Chitral Times

Nov 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دنین گہتک میں آٹھ ماہ کے جڑواں بچے پراسرار بیماری کے باعث جان بحق

شیئر کریں:

دنین گہتک میں آٹھ ماہ کے جڑواں بھائی پراسرار بیماری کے باعث جان بحق

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)چترال ٹاون کے گاوں گہتک دنین میں آٹھ ماہ کے دوجڑواں بھائی پولیو کے قطرے پلانے کے بعد چار دن ڈی ہائڈریشں کنٹرول نہ ہونے کے باعث جان بحق ہوگئے ہیں۔ ، والد نے واقعے کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق 20نومبر کے دن مہم پر آ ئی ہوئی ٹیم نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے بعد دست اور قے شروع ہوگئی اور کوئی علاج کارگر ثابت نہ ہوئی اور 24 نومبر کو دونوں موت کے منہ میں چلے گئے۔

جان بحق بچوں کے والد مجیب الرحمن نےچترال پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دو جڑواں بیٹوں کو پولیوکےقطرے پلائے کے بعد انھیں الٹیاں اور دست آنے شروع ہوئے۔ جس پر ہم نے انہیں فوری طور پر ڈاکٹر کو دیکھایا۔ اور انہوں نے معائنے کے بعد ادویات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ لیکن ڈی ہائیڈریشن کا سلسلہ نہ رکا۔ اور دونوں بچے دم توڑگئے، جس سے ہمارا پورا خاندان شدید صدمے سے دوچار ہے۔ انہوں نے واقعے کی انکوائری کا مطالبہ کیا۔


اس حوالے سے ای پی آئی کو آرڈنیٹر چترال لوئر ڈاکٹر فرمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بچوں کی المناک موت پر افسوس کا اظہار کیا۔ لیکن انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی۔ کہ پولیو قطرے پلانے کی وجہ سے ان بچوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں ہزاروں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔ لیکن کہیں بھی ایسا واقعہ سامنے نہیں آیا۔ اس لئے یہ الزام بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ کہ پولیو قطروں کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم اس کیس کی باقاعدہ انکوائری کریں گے جس کے لئے کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے اور انکوائری کے بعد ہی اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ بچوں کے اموات کی وجہ کیا تھی۔

ڈاکٹر فرمان نے کہا۔ گو کہ یہ مہم خسرہ اور روبیلا کی ویکسنیشن کیلئے ہے۔ لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھا کر بچوں کو پولیو کے قطرے بھی پلائے جاتے ہیں۔ کیونکہ پولیو کے قطرے انسان کو مستقل اپاہج ہونے سے بچانے کا واحد علاج ہیں۔ جس کی بیماری اور جراثیم کو ختم کرنے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔


دریں اثناء متوفی بچوں کے والدین اور رشتہ داروں کی تحفظات کے پیش نظر ڈی ایچ او لویر چترال نے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ای پی آ ئی ڈاکٹر فرمان نظار کی سربراہی میں انکوائری ٹیم تشکیل دی ہے۔


شیئر کریں: