Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انتقال پرملال – استاذ القراء قاری فضل الہی کینیا میں انتقال کرگئے

شیئر کریں:

حضرت الاستاذ، استاذ القراء حضرت اقدس قاری فضل الہی صاحب کینیا کے شہر نیروبی کے ہسپتال میں 87 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ سابق ریاست چترال کے ریاستی دور سرشجاع الملک کے دور حکومت 1934ء میں دورماڑی گہت موڑکہو چترال میں پیدا ہوئے۔ آپ قیام پاکستان سے پہلے بچپن میں حصول علم کے لئے پشاور آئے لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے واپس چترال چلے گئے۔ دروش، ایون، خورکشاندہ کے مساجد میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ حفظ قرآن ایبٹ آباد کی پولیس لائن کی مسجد میں مکمل کی اور قراءت استاذ القراء حضرت قاری محمد شریف صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مدرسہ تجوید القرآن رنگ محل لاہور سے حاصل کیا.

۔1960ء سے خدمت قرآن میں لگ گئے اور ضلع ہزارہ کے گاؤں بنسیر سے پڑھانا شروع کیا۔ 1968ء میں واپس لاہور اپنے استاذ قاری محمد شریف صاحب کے مدرسہ دار القرآن ماڈل ٹاؤن میں پھر پڑھنے پڑھانے لگے قراءت سبعہ کی تکمیل کی۔ 1971ء میں حضرت قاری محمد شریف نے ان کو حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب کی فرمائش پر دار العلوم کراچی بھیج دیا اور چار سال تک دار العلوم کراچی میں قراءت پڑھاتے رہے۔ 1974ء میں عمرہ کے لیے سعودی عرب چلے گئے اور مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ افریقی ملک کینیا چلے جائیں اور وہاں قرآن کی تعلیم کی اشد ضرورت ہے تو آپ افریقہ چلے گئے۔ تین ماہ تک مختلف مساجد میں قرآن پڑھانے کی اجازت مانگتے رہے بالآخر اجازت ملنے پر کینیا کے شہر اوسلو پڑھانا شروع کیا۔

اس وقت اپنے بال بچے کراچی میں چھوڑ کر گئے تھے جن کو سخت مشکلات کا سامنا رہا۔پھر کینیا بھی خدمت قرآن شروع کی۔ اس وقت وہاں کوئی ادارہ نہیں تھا آج قاری صاحب کی محنت رنگ لائی اور کینیا میں تین سو سے زائد قرآن کریم کے مدارس ہیں جو کہ تقریبا سب قاری صاحب کے زیر نگرانی اور ان کے شاگردوں کے قائم کردہ ہیں۔ دار العلوم کراچی سے عمرہ کے لئے جاتے وقت چھٹی لے کر گئے تھے پھر مفتی محمد شفیع صاحب کو معذرت کا خط لکھا۔ حضرت نے حکم دیا کہ بغیر اجازت کے گئے ہو اب وہاں کم از کم پچیس سال جم کر وہاں کام کریں۔ حضرت قاری صاحب فرماتے تھے کہ میں نے حضرت مفتی اعظم کی حکم کی تعمیل کی ہے اور میرے 47 سال ہوگئے ہیں۔ آپ حضرت مولانا احمد علی لاہوری سے بیعت تھے اور ان کے مجالس میں جاتے تھے اور مرشد چترال حضرت مولانا مستجاب خان صاحب سے بھی بیعت تھے۔آپ رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے مبعوث تھے اور ریٹائر منٹ کے بعد آپ کی خدمات کی وجہ سے رابطہ عالم اسلامی نے آپ کو رکن بنا دیا تھا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی درجات کو بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین (بشکریہ قاری فیض اللہ چترالی)


شیئر کریں: