Chitral Times

Dec 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مختصر سی جھلک – ادھوری کہانی ادھورا خواب-فریدہ سلطانہ فَری

شیئر کریں:

 دنیا نام کے اس اسٹیج پرکچھ حقیقی کرداراپ کی کہانی کا بہت ہی اہم اورقیمتی حصہ ہوتے ہیں جن کے اِس اسٹیج سے اترجانے کے بعد چاہ کربھی وہ پھر سےاپ کی اِس کہانی کا حصہ نہیں بن سکتے۔ کیونکہ اپنے حصے کاکردار بخوبی نبھا کروہ لوگ اپ کی کہانی سے کچھ اس طرح سے نکل چکے ہوتے ہیں کہ پوری کی پوری کہانی ہمیشہ کے لئے ادھورے پن اوراداسی کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے اور یہ ادھورا پن اِس اسٹیج میں موجود ہرکردار کواس کےحساب سےمتاثر کردیتی ہے پھراس کے بعد اس کردار سے انسان کا واسطہ اور تعلق  ہمیشہ کے لئے منقطع ہوجاتا ہے ۔ یوں وہ اپ کے خوابوں اور خیالوں کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ ان کے بعد کوئی دوسرا ان کے حصے کا کرداربخوبی نبھا بھی نہیں سکتا۔۔۔۔۔کیونکہ کہتے ہیں کہ یہ کرداراللہ پاک کا وہ تحفہ ہے جس کاکوئی نعمل بدل ہی نہیں۔۔۔۔۔۔

 ایسے ہی زندگی نام کے اس کہانی میں بہت سے کرداروں میں سے ایک حقیقی کردارجس کا اس کہانی کے تمام کرداروں  سے بہت ہی گہرا تعلق ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ باپ کا کردار ہے۔۔۔۔۔ مگران تمام کرداروں میں سے  بیٹی کے کردار پر اس کا بہت ہی نمایا ں اور گہرا اثرپڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یقینا آپ سب میری اس بات سے اتفاق کریں گے۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کی اس کہانی میں باپ کا کرداراوررشتہ  تمام رشتوں پر بھاری ہے۔۔۔۔۔ خصوصا ایک بیٹی کے لئے با پ کی موجودگی اوراسکا سایہ دینا میں ہی کسی جنت سے کم نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باپ کی موجودگی کسی بھی بیٹی کے لئے راحت و سکون اور اعتماد کاباعث ہوتی ہے وہ آپ کو دُنیا سے لڑنے کے لئے ایک طاقت ہمت اورحواصلہ عطا کرتی ہے۔

باپ تو ایک چھت کی مانند ہوتا ہے جو آپ کو موسم کے سردو گرم ماحول سے تحفظ دیتا ہے۔حالات جتنے بھی ناساز ہوں وہ خود سامنا کرتا ہے۔ دن بھرکی مشقت کے بعد اُسے پہلا خیال اپنے بچوں کا آتا ہے کہ بچے میرے منتظر ہوں گے کیوں نہ جاتے ہوئے اپنی جیب کے مطابق ٹافی، سموسے، جلیبی یا ان کا من پسند کوئی کھلونا لیتا جاوں یا اس کو کوئی فرمائش یاد آجاتی ہے جوبچوں نے گھر سے نکلتے وقت کر ڈالی تھی۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ باپ قربانی کا دوسرا نام ہے۔

باپ کی  قدرو قیمت ان سے پوچھو جن کے سروں پہ باپ کا سایہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔مجھے اج بھی یاد ہے۔۔۔ اج سے کچھ سال پہلے۔۔۔۔۔ رمضان کا ۱۳ روزہ تھا۔۔۔۔ افطا رکے بعد میں کچن میں تھی اچانک میرے فون کی گھنٹی بجی اورمیں نے فون اٹھایا تو میرے بڑے بھائی دھیمی اواز میں بولے کہ فریدہ ابو کی طبعیت خراب ہے تم آجاوجلدی۔۔۔۔۔۔۔۔میرے بدن پہ کپکپی سی طاری ہوگئی۔۔۔۔۔مگر اس کی توقع ہرگز نہیں تھی جو واقع ہوچکی تھی۔

میں تقریبا دس منٹ کی دوری پررہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ فون رکھنے کے تقریبا بیس منٹ بعد میں اپنے والدین کے گھر پہنچی۔۔۔۔۔۔۔ کیا دیکھتی ہوں کہ خاندان کے سارے لوگ جمع ہیں۔ اورارام ارام سے بات کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے دیکھ کر سب پریشان ہوگئے۔۔۔۔۔۔ میرے تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ میری دُنیا اجڑ چکی تھی اورمیرے سرسے شفقت کا ہاتھ اٹھ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔بڑے بھائی مجھےابو کے کمرے میں لے گئے۔۔۔۔۔۔تو ابوکے جسم پرکفن ڈالا گیا تھا۔۔۔۔ میرے بھا ئی نے مجھے مضبوطی سے پکڑے رکھا تھا ۔۔۔۔۔ یہ منظر مجھ سے برداشت نہیں ہو ا اورمیں چیخ مارکر بے ہوش ہوگئی۔۔ ۔۔۔۔انسان کیا کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔خدا کے اس امر کے آگے۔۔۔۔۔۔برداشت و صبر وتحمل کے علاوہ  اور کوئ چارہ بھی تو نہیں تھا میرے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابو کے مرنے کا دکھ ایک طرف مگر اس سے بھی بڑا دکھ یہ تھا کہ ابو نے اخری وقت میں کئی بارمیرا نام لیا اورمیں اس اخری وقت میں اس کے پا س موجود نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اج بھی خواب ابو کے حوالے سے ادھورے دیکھتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیشہ خواب میں ابو کے پاس پہنچنے کی کوشش  کرتی ہوں اور پہنچ نہیں پاتی ۔۔۔۔اور وہ چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔ اگراخری وقت میں اس کے پاس پہنچ پاتی توشاید میں یہ ادھورے خواب نہ دیکھتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس ادھوری کہانی کے خواب شاید ادھورے نہ ہوتے

۔۔۔۔۔۔۔۔               


شیئر کریں: