Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کچھ ہونے والا ہے ؟ – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

  پاکستان کی فضا میں آئے دن نت نئے سیاسی نعرے اور صدائیں گونجتی رہتی ہیں، مختلف سیاسی و مذہبی پلیٹ فارموں سے نئے نئے مطالبات منظرعام پر آتے رہتے ہیں، یہ سب نعرے عوام کی نمائندگی کے دعوے کے ساتھ سامنے لائے جاتے ہیں، لیکن اس کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرتے ہوئے، ان کے پسِ منظر پر نگاہ ڈالیں تو ان میں سے اکثر و بیشتر صداؤں کا اصل مقصد سیاسی مفاد پرستیوں اور حصول اقتدار کی کشمکش سے زیادہ نہیں ہوتا، کہیں سیاسی مستقبل کے تحفظ کے نام پر، کہیں جداگانہ قومی تشخص کے نقاب میں، کہیں نام نہاد نسلی حق خودارادیت کی خاطر، آپ دیکھیں گے کہ جس سیاسی طالع آزما کو اپنی ہوس اقتدار کے لئے کوئی نعرہ زیادہ کارآمد اور سازگار نظر آتا ہے، وہ اُسے لے کر میدان میں رنگ برنگ جھنڈے لہراتا دکھائی دیتا ہے، اسے اس کا قطعاً احساس نہیں ہوتا کہ منفی طرزِ عمل سے ملک کے مستقبل پر کیا اثر ہوگا، اس سے قوم کی وحدت و اتحاد کے تقاضے کس طرح زیر و زبر ہو کر رہ جائیں گے، اس سے حیاتِ ملّی میں کس قدر انتشار رونما ہوگا، کوئی قطعاً نہیں سوچتا کہ یہ مفروعی مفاد کے لئے نعرے بازی اور ہنگامہ آرائیاں اس مملکت کو (خدا نہ کرے) کس انجام سے دوچار کریں گی، جس کے حصول و قیام کے لئے اس قدر عظیم جنگ لڑی گئی، دفاع و تحفظ کے لئے سیکڑوں ماؤں کے نور نظر قربان ہوئے اور ہزاروں انسانوں کو بیش بہا قربانیاں دینی پڑیں


پاکستان جس صورت حال کا سامنا کررہا ہے، ان حالات کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے لئے ہماری قومی صفوں میں جس قدر وحدت و اتحاد کی ضرورت ہے، اسی کی روشنی میں اندازہ لگالیجیے کہ فروعی مفادات کا رجحان ہمیں کس تباہی سے دوچار کرسکتا ہے اور یہ ذہنیت قومی منافرت کے کس جہنم کو دعوت دے رہی ہے، سیاسی عدم بصیرت کا رجحان اس سے قبل بھی قومی زندگی میں فتنہ و شر کی چنگاریاں بکھیرتا رہا، مشرقی پاکستان (بنگلادیش) میں صوبائیت اور اختیارات کے نام پر چلائی جانے والی تحریک نے ایسی نازک صورت اختیار کرلی کہ اور تو اور خود ہمیں بھی مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ ملک کی سالمیت کے نام پر وہ کچھ ہوگیا جس کا تصور بھی نہیں کیا گیا تھا، آج تک سقوط ڈھاکا کے محرکات کے پس پردہ حقائق کماحقہ (بظاہر) سامنے نہیں آسکے، قوم کے اذہان منتشر رہے کہ ملکی نظام و انصرام کو مضبوط رکھنے کے لئے کیسا طرز حکومت اختیار کیا جائے اور ذہنی تربیت کی ایسی کیا موثر صورت پیدا کی جائے کہ قیامِ پاکستان کے لئے دیکھا جانے والا خواب مزید نہ بکھر سکے


عصبیت، لسانیت، نسل پرستی، فرقہ واریت، مسلکی منافرت کی دبی ہوئی چنگاریوں کو کسی نہ کسی عنصر کی جانب سے وقتاً فوقتاً بھڑکانے کے مواقع، کسی نہ کسی طالع آزما کو مل جاتے ہیں، یعنی جب جی چاہے اس خاکستر کو ہوا دے اور چنگاریوں کو بھڑکا کر ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈال دے۔ پارلیمان کا کردار بادیئ النظر ثانوی سا ہوگیا ہے، اُدھر سیاسی پنڈت کچھ کہنے لگے ہیں کہ تبدیلی کے سفر کے تمام موڑ ختم ہونے والے ہیں اور گھبراہٹ سے بچنے کے لئے سامنے صرف دو راستے ہی بچیں گے، جس میں ایک راستہ ملک کو مزید تباہی کی طرف لے جاسکتا تو دوسرا راستہ سلامتی کا ہے، لیکن اس کے لئے اتحاد و اتفاق کی اُس ملّی وحدت کی ضرورت ہوگی جو قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرسکے، لیکن موجودہ حالات میں سمجھا جاسکتا ہے کہ تمام صورت حال کا سیاسی اور ہنگامی حل موجود ہے، لیکن مستقل اور قطعی حل نہیں۔ اس کا مستقل حل وحدتِ مقصد کے ذریعے پیدا ہوسکتا ہے اور ذاتی طور پر میں بھی سیاسی پنڈتوں سے اتفاق کرتا ہوں کہ جو بار بار سیاسی طوفان اٹھتے رہے اور مفاد پرستیوں نے ہنگاموں کو قدم قدم پر جنم دیا، اس نے قوم کی وحدتِ مقصد کی نعمت بے نصیب ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔


قیام پاکستان کے لئے منظم اور طاقت ور دشمن کے مقابل حقِ خود ارادیت کے حصول کی جو جنگ قائداعظمؒ کی سالاری میں لڑی گئی، اس معرکہ آرائی کے فاتحانہ انجام کا باعث وحدتِ مقصد کے سوا کچھ نہ تھا، رنگون سے لے کر پشاور تک ہماری ملّت کے کروڑوں افراد کے سامنے ایک مقصد اور ایک منزل تھی، اس جنگ میں کوئی بھی بنگالی، پنجابی، سندھی، بلوچ اور پختون کی حیثیت سے شریک نہیں تھا، سب ملّت واحدہ کے افراد کی حیثیت سے ایک بنیان مرصوص کی سی وحدت میں ڈھل گئے تھے، انہوں نے یہ ملک ایک قوم کی حیثیت سے اور ایک قوم کے نام پر حاصل کیا اور اُس وقت یہ کسی تصور میں نہیں آسکتا تھا کہ اس مملکت میں لسانی اکائیوں کے نام پر کوئی بھی عصبیت کو قومی تشخص کی حیثیت سے ابھارے گا۔


آج بھی مملکت ِ پاکستان کی سالمیت اور بقا و استحکام کا جذبہ محرکہ وحدتِ مقصد کے سوا اور کوئی نہیں بن سکتا، جب ہم نے اپنی جداگانہ مملکت کے قیام کی وجہِ جواز کے طور پر خود کو ایک قوم کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا تو اس ایک قوم کے دعوے کی بنائے اشتراک وطن، صوبے، رنگ یا نسل کا کوئی تصور نہیں تھا بلکہ یہ بنائے اشتراک اسلام اور صرف اسلام تھا، یہ دعویٰ تھا کہ چونکہ ہم سب مسلمان ہیں، اس لیے ہم ایک قوم ہیں۔ بدقسمتی سے وحدتِ مقصد سے محرومی اور بے نصیبی کا نتیجہ ہے کہ آج اس مملکت کے بے حس گروہ کا کوئی فرد نہ ملک کے مفاد کو اپنا مفاد سمجھتا ہے اور نہ اس کے نقصان کو اپنا نقصان، جب یہ سوال پیدا ہوکہ فلاں اقدام سے ملک کو نقصان پہنچے گا تو بے شعور و بے حس گروہ اس کا کوئی گہرا اثر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، جب ایک مملکت میں صورت یہ پیدا ہوچکی ہو کہ چند خاندانوں کو معاشی اجارہ داری ہو اور باقی کروڑوں ان کی جلبِ زر کے ہاتھوں ضروریات زندگی تک سے محروم ہوتے جارہے ہوں تو وہ کیونکر ایک قوم کے نجات دہندہ قرار پاسکتے ہیں۔ جب تک افرادِ ملّت میں سچی وحدت اور اتحاد قائم نہیں ہوگا، اُس وقت تک چند بااثر خاندانوں کے فتنہ شر کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔


ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں


شیئر کریں: