Chitral Times

Dec 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بلدیات کا اجلاس؛غیرقانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کے خلاف کاروائی کی سفارش

شیئر کریں:


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بلدیات، انتخابات ودیہی ترقی کا اجلاس بروز جمعہ کو اسمبلی کانفرنس ہال پشاور میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے چیئر مین و رکن صوبائی اسمبلی مولانا لطف الرحمن نے اجلاس کی صدارت کی۔ 

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بلدیات کے چیئر مین و رکن صوبائی اسمبلی مولانا لطف الرحمن نے ہر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی سطح پر محکمہ بلدیات کی ملکیتی پراپرٹیز کی تفصیلات، ان سے موصول آمدنی اور لیز پالیسی پر کمیٹی کو بریف کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یہ احکامات انہوں نے کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہؤے جاری کئے۔اس موقع پر ایم پی اے ریحانہ اسمعیل کی جانب سے صوبے میں موجود ہاؤسنگ سوسائٹیز کی موجودگی بارے میں سوال کے جواب میں اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر کل 58 رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں۔ چیئرمین مولانا لطف الرحمن نے صوبہ میں   بڑھتی ہوئی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کیلیے موثر اقدامات اٹھانے جبکہ ایم پی اے ریحانہ اسمعیل نے اس حوالے سے صوبائی سطح پر بھی قانون سازی کرنے پر زور دیا۔

اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے شرکاء کو بتایا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف محکمہ بلدیات کاروائیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اصولوں کے تحت کسی بھی ضلع میں تعمیر ہونے والی غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹی کے لئے متعلقہ ٹی ایم او، ضلعی انتظامیہ اور لوکل ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی جواب دہ ہوں گے۔ ریحانہ اسمعیل کی درخواست پر چیئرمین کمیٹی نے اگلے اجلاس میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی روک تھام کے لئے محکمانہ اقدامات، عوامی آگاہی، اور مرتکب لوگوں کیے خلالف درج ایف آئی آرز کی مکمل تفصیلات ممبران کو پیش کرنے کے احکامات جاری کئے۔اجلاس میں ایم پی اے شگفتہ ملک کی جانب سے لوکل کونسل بورڈ کے زیر نگران ٹاؤنز اور تحصیل انتظامیہ ٹریڈ لائسنس کے اجراء اور محصولات سے متعلق سوال کے حوالے سے موصول شدہ جواب انہوں نے ناکافی و غیر تسلی بخش قرار دیا۔

ایم پی اے شگفتہ ملک کی درخواست پر چیئرمین مولانا لطف الرحمن نے انتظامیہ کو ہر ٹاؤن و تحصیل سطح پر پچھلے 5 سالوں میں جاری کردہ کاروباری لائسنس، قواعد و ضوابط، فیس کے مد میں موصول رقم، اور جاری کردہ ٹریڈ لائسنس مالکان کے نام، کاروبار کی تفصیل اور لائسنس جاری کنندہ آفیسر کی مکمل معلومات و تفصیلات پر کمیٹی کو بریف کرنے کی ھدایات جاری کیں۔ شگفتہ ملک نے محکمہ کی جانب سے موصول جواب میں ذکر کردہ نکات کہ کاروباری طبقے پر ٹیکس کم کرنے سے ان کو تقریبا 158 ملین کا استفادہ ہوا ہے اور یہ کہ بین الاقوامی سطح پر اس کو سراہا گیا ہے، سے متعلق بھی کمیٹی ممبران کو تفصیلات سے آگاہ کرنے کی درخواست پر انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی۔ اجلاس میں ایم پی اے بصیرت خان نے بھی ضلع خیبر میں 2018 تا 2021 تک مختلف آسامیوں پر تعیناتیوں سے متعلق سوال کے موصول شدہ جواب کو نا مکمل قرار دیا۔ جس پر چیئرمین مولانا لطف الرحمن نے انتظامیہ کو مذکورہ معلومات بمعہ بھرتیوں کے لئے قواعد، قانون اور تمام بھرتی شدہ افراد کی درخواستیں، ان کے ڈومیسائل، تعلیمی اسناد، بھرتی آرڈر، موجودہ پوسٹنگ آرڈر، اخباری اشتہارات، سکیل اور بھرتی سلیکشن کمیٹی ممبران کے ناموں کی مکمل تفصیلات اگلے اجلاس تک فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے۔

اس موقع پر ایم پی ایز محمد شفیق آفریدی اور شگفتہ ملک کی درخواستوں پر محکمہ بلدیات انتظامیہ کو تحصیل میونسپل آفیسر کی تعیناتی اور ان کی پوسٹنگ ٹرانسفر سے متعلق محکمانہ پالیسی پر کمیٹی کو بریف کرنے کے احکامات بھی جاری کئے گئیں۔ ایم پی اے محمد شفیق آفریدی نے ضم اضلاع میں محکمہ بلدیات اور اس کے تمام ذیلی اداروں کی بھرپور فعالیت کے لئے بروقت موثر اقدامات اٹھانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تحصیل تیرا میدان ضلع خیبر میں محکمہ بلدیات کی جانب سے تعینات کردہ صرف تین سنیٹیشن اور سینیٹری ورکرز کی تعیناتی کو ناکافی قرار دیا۔ جس پر محکمہ لوکل گورنمنٹ کے اسپیشل سیکرٹری نے موقع پر ہی 2 مزید سینیٹری ورکرز کو وہاں پر تعینات کرنے کا وعدہ کیا۔ ایم پی اے فیصل زمان نے محکمہ بلدیات کی تمام خالی آسامیاں پر کرنے، تحصیل میونسپل افسران کو تمام ضروری سہولیات مہیا کروانے اور ٹھنڈے علاقوں اور دیہات میں برفباری کے دنوں میں مقامی سڑکوں کو آمد و رفت کے لئے ہمہ وقت صاف رکھنے کے لئے مناسب حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ جس کے جواب میں اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ 15 نومبر سے 15 مارچ تک ہر ضلع کے ڈی سی اور ٹی ایم او کے دفاتر میں کمپلینٹ سیل کھولنے کے لئے امور استوار کر چکی ہے۔

اجلاس میں ایم پی اے سردار اورنگزیب نلوٹھا کی درخواست پر چیئرمین کمیٹی مولانا لطف الرحمن نے ہر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی سطح پر محکمہ بلدیات کی ملکیتی پراپرٹیز کی تفصیلات، ان سے موصول آمدنی اور لیز پالیسی پر بھی کمیٹی کو بریف کرنے کے احکامات جاری کئے۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی و اراکین صوبائی اسمبلی فیصل زمان، بصیرت خان، محمد شفیق آفریدی، سردار اورنگزیب نلوٹھا جبکہ ایم پی ایز ریحانہ اسمعیل اور شگفتہ ملک کی بطور محرکین شرکت کرنے سمیت ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ، ایڈیشنل ڈی جی ہاؤسنگ پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ افسران کے بشمول اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔


شیئر کریں: