Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود – تجویز- شہزادی کوثر

شیئر کریں:

گزشتہ ہفتے گورنمنٹ گرلز ہائرسکنڈری سکول شیاقوٹیک میں ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے زیر انتظام ایک پروگرام منعقد ہوا تھا جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ( زنانہ) ایس ڈی اوز،اے ڈی اوز کے علاوہ چترال لوئر کے تقریبا پندرہ سکولوں کی طالبات اور اساتذہ نے شرکت کی ۔ پروگرام میں حسن قرات،نعت،اردو اور انگلش تقاریر، مضمون نویسی، پوسٹرمیکنگ،قومی ترانہ ، کوئزاور ملی نغموں کے مقابلے ہوئے جن میں طالبات نے بھر پور شرکت کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس قسم کے مقابلوں کے ذریعے طالبات کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

سکولوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسی تقریبات منعقد کرانا محکمہ تعلیم کا اچھا اقدام ہے۔ ہر سال نومبر کے مہینے میں ایسے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں شمولیت سے طالبات میں نہ صرف مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے بلکہ اپنی مخفی استعداد کو آشکار کرنے کا بھی بھر پور موقع ملتا ہے۔ یہ ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کا  اچھا ذریعہ ہے ۔اس سے  ہم نصابی سرگرمیوں کی طرف طالب علموں کا رجحان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے وقت کے صحیح اور مثبت استعمال کی طرف راغب ہو جاتے ہیں جو ان کی تربیت کا سب سے اہم حصہ ہے، لیکن چترال کے تناظر میں ان تقریبات کا جو وقت متعین کیا جاتا ہے وہ درست نہیں ۔نومبر کا مہینہ ملک کے دوسرے علاقوں کی نسبت چترال میں سردیوں کا موسم ہے دن چھوٹے ہو تے ہیں اس لئے یہ مہینہ اس قسم کی تقریبات کے لئے موزوں نہیں ہے۔

دور دراز کے علاقوں سے آنے والی طالبات مختلف مقابلوں میں شرکت کے لئے بڑی تعداد میں چترال ٹاون کا رخ کرتی ہیں ،اور وقت پر تقریب میں پہنچنے کے لئے اس سرد موسم میں صبح سویرے ہی اپنے گھروں سے نکلتی ہیں ۔ پروگرام میں بہت سارے سکولوں کی شمولیت کی وجہ سے میزبان سکول میں ڈسپلن کو برقرار رکھتے ہوئے تقریب کو اختتام تک پہنچانا بھی بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے ۔اس کے ساتھ تمام مقابلوں کو اتنے مختصر وقت میں خوش اسلوبی سے تکمیل تک پہنچانا بھی آسان کام نہیں ، یہاں سے فارغ ہو کر بچیاں گرم چشمہ ،بمبوریت دروش پہنچتے پہنچتے رات ہو جاتی ہے ۔

سردی کے موسم میں رات کو سفر کرنا ویسے بھی بہت بڑا خطرہ ہے ،اور اگر بات بچیوں کی ہو تو اور بھی مشکل ہے  کہ والدین پل پل خود کو سولی پر چڑھتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی مجاز اتھارٹی کو کم از کم اتنا سوچنا چاہیے کہ چترال کا مقابلہ صوبے کے دوسرے شہروں سے نہیں کیا جاسکتا ۔ یہاں کا موسم ،حالات اور ذرائع آمدورفت میدانی علاقوں جیسے نہیں ہو سکتے ، وہاں آمدو رفت کا کوئی مسلہ نہیں ہوتا لیکن دور دراز علاقوں اور پُر پیچ پہاڑی رستوں پہ سفر کرنا دن کی روشنی میں بھی دشوار ہے تو یہ بچیاں اس سخت موسم میں ایسے سفر کی متحمل کیسے ہو سکتی ہیں اگر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی مجاز اتھارٹی اس بات کو سنجیدگی سے لے تو اس سے سب کو فائدہ ہو سکتا ہے ۔

مقابلے کے لئے سال کے دوسرے مہینے جون ، اگست،اور ستمبر بہت سازگار ہیں کیونکہ دن لمبے اور موسم بھی قابل برداشت ہوتا ہے جس سے تمام سکولوں کی طالبات اسانی سے مقابلوں میں شریک ہو کر وقت پر واپس گھروں کو جا سکتی ہیں ۔اگر ڈپارٹمنٹ کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں تو پھر تمام مقابلے ایک ہی دن رکھنے کے بجائے کچھ مقابلے ایک دن کچھ دوسرے دن رکھے جائیں تاکہ ہر کام سہولت اور خوش اسلوبی سے تکمیل تک پہنچے ۔                                                       


شیئر کریں: