Chitral Times

Dec 1, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا -عوامی نمائندوں کی کارکردگی -عبدالباقی

شیئر کریں:

اپر چترال کو نیا ضلع بنے ہوئے تین سال کا عرصہ گزرگیامگر اب تک نئے ضلعی دفاتر تعمیر نہیں ہوئے۔ نئے دفاتر تعمیر ہونا تو دور کی بات ہے ا بھی تک ضلعی دفاتر کے لیے جگہے کا تعین بھی نہیں ہوا ہے اور نہ ہی بجٹ میں ان دفاتر کے لیے کوئی فنڈ رکھا گیا ہے۔
موجودہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار پرانے ٹوٹے پھوٹے کمروں میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان دفاتر میں جدید دور کے مطابق کوئی سہولت موجود نہیں۔ دفاتر میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین کو بھی مشکل پیش آرہے ہیں۔


دوسرا بڑا مسلہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا ہے۔ اپر چترال میں سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی لوڈشیڈنگ شروع ہو جاتا ہے۔ اس وقت بھی اپر چترال میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے دفتری کام بھی متاثر ہوتے ہیں اور عوام کو بھی مشکل حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ لہٰذا عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ ترجیحی بنیادوں پر ان مسائل کی طرف توجہ دیں۔


صوبائی حکومت اور عوامی نمائندوں کو اپر چترال کی ترقی کے لیے بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اپر چترال کو الگ ضلع بنایا ہے مگر اس کے لیے ترقیاتی فنڈ فراہم نہیں کیے گئے۔ اپر چترال کے عوام وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے پُر زور گزارش کرتے ہیں کہ وہ مہربانی کرکے اس نئے اور پس ماندہ ضلع کے لیے خصوصی ترقیاتی فنڈ فراہم کریں تاکہ حکومتی وعدوں کے مطابق ان دُورافتادہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ان کے دہلیز پر سہولیات فراہم ہوسکیں۔ ہمارے موجودہ صوبائی اسمبلی کا ممبر اس نئے ضلع کی ترقی کے لیے گزشتہ تین سالوں میں کچھ بھی نہیں کرسکا۔ موجودہ ایم پی اے کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ تحصیل موڑکھو میں سابقہ ایم پی اے سردار حسین کی کوششوں کے نتیجے میں دو کلومیٹر کچی سڑک تعمیر ہوئی تھی جوآج بھی اُسی حال میں موجود ہے۔ یہ ایم پی اے صاحب کا آبائی حلقہ ہونے کے باوجود تین سالوں میں دو کلومیٹر سڑک بلیک ٹاپ نہیں ہوسکا۔ موجودہ ایم پی اے کی اس ناقص کارکردگی کی وجہ سے اس کے حلقے کے لوگ بھی نالاں ہیں اور پارٹی کارکنان بھی شدید ناراض ہیں۔ عالم دین ہونے کے باوجود لوگوں سے جھوٹے وعدے کرتا ہے اور زیادہ تر پشاور میں رہتا ہے۔ کبھی کبھار ہی چترال کا رُخ کرتا ہے تو اپنے رشتہ داروں اور پارٹی کے چند افراد سے مل کر واپس چلا جاتا ہے۔ ان تین سالوں میں موڑکھو میں ایک بار بھی کھلی کچہری نہیں کیا ہے۔


موڑکھو کے عوام میں ایم پی اے کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ تحصیل موڑکھو کو جے یو آئی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ایم پی اے کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پارٹی کو شدید سیاسی نقصان پہنچ رہا ہے جس کا خمیازہ آنے والے انتخابات میں جے یو آئی کو بگھتنا پڑے گا۔ جے یو آئی کی اعلیٰ قیادت اپنے پارٹی ٹکٹ دیتے وقت امیدوار کی اہلیت اور قابلیت کو مدنظر رکھ کر ٹکٹ دینا چاہیے۔ نااہل امیدوار پارٹی کے لیے تباہی و بربادی کا باعث بنتا ہے۔


ہمارے قومی اسمبلی کا ممبر زیادہ تر سودی نظام معیشت، کشمیر اور فلسطین کے مسلے پر قومی اسمبلی میں تقریر کرتا رہتا ہے۔ اپنے پسماندہ ضلع چترال کے مسائل کی طرف بہت کم توجہ دیتا ہے اور عوامی مسائل کی طرف ان کی توجہ دلانے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتا ہے۔


2018 کے انتخابات میں چترالی عوام نے مذہبی جماعتوں پر اعتماد کرکے ان کو ووٹ دیا تھا۔ موجودہ مذہبی جماعت کے نمائندوں نے اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے چترالی عوام کو مایوس کردیا ہے۔ دو سال بعد آنے والے انتخابات میں وہ اپنی ناقص کارکردگی کاچترالی عوام کے سامنے کیا جواز پیش کریں گے؟ اب چترالی عوام بیدار ہوچکی ہے۔ اب ان کو دلفریب نعروں اور جھوٹے وعدوں سے نہیں بہلایا جاسکتا۔ موجودہ مذہبی جماعت کے نمائندوں نے اپنے مایوس کُن کارکردگی سے آئندہ انتخابات جیتنے کا راستہ کھو دیا ہے۔ اب مذہبی جماعتوں سے چترالی عوام کااعتماد اور اعتبار اٹھ چکا ہے کیونکہ چترالی عوام نے ویلج کونسل سے لے کر قومی اسمبلی تک مذہبی جماعتوں کو ووٹ دیا تھا مگر یہ مذہبی جماعتیں عوام کے مسائل حل کرنے میں بُری طرح ناکام ہوئے۔
کاش کہ اے بسا آرزو کہ خاک شُد!

عبدالباقی چترالی موڑکھو


شیئر کریں: