Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محبت میں ناکامی سے جسم فروشی تک- تحریر: افضال احمد

شیئر کریں:


یو ٹیوب پر جسم فروش خواتین کی زندگی کے حوالے سے حقیقی ڈاکومنٹری پر مبنی ویڈیوز دیکھنے کے بعد قلم اٹھانے پر مجبور ہوا۔ ویڈیوز بناوٹی نہیں تھیں حقیقی جسم فروش خواتین پر مبنی تھیں، جسم فروش خواتین سے انٹرویوز لیے گئے تو اُن کا کہنا تھا کہ ہم جتنی بھی احتیاط کر لیں ہمارے دھندے میں عورت کی موت کسی بڑی بیماری ایڈز، کینسر، ٹی بی، ہیپاٹائٹس سے واقع ہوتی ہے کوئی جلدی ان بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے اور کوئی دیر سے لیکن ہوتا ضرور ہے، دوسری طرف جب اولادوں کو پتہ چلتا ہے کہ ہماری ماں اس دھندے میں ملوث ہے تو اولادیں نفرت کرنے لگتی ہیں، یوٹیوب پر ایک چینل پر تقریباً 50 جسم فروش عورتوں کے انٹرویوز دیکھے 50 کی پچاس لڑکیاں انٹرویوز کے دوران رونے لگ گئیں کہ ہم اس دھندے سے بہت تنگ ہیں کوئی ہمیں اس دھندے سے نہیں نکالنا چاہتا، انٹرویوز میں خواتین نے بتایا کہ ہمیں مختلف جگہوں پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، پیسے بھی نہیں دیئے جاتے اور ایک انسان سے برائی کا کہہ کر بیس انسانوں کے آگے پھینک دیا جاتا ہے اور ہم وہاں کچھ بھی نہیں کر پاتیں۔ دل چیر دینے والی ویڈیوز تھی، پتہ نہیں مجھے اس پر لکھنا چاہئے تھا کہ نہیں، لیکن اصلاح کے نظریے سے لکھ رہا ہوں۔


جسم فروشی معاشرے کا خطرناک المیہ بن چکا ہے۔ جسم فروشی کے دھندے میں سب سے زیادہ وہ خواتین پائی جاتی ہیں جو گھروں سے اپنے عاشقوں کے چکروں میں بھاگ نکلتی ہیں اور آگے اُن کے عاشق انہیں دھوکہ دے دیتے ہیں، دوسری کیٹگری اُن خواتین کی ہوتی ہے جو عیاشی اور اپنی عیاشیوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے اس راستے کو چنتی ہیں، تیسری کیٹگری اُن خواتین کی ہوتی ہے جو اپنا اور اپنے ساتھ جڑے پیٹوں کو پالنے کی خاطر اس راستے پر چلتی ہے، میں ان تینوں مجبوریوں کو سرے سے مانتا ہی نہیں، پہلی دو کیٹگری میں تو عورت خود کیساتھ خود دشمنی کرتی ہے اور خود سمیت اپنے پورے خاندان کی عزت خاک میں ملا دیتی ہے، تیسری کیٹگری کہ اپنا اور بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے جسم فروشی کی جاتی ہے، یہ بھی میں نہیں مانتا، میرا ماننا ہے کہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے مانگو اللہ تعالیٰ آپ کو غلط راستے سے بچائیں گے اور آپ کیلئے زمین پر ایسے ذرائع پیدا کر دیں گے کہ آپ کو غلط راستے پر نہیں چلنا پڑے گا بشرطیکہ کہ آپ ذریعہ بننے والے انسان کا احترام کریں، جب آپ کی سوچ کا محور ہی یہ ہو گا کہ جسم فروشی کروں گی تو پیسہ ملے گا تو آپ ذہنی بیماری میں مبتلا ہیں، آپ پیدا کرنے والے رب سے مایوس ہیں اور مایوسی پہلا گناہ ہے، اس گناہ کے بعد انسان دوسرے گناہوں کی جانب بھاگتا ہے۔


گھر سے بھاگنے والی لڑکی عاشقوں کے دھوکہ کے بعد یا تو موت کے منہ میں چلی جاتی ہے یا پھر کسی کوٹھے کی زینت بن کر عمر بھر وحشی درندوں کی درندگی کا شکار ہو کر روز مرتی ہے، گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں ناجانے یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ جس کی خاطر آپ سب کو چھوڑ کر گھر سے بھاگ رہی ہو وہ آپ کیساتھ کیا سلوک کرے گا؟ کامن سی بات لڑکیوں کو سمجھ نہیں آتی کے ایک بے سہارا، لاوارث لڑکی کے ساتھ ہمارا معاشرہ کیا سلوک کرتا ہے؟ آپ اچھے بھلے وارثوں کے ہوتے ہوئے بھی ایک دو ٹکے کے عاشق کی خاطر گھروں سے بھاگ نکلتی ہو، اتنی تو عقل کرو کہ جو لڑکا آپ کو گھر سے بھاگنے کو کہہ رہا ہے کیا وہ عزت دار ہو گا؟ وہ آپ کی عزت کرے گا؟ تم لڑکیوں کو کیوں بھول جاتا ہے کہ جن والدین نے تمہیں اتنے ناز نخرے سے پال پوس کر بڑا کیا، تم انہیں دھوکہ دے کر دو ٹکے کے عاشق کیساتھ خوش رہ لو گی؟ کوئی ایک لڑکی مجھے دکھا دو جو گھر سے بھاگ کر سکھی ہو؟ جو عاشق ہوتا ہے وہ کبھی اپنی محبت کر رسواء نہیں کرتا، جو پہلا قدم ہی غلط اٹھانے ”گھر سے بھاگنے“ کو کہہ رہا ہو وہ عاشق نہیں دو ٹکے کا عاشق ہوتا ہے اور یاد رکھنا جس عاشق کا پہلا قدم ہی دو ٹکے کا ہو گا وہ آپ کیساتھ آگے چار ٹکے کا سلوک کرے گا اور جو لڑکیاں عاشق کو خود مجبور کریں بھاگنے کیلئے تو یاد رکھو لڑکیوں ایسی لڑکی کیساتھ نہ دو نہ چار بلکہ 8 ٹکے کا سلوک ہوتا ہے۔


ہمیں دو وقت کی روٹی کے حصول کی خاطر جسم فروشی کرنیوالی خواتین کا سہارا بننا چاہئے۔ ہمیں اس برائی کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ میرے نزدیک اس سے بڑا کوئی کام نہیں کہ ایک مجبور عورت کے اخراجات برداشت کرکے یا اسے کوئی عزت دار روزگار فراہم کرکے برائی سے روکا جا سکے۔ جسم فروشی بیماریوں کا سبب بن رہی ہے، جس کا احساس نہ جسم فروش عورت کو ہے نہ جسم خرید کرنے والے مرد کو ہے۔ دنیا بھی خراب آخرت بھی خراب، دونوں کا انجام عبرتناک موت ہوتا ہے۔ دو وقت کی روٹی کی خاطر برائی کرنیوالی خواتین کی مدد کرنا ہمیں اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہئے اور ہر پل اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اے میرے رب مجھے اتنی طاقت اور وسائل دے کہ میں اس برائی کے کام میں ملوث مجبور خواتین کو برائی سے بچا کر سکھی زندگی کی طرف لا سکوں۔ کہتے ہیں کہ کسی کو نصیحت کرنے سے پہلے خود اس پر عمل کرنا چاہئے، الحمد للہ! اللہ تعالیٰ کی دی توفیق اور وسائل کے ذریعے اس عمل کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ اس دھندے میں ملوث خواتین سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ایک بار صرف ایک بار سچے دل سے توبہ کرکے اپنے پیدا کرنے والے رب سے مانگ کر دیکھو انشاء اللہ تمہارا رب تمہارے لیے کسی نہ کسی انسان کو ذریعہ بنا دے گا۔


شیئر کریں: