Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خسرہ اورروبیلا سے بچاو کی ویکسینیشن مہم کو کامیاب بنا نے کیلئے اقدامات یقینی بنائیں۔چیف سیکریٹری

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے ہدایت کی ہے کہ صوبے میں رواں ماہ 15 نومبر سے 27 نومبر تک جاری رہنے والی خسرہ اور روبیلا سے بچاو کی ویکسینیشن مہم کو کامیاب بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات یقینی بنائے جائیں جبکہ خسرہ اور روبیلا ویکسینیشن مہم بارے میں منصوبہ بندی سے متعلقہ حکام کو بروقت آگاہ کیا جائے۔ یہ ھدایات چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

ٹاسک فورس اجلاس میں گزشتہ انسداد پولیو مہم کے جائزے سمیت رواں ماہ خسرہ سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم کے حوالے سے اقدامات اور انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی و چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے صحت رابعہ بصری، سیکرٹری اطلاعات، سیکرٹری صحت، ڈویژنل کمشنرز، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز، کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخوا، ای پی آئی ڈائریکٹر محمد عارف، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو ای او سی کوآرڈینیٹر نے آگاہ کیا کہ پچھلے 15 ماہ سے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس نہیں پایا گیا۔

انہوں نے کچھ اضلاع میں پولیو ورکرز کو معاوضے کی ادائیگی میں التواء بارے میں آگاہ کیا جس پر چیف سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ پولیو ورکرز کو معاوضے کی ادائیگی میں پیچیدگیوں کو ختم کرکے جلد ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ ای پی آئی ڈائریکٹر نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے میں امسال خسرہ کے مصدقہ کیسز کی تعداد 2638 ہے۔ انہوں کہا کہ خسرہ سے بچاو کی ویکسینیشن مہم 15 نومبر سے 27 نومبر تک جاری رہے گی جس میں صوبے بھر میں 13741 ٹیمیں حصہ لیں گی اور 15ملین بچوں کو ویکسین لگوائی جائے گی۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں خسرہ سے بچاو ویکسینیشن مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ضلعی انتظامیہ ضروری اقدامات جلد یقینی بنائیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ اطلاعات اور محکمہ صحت مل کر خسرہ سے بچاو کی ویکسینیشن مہم بارے میں عوام کو آگاہی دینے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔

چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے کہا کہ تمام اداروں کی انتھک محنت اور کاوشوں سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں اور اسی طرح خسرہ سے بچاؤ کے لئے بھی سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مہلک مرض سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔


شیئر کریں: