Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان -” دور جدید کے تعلیمی تقاضے اور ہماری بچیاں” -محمد جاوید حیات

شیئر کریں:

دور کے ساتھ ساتھ اقدار بھی بدلتے رہتے ہیں اور خاص کر دور ترقی کر رہا ہو۔قران نے خود اشارہ دیا کہ ہم دور کے مطابق انسان پیدا کریں گے لیکن ضروری نہیں کہ دور ترقی ہی کر رہا ہو۔اللہ کی یہ وسیع کائنات تغیر پذیر ہے اس میں تبدیلیاں ہی تبدیلیاں ہیں۔۔


ٓٓٓآزل اس کے پیچھے ابد سامنے نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے لیکن انسان کبھی اس دنیا میں بے لگام نہیں رہا اللہ کی طرف سے ہدایات آتی رہیں۔ رہنمائی آتی رہی یہ حقیقت ہے کہ اس پر کماحقہ عمل کم کم ہوتا رہا ہر دور میں ان ہدایات کی تشریحات لو گ اپنی انسانی کمزوری اور خواہشات کی بنیاد پر کرتے رہے۔آخری نبی ؐ جب تشریف لایے تو آپ ؐ کے ساتھ ”دین فطرت” آیا ہر دور کے انسانوں کی ضروریات کے مطابق دین جس میں زندگی کی ہر سرگرمی اور ہر میدان کے لیے گنجائشیات موجود ہیں۔لیکن اس میں بھی دور کیساتھ ساتھ خودساختہ سکالرز نے تحریفات کی کوششیں کرتے رہے جو تا حال جاری ہے لیکن علمائے حق کی جدوجہد اپنے طور پر جاری ہے۔۔
اللہ کریم نے مخلوقات کے جوڑے جوڑے بنائے اور اشرف المخلوقات میں مرد عورت کا جوڑا ہے ان کے حدود ہیں ان کی سرگرمیوں ان کی لایف سٹائل ان کے فرائض کی وضاحت ہے۔کبھی بھی اگر ایک مرد عورت کی جگہ لینے کی کوشش کرے تو اپنے مقام سے گر جاتا ہے اور اسی طرح جب ایک عورت اپنے حدود اور مقام کا خیال نہ رکھے تو وہ بھی پاتال میں گرتی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ چترال تہذیب کا گڑھ تھا مرد عورت اپنے اپنے مقام پہ تھے عورت کا پردہ اس کی خوبصورتی تھی اس کا بدن چھپانا،غیر مرد کے سامنے نہ آنا،محفلوں سے دور رہنا،بڑھوں کے سامنے بات نہ کرنا،بغیر ضرورت گھر سے باہر نہ نکلنا اپنی عزیمت کی پاسداری کرنا ان کی خوبصورتی تھی۔ہمیں یاد ہے کہ گھر میں ریڈیو میں پروگرام چلتا تو خواتیں مردوں کے سامنے گانے نہ سنتیں۔اٹھ کے دوسرے کمرے میں چلی جاتیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو موجود نسل کے ابا و اجداد ہیں جو مخلوط موسیقی،روشن خیالی،جدید دور کے تقاضے،عورتوں کے حقوق، سائنسی ترقی وغیرہ کی حمایت میں ان اقدار کے پاسداروں کو لکیر کے فقیر کہتے ہیں جو چترالی تہذیب اور اسلامی اقدار کی بات کریں۔۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ماں سے سنا ہے بیٹی! سر سے دوپٹا گر نہ جائے۔۔۔بیٹا! اپنی جوانی کا خیال رکھو شرم و حیاء کا پیکر بنو۔۔لیکن آج کی بچی اپنے دوپٹے کا خیال نہیں رکھتی۔۔جب برقعہ پہنتی تھی تو راہ چلتے اس کے احترام میں درو دیوار جھک جاتے۔۔جوان بھائی سر جھکا کے قریب سے نکلتے۔ان کی عظمت کی خوشبو سے ماحول معطر رہتی۔ انہوں نے پڑھی لکھی بھی آفیسر بھی بن گئیں۔ان کا برقعہ ان کا پردہ کبھی ان کی تعلیم کی راہ میں روکاوٹ نہیں بنے۔ایک زمانہ تھا کہ چترال کی بیٹی دنیا کے لیے مثال تھی یونیورسٹی میں لوگ اپنے بچوں کو نصیحت کرتے کہ چترالیوں کو دوست بناؤ تہذیب شرافت سیکھو محنت اخلاق سیکھو۔لیکن آج روشن خیالی کے نام سے جب سر سے دوپٹا گرنے لگا ہے تو ہم نے ان روشن خیال بیٹی کو بھی کہیں کمال کرتی نہیں دیکھا۔ وہی رسمی سی تعلیم ہے۔

اگر کوئی بیٹی کسی ٹسٹ میں کامیابی حاصل کرتی ہے بڑے فخر سے ننگے سر تصویر لگاتی ہے اگر دوپٹہ پہنتی تو دنیا کہتی یہ لو یہ چترالی بچی ہے نہلے پہ دھلا ہم۔۔۔اس کی حمایت بھی کرتے ہیں اس بچی کی تعریف بھی کرتے ہیں۔اگر اس سے کہتے کہ بیٹا دوپٹا پہنا کرو تو کیا اس کی قابلیت تلف ہو جاتی یا وہ ٹسٹ کوالیفائی نہ کرتی۔یہی حوصلہ افزائی ہے کہ ہم نے گانا ناچنا شروع کر دیا ہے۔جب بیٹیاں برقعہ پہنا کرتی تھیں تو والدین فخر محسوس کرتے کہ یہ لو میری بچی ہے۔یہ برقعہ کہیں گیا نہیں اور نہ اسلام کی بیٹیوں کی کمی ہے ہر سال اسلامک یونیورسٹی سے بیٹیاں بڑی بڑی ڈگریاں لے کے نکلتی ہیں ان سے جا کر پوچھو کہ کیا تمہارا برقعہ تمہاری محنت میں روکاوٹ ہوئی۔ دوسرے کئی ادارے ہیں جہان برقعہ کلچر موجود ہے۔۔

دارالعلوم تو دینی ادارے ہیں۔۔آج بھی ہسپتالوں میں تحریکی بیٹیاں برقعے میں ہیں ڈاکٹر ہیں بڑے عہدوں پر ہیں زندگی کے کسی بھی\ شعبے میں ان بیٹیوں کی کمی نہیں ہمارے پارلیمنٹ میں باپردہ خواتیں نمایندے بیٹھتی ہیں ٹی وی شوز میں آتی ہیں کیا ان با پردہ خواتیں کے ساتھ برا لگتا ہے البتہ ان لوگوں کو برا لگتا ہوگا جو سرے سے اس سٹائل کی حمایت میں نہیں۔۔ایک مقامی یونیورسٹی کے ایک چھوٹے سے واقعے کو لے کر بہت بحث چھیڑی ہے دونوں طرف سے دلائل ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یوں ہے کہ اسلامی شعائر کو قبول کرنا ہی پڑے گا اگر کوئی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔

اگر کسی عالم نے خواہ وہ امام غزالی،جاویدغامدی یا کوئی اور ہی کیوں نہ ہو موسیقی پہ بحث کی ہے تو کسی حد تک کی ہے۔اس نے مخلوط ناچ گانے پہ تو نہیں کی اور نہ اس کو جائز کہنے کی جسارت کی ہو۔دوسرے اداروں ملکوں اور معاشروں کا حوالہ دینے والے بھی یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ وہ اچھا کر رہے ہیں۔یہ جہاں بھی ہے اچھا نہیں ہم مسلمان ہیں ہمارے مذہب جس کی ہمیں اجازت دیتا ہے وہ ٹھیک ہے۔ہر ایک مذہب کے اپنے حدود ہیں ہمارے لیے کوئی مذہب مسلک یا فرقہ سند نہیں نہ مثال ہے۔اور نہ ان احکامات میں گنجائش نکالنے کی ضرورت ہے۔

ہماری تعلیم ہماری تربیت ہمارے ادارے انہی اسلامی حدود کے اندر کام کرتے ہیں اور کرنا چاہیے۔۔کسی بھی سرگرمی کے لیے ان کے سامنے ایسا معیار ہونا چاہیے جو اسلامی اقدار اور علاقے کی تہذیب و ثقافت سے متصادم نہ ہو اس میں معاشرے کے تحفظات بھی شامل ہیں۔چترال کی ثقافت صرف ناچ گانا ہی نہیں۔۔چترالیت ایک الگ Subject ہے اس کو ایسا محدود کرنا دانشمندی نہیں۔۔
بے شک آج کا دور جدید ہے سائنسی ہے لیکن تعلیم حاصل کرنے کی راہ میں ہمارے اقدار بالکل رکاوٹ نہیں۔۔۔۔


شیئر کریں: