Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت احساس راشن پروگرام کے تحت فوری اقدامات کر رہی ہے۔ کامران بنگش کا اعلان

شیئر کریں:

مہنگائی مقامی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے پوری دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں آ چکی ہے دنیا میں 50 فیصد جبکہ پاکستان میں 9 فیصد مہنگائی آئی ہے


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش نیحکومت کی طرف سے صوبے کے نادار اور کمزور طبقوں کیلئے احساس راشن پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ضم اضلاع سمیت صوبے بھر کیلئے وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلی محمود خان کی طرف سے خصوصی ریلیف پیکیج ہے جس میں صوبائی حکومت نے 13 ارب روپے جبکہ وفاقی حکومت نے 7 ارب روپے شامل کئے ہیں منگل کے روز یہاں اطلاع سیل پشاور میں میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرونا وباء کے بعد مہنگائی اور غربت کی تباہ کن عالمی لہر کے تناظر میں اس پیکیج سے غربت اور مہنگائی ختم نہیں ہوگی مگر وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب سے یہ پیکج اپنے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت ضرور تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مہنگائی کی لہر پر مکمل کنٹرول میں چند ماہ لگیں گے جس کیلئے قومی اور عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں تاہم احساس راشن پروگرام 6 ماہ سے زائد جاری رکھا جائے گا جبکہ راشن غریب ترین طبقوں تک انکی دہلیز پر پہنچانے کیلئے آسان ترین طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔

اس مقصد کیلئے بڑے بازاروں کے علاؤہ شہری و دیہی سطح پر کریانہ سٹور بھی استعمال کئے جائیں گے ملک میں 8 سے لیکر 10 لاکھ کریانہ سٹورز ہیں احساس پروگرام کے تحت قومی سطح پر 2 کروڑ خاندانوں جبکہ خیبرپختونخوا میں 26 تا 30 لاکھ خاندانوں کو فائدہ ہو گا تاہم ہمارا ہدف صوبے کی ساڑھے تین کروڑ آبادی کو ریلیف کی فراہمی ہے جس کیلئے وزیراعلی پوری تندہی سے کوشاں ہیں کامران بنگش نے مہنگائی کی موجودہ صورتحال میں حکومتی اقدامات سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ مہنگائی مقامی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے پوری دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں آ چکی ہے دنیا میں 50 فیصد جبکہ پاکستان میں 9 فیصد مہنگائی آئی ہے افسوسناک بات یہ ہے کہ ہماری قومی معیشت کا سارا دارومدار اور انحصار درآمدات پر ہے اور اس میں توازن کیلئے ہماری حکومت کو ابھی وقت درکار ہے انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں 20 سال بعد، انگلینڈ و امریکہ میں 9، چائنا میں 20 جبکہ جرمنی میں 28 سال بعد مہنگائی کی زبردست لہر آئی یے زندہ قوموں کو ایسے بحرانوں کا سامنا ہوتا ہے اور وہ خندہ پیشانی سے ان کا مقابلہ بھی کرتی ہیں کامران بنگش نے کہا کہ کوویڈ – 19 کے باوجود قیمتوں کو مستحکم رکھا گیا ہے حالانکہ ہمارے ہمسایہ ممالک بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں مہنگائی کی شرح پاکستان سے کافی زیادہ ہے ہم نے بحران سے بچنے کیلئے گندم گزشتہ سال امپورٹ کی ہے آج بھارت میں آٹا کی فی کلو قیمت 83 اور بنگلہ دیش میں 83 روپے جبکہ پاکستان میں 50 سے 60 روپے ہے وہاں پیٹرول کی قیمت دگنی بڑھ چکی ہے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 2020.21 میں گندم کی مد میں 11 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔


شیئر کریں: