی ہے۔

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے
اور
کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازو کا؟
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

مگر اس نظم کا اصل مدعا یعنی اس کا حاصل دو مختلف اشعار میں بیان کیا گیا ہے۔ دونوں اشعار کے رنگ مختلف، الفاظ مختلف اور بیان مختلف ہونے کے باوجود ایک ہی مفہوم اور ایک ہی مدعا پر مشتمل ہیں۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا


دوسرا شعر ہے:
مٹایا قیصر و کسری کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا؟ زور حیدر، فقر بوذر، صدق سلمانی
یہ دونوں اشعار نہیں، بلکہ دنیا میں حصول اقتدار کے اصول ہیں اور سچ یہ ہے کہ ان میں عروج حاصل کرنے کا ضابطہ اور طریقہ بیان ہوا ہے۔


پہلے شعر میں مسلمانوں کو صداقت عدالت اور شجاعت کے اختیار کرنے کا درس دیا گیا ہے اور پھر بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں نے جس کے بل عروج پایا تھا اور دنیا کی غالب اقوام کو سرنگوں کرنے میں کامیاب ہوئے تھے وہ یہی تین اوصاف تھے۔
واضح ہو کہ امامت کے باب میں اللہ تعالی کی سنت یہ ہے کہ وہ زمین کا اقتدار ان لوگوں کے سپرد کرتا ہے جو اخلاقی اوصاف میں دنیا کی دوسری اقوام سے فائق تر ہوں۔


زیر بحث دونوں اشعار میں بھی اخلاقی اوصاف کی حصولی ہی کو امامت پر متمکن ہونے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ غور کریں پہلے شعر میں “صداقت”، “عدالت” اور “شجاعت” جبکہ دوسرے میں “صدق”، “فقر” اور “زور” کے الفاظ آئے ہیں۔ ظاہر ہے “صداقت” اور “صدق”، “شجاعت” اور “زور” ایک ہی معنی کے الفاظ ہیں جن کے معنی و مفہوم کے ایک ہونے میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں۔


اب رہ جاتے ہیں “عدالت” اور “فقر” کے الفاظ! یہاں سرسری نگاہ سے دونوں الفاظ معنی کے اعتبار مختلف نظر آتے ہیں، مگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو ان میں ایک خاص مناسبت ہے۔ غور کیا جائے تو عدل کا قیام خود غرضی اور ہوس کے مارے شخص (یا قوم) کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ کوئی بندہ حریص جاہ اور عریض مال ہو اس کے ہاتھ سے عدل کا نظام بھلا کیوں کر قائم ہوسکتا ہے؟ نظام عدل کے اجرا کے لیے لازم ہے کہ مقتدر ہر قسم کے لالچ، ہر طرح کے حرص اور ہر نوع کے غرض سے پاک ہو کر فیصلہ کرنے بیٹھ جائے۔ اس اخلاقی صفت کے لیے اقبال “فقر” کی خوبصورت اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ گویا اقبال دونوں اشعار میں انہی تین اوصاف حمیدہ اور اخلاق فاضلہ کو دنیا کی امامت کی حصولی کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو ان کی حصولی کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ وہ عظمت رفتہ کو پھر سے پاسکیں اور دنیا کی امامت سے خود کو سرفراز کر سکیں جو کہ اہل ایمان ہونے کی بنا پر انہی کو زیبا تو ہے مگر ان اوصاف سے متصف نہ ہونے کی وجہ سے قدرت نے انھیں اسے محروم کر دیا ہے۔


شیئر کریں: