Chitral Times

Jan 19, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا -سیاسی جما عتوں کی کارکردگی – عبدالباقی چترالی

شیئر کریں:

سیاسی جماعتوں کی کارکردگی) ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا)



2008 کے انتخابات میں اے این پی و دیگر جماعتوں کی خیبر پختونخوا میں مخلوط حکومت قائم ہوگئی اور رامیر حیدر خان ہوتی پختونخوا کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اپر چترال سے غلام محمد صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیت گئے۔ اس کا سیاسی تعلق پرویز مشرف کی پارٹی (ق) لیگ سے تھا۔ 2008 کے انتخابات میں اے این پی کا کوئی امیدوار چترال سے کامیاب نہیں ہوا تھا۔ اس کے باوجود اے این پی چترالی عوام کے لیے رحمت ثابت ہوئی۔ چترال کی ترقی کے لیے بڑے بڑے منصوبے شروع کیے گئے۔ ان بڑے منصوبوں میں چند یہ ہیں: بائی پاس روڈ چترال، یونیورسٹی کیمپس چترال، آبنوشی کا بڑا منصوبہ جس میں گولین گول سے لیکر چمرکھن تک پائپ لائن بچھائے گئے، ڑاوی بجلی گھر کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔


بائی پاس روڈ چترال کی تعمیر کے لیے سابق وزیر اعلیٰ شیر پاؤ نے افتتاحی بورڈ لگایا تھا لیکن فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوئے۔ اس کے بعد ایم ایم اے کے دور اقتدار میں اکرم خان دورانی نے بھی اس سڑک کے لیے افتتاحی بورڈ لگائے لیکن ترقیاتی فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے بائی پاس روڈ تعمیر نہیں کر سکے تھے۔ اے این پی کے دور حکومت میں چترال کی ترقی کے لیے بھر پور کوشش کی گئی۔ ان کی حکومت میں اپر چترال میں کئی پن بجلی گھروں کے سروے مکمل کیے گئے۔ ان میں سے دو بجلی گھروں کی فزیبیلٹی بھی تیار کی گئی۔


اے این پی کی چترال سے اپنے دونوں سیٹ ہارنے کے باوجوداپر چترال میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے۔ خاص کر موڑکھو میں ان کا ووٹ بینک برائے نام ہونے کے باوجود موڑکھو کی ترقی کے لیے قابل قدر کام کیے۔ موڑکھو میں کیے گئے ان کے بڑے منصوبوں میں زنانہ ہائی سکول وریجون کو ہائرسیکنڈری کا درجہ دینا، مردانہ ہائی سکول وریجون میں امتحانی ہال کی تعمیر، سہت میں زنانہ مڈل سکول کا قیام، ایک کلومیٹر بلیک ٹاپ روڈشامل ہیں۔ علاوہ ازیں آر ایچ سی ہسپتال موڑکھو کا افتتاح بھی حاجی غلام محمد صاحب نے کیا۔ ان کے علاوہ بھی کئی عوامی مسائل حل کیے گئے۔ موجودہ ایم پی اے کا تعلق موڑکھو سے ہے اور اپر چترال میں اکثریتی ووٹ بھی موڑکھو سے ہی ان کو ملے ہیں۔ ان سب کے باوجود وہ اپنے حلقے کے مسائل ان تین سالوں میں حل کرنے میں ابھی تک ناکام رہے ہیں۔ ان مسائل میں سرفہرست ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی کو ڈی ایچ کیو کا درجہ دینا، مردانہ ہائی سکول وریجون کو ہائرسیکنڈری کا درجہ دینا اور موڑکھو کے آر ایچ سی ہسپتال کو ٹی ایچ کیو کا درجہ دینا شامل ہیں۔

وریجون ہیڈکوارٹر تک دو کلومیٹر بلیک ٹاپ روڈ تاحال تعمیر نہ ہوسکا۔ابھی تک ان عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایم پی اے نے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیے ہیں۔ موجودہ قومی اسمبلی کا ممبر جناب عبدالاکبر صاحب نے اپنے پچھلے دورِ حکومت میں اپر چترال کے عوام کو محض وعدوں اور نغروں سے بہلاتا رہا۔ اس وقت بھی ایم این اے صاحب کے فنڈ سے اپر چترال میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہورہے ہیں۔2018 کے انتخابات میں موڑکھو سے مولانا عبدالاکبر صاحب کو سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے لیکن جب وہ انتخابات میں کامیاب ہوئے تو موڑکھو کے عوام کو جلد نظر انداز اور فراموش کردیا۔ ایم این اے صاحب گزشتہ انتخابی مہم کے دوران موڑکھو کے عوام کے ساتھ نہر اتہک کے مسئلے کو جلد حل کرنے کا وعدہ کیا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا اور آئندہ بھی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اپر چترال میں خاندان کے مقام پر سابق ایم این اے افتخار الدین صاحب کی کوششوں کے نتیجے میں گرڈ سٹیشن کی منظوری ہو چکی تھی جوکہ موجودہ ایم این اے کی عدم توجہ کے باعث ابھی تک گرڈ سٹیشن کا قیام عمل میں نہیں آیا۔ گرڈ سٹیشن کے قیام میں تاخیر کی وجہ سے اپر چترال کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ایم این اے کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اپر چترال کے عوام مایوس ہوچکے ہیں۔ اب ان کی پارٹی کے لوگ بھی ان سے ناخوش اور ناراض دکھائی دے رہے ہیں جوکہ آنے والے وقتوں میں مولانا صاحب کی سیاسی مستقبل کے لیے اچھی شگون نہیں ہے۔ ان کی مایوس کن کارکردگی پارٹی کو بھی لے ڈوبے گی۔ اس وقت خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو آٹھ سال پورے ہوچکے ہیں۔ گزشتہ آٹھ سالوں سے پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت چترالی عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کررہی ہے اور اپنی پارٹی کا امیدوار منتخب نہ ہونے پر چترالی عوام سے سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔موجودہ صوبائی حکومت چترال لوئر اور اپر میں کوئی بڑے ترقیاتی منصوبے تعمیر نہیں کر سکے۔ خاص کر اپر چترال کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اس کا واضح ثبوت وزیر اعلیٰ کے دورے کا شیڈول طے ہونے کے باوجود اپر چترال کا دورہ منسوخ کرنا ہے۔

بار بار اپر چترال کو نظر انداز کرنے پر پی ٹی آئی کے عہدیداراں اور کارکنوں میں بھی مایوسی اور بددلی پھیلی ہوئی ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت اپر چترال کو الگ ضلع کا درجہ دینے کے بعد اس نئے اور پسماندہ ضلعے کی تعمیر و ترقی کے لیے کوئی خصوصی فنڈ فراہم نہیں کی۔ ترقیاتی فنڈ مہیا نہ ہونے کی وجہ سے کاغذی ضلع بنا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت کو اپر چترال کی ترقی اور عوامی مسائل کو حل کرنے کی طرف بھر پور توجہ دینی چاہیے۔ اگر حالات جوں کے توں رہے تو آنے والے انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار کے لیے عوام کا سامنا کرنا مشکل ہوگا۔ اپر چترال میں ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ دوسری طرف مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت کے خلاف عوام میں غم وغصہ بڑھ رہا ہے۔


پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت کو اپر چترال کی تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے حل کی طرف صوبائی حکومت کی توجہ مبذول کراکے اپنے علاقے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔


شیئر کریں: