Chitral Times

Jan 19, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میری بات – ملک بچالیں یا چور – روہیل اکبر

شیئر کریں:



ہم جانتے ہیں ابھی نندن نے ایف سولہ نہیں گرایا، وہ بھی جانتے ہیں ابھی نندن نے ایف سولہ نہیں گرایا انڈیا اور امریکہ بھی جانتا ہے کہ ابھی نندن نے ایف سولہ نہیں گرایا ابھی نندن بھی جانتا ہے کہ اس نے کوئی ایف سولہ نہیں گرایا وہ ایف سولہ جو نہیں گرایا گیا ابھی نندن کو اس کے لئے بھارت نے تیسرا بڑا ملٹری ایوارڈ “ویر چکر” دیدیا چکر کیا ہے؟مختصر الفاظ میں اس کو میڈیا وار اور پروپیگنڈہ کہتے ہیں پورا انڈین میڈیا اس کے پیچھے کھڑا ہے اب آتے ہیں ہم ن لیگ کی سیاست کی طرف ہم جانتے ہیں نواز شریف نااہل ہے وہ بھی جانتے ہیں نواز شریف نااہل ہے اور نواز شریف بھی جانتا ہے کہ وہ نااہل ہے وہ نواز شریف جس سے تین بار ملک نہیں چلایا جاسکا اس سے متعلق پھر بھی نعرہ ہے ایک واری فیر مختصر الفاظ میں اس کو میڈیا وار کہتے ہیں.

مختلف میڈیا مالکان اور نامور صحافی اس کے پیچھے کھڑے ہیں۔ “ویر چکر” اور “فیر چکر” ایک ہی کہانی کے دو کردار ہیں ابھی نندن سے ابھی لندن تک ایک ہی گول چکر ہے ایک وہ ہیں جو اپنی فوج کو تحفظ دیتے ہیں اور ایک یہ ہیں جو اپنی ہی فوج کے خلاف ہیں اور انہیں ہر کام کے پیچھے جنرل باجوہ کا ہاتھ نظر آتا ہے مجھے کیوں نکالا کی گردان کرتے کرتے آخر کار وہ جعلی رپورٹوں کے زریعے ملک چھوڑ گیا ہے .

ابھی پچھلے دنوں سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد بھی جرنیلوں اور ججوں پر چڑھائی کرتے نظر آئے جس پر چیف جسٹس صاحب علی احمد کرد کی باتوں کو غلط کہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عدالتیں کسی کے دباؤ میں نہیں عدالتیں مکمل آزاد ہیں عدالتیں مکمل انصاف فراہم کر رہی ہیں اور یہ واقعی حقیقت بھی ہے کیونکہ آپ پاکستان میں 22کروڑ عوام کو انصاف فراہم کرنے کے لیے سب سے اوپر عدل کی آخری کرسی پر ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں مجھے یقین آگیا ہے آپ بلکل سچ کہتے ہوں گے کیونکہ جس کو اللہ کے حساب لینے کا خوف ہوتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا .

لیکن کیا وجہ ہے کہ انصاف صرف اور صرف بااثر لوگوں کو ہی ملتا ہے اور وہی عدلیہ کو نشانے پر بھی رکھے ہوئے ہیں پاکستانی عدالتوں میں اس وقت 21 لاکھ 59 ہزار 655 کیسز بوسیدہ فائلوں میں دفن ہیں کیا سپریم کورٹ میں 52 ہزار سے زائد کیسز منصفوں کی راہیں تک رہے ہیں لاہور ہائی کورٹ میں 1 لاکھ 93 ہزار سے زائد کیسز کا انبار ہے مگر حمزہ شہباز،مریم نواز اور پھر نواز شریف کو فوری انصاف فراہم کردیا جاتا ہے سید رسول کو جب لاہور ہائی کورٹ نے قتل کیس میں بری کیا تو پتہ چلا کہ وہ تو 2 سال پہلے جیل میں انتقال کرگئے ہیں،جب مظہر حسین کو 19 سال بعد قتل کیس میں سپریم کورٹ نے بری کر دیا تو معزز عدالت کو بتایا گیا کہ وہ 2 سال پہلے جیل میں ہی وفات پا چکے ہیں رحیم یار خان کے دو سگے بھائیوں کو پھانسی چڑھائے جانے کے بعد عدالت عظمی نے بے گناہ قرار دے کر بری کر دیا تھا۔

اپیل کیلئے 400 روپے نہ ہونے کی وجہ سے چنیوٹ کی 15 سالہ غریب اور بے گناہ رانی بی بی نے 19 سال جیل میں کاٹ دیے اور ایک اشتہاری مجرم کی بیٹی کو اتوار کے دن بھی عدالت لگا کر ضمانت پر رہا کر دیا گیا لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کیلئے 17 انچ ٹی وی خریدنے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرکے اخبارات میں اشتہار دیا جاتا ہے انصاف کی فراہمی میں پاکستان کا نمبر 128 ہے سپریم کورٹ بار کا سابق صدر ہمیں بتا رہا ہے کہ ہماری عدالتیں 128 نمبر پر ہیں اپنی عدالتوں کو بدنام کرکے پھر تالیوں سے داد بھی سمیٹ رہا ہے؟ قوم سے خیر شکوہ کیا اک ہجوم ہے بے.

شعوروں اور غلاموں کا ایک ریوڑ ہے یہ غلام ابن غلام ہیں انہیں اپنے جیسے غریبوں کے لئے انصاف نہیں چاہئے انہیں انصاف ان ڈاکوؤں کیلئے چاہئے جنہوں نے تین دہائیاں اس ملک کو لوٹ کر لندن میں جائیدادیں بنائی ایک بات یاد رکھیں ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے صرف باشعور حکمران ہی نہیں باشعور قوم کی بھی ضرورت ہوتی ہے پاکستانی ارباب اختیار سے مودبانہ گزارش ہے ملک بچا لیں یا پھر چور۔آخر میں این ڈی ایف سی کے متاثرین میں سے ایک شخص امتیاز علی کھبڑو کا خط شامل کرتے ہیں جو انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام لکھا ہے شائد انکی بھی کہیں سنی جائے۔

1- جناب اعلی سال 2001 میں حکومت پاکستان کے سب سے بڑے قومی مالیاتی ادارے NDFC جس سے آپ بخوبی واقف ہیں اس ادارے کو صرف اس لیے بند کیا گیا کہ پاکستان کے تمام سیاستدانوں نے اس ادارے سے قرضے لیکر پاکستان کے 88ارب کھا لیے تھے جنہیں ہضم کرنے کے لیے ان سیاستدانوں نے NDFC کو بند کرواکر NDFC کے ملازمین کا معاشی اور اخلاقی قتل کیا جس پر ہم نے سال 2010 میں سپریم کورٹ میں قانونی پٹیشن نمبرCP#131/2010 داخل کی تھی جس میں آج تک انصاف نہیں ملا۔ NDFC کے ملازمین کی ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین مین منگھوپیر روڈ کراچی میں ہے اس زمین پر سال 2011 میں قبضہ مافیا کے علیم دین ولد ضیاالدین نے اپنے ساتھی غنڈوں کے ساتھ ملکر قبضہ کیا تھا ہم نے عدالت عالیہ سندھ کراچی سے رجوع کیا عدالت نے CP#1032/2019 بتاریخ 09-08-2019 اور 06-02-2020 کو سیکریٹری لینڈیوٹیلایزیشن، DC ویسٹ کراچی، مختیارکار منگھوپیر اور SHO تھانہ منگھوپیر کو احکامات جاری کیے کہ NDFC کی زمین پر سے قبضہ ختم کرواکر عدالت کو رپورٹ کریں مگر آج تک ان احکامت پر عمل نہیں کیا جاگیا.

آپ نے کراچی میں قبضہ مافیا اور سندھ حکومت کو بار بار احکامات جاری کیے ہیں کہ سرکاری و غیر سرکاری زمینوں پر قبضہ مافیا کا قبضہ ختم کرایا جائے مگر سندھ حکومت کے افسران نے عدالتوں کے احکامات کو کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی مگر آپ کی کوششوں سے کراچی میں عدالتوں کے احکامات کی عزت بڑھی ہے کیونکہ آپ خود بھی کراچی شہر سے تعلق رکھتے ہیں آپ کی خدمت میں عرض ہے مہربانی فرماکر پاکستان کے ادارے NDFC کے مظلوم ملازمین کی ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین پر قبضہ ختم کروانے کے لیے عدالت عالیہ سندھ کے احکامات پر DC ویسٹ کراچی سے عمل کروادیں ہم آپکے تاعمر احسان مند رہیں گے۔عرضدار امتیاز علی کھہڑو اور پاکستان بھر سے NDFC کے تمام متاثر ملازمین آکر میں قبضہ گروپوں کے حوالہ سے بھی بتاتا چلوں کہ جس طرح پنجاب میں وزیر اعلی سردار عثمان بزاد نے اربوں روپے کی جگہ قبضہ گروپوں سے واگذار کروائی یے اسی طرح سندھ حکومت بھی کام کرکے غریب عوام کی خدمت کرسکتی ہے۔


شیئر کریں: