Chitral Times

Nov 27, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جنرل الیکشن کے بعد مسلم لیگ نون کے ورکروں کو بے یارو و مدد گار چھوڑا گیا ۔ تحریر: محمد ذاکر زخمی

شیئر کریں:

جنرل الیکشن 2018 کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون کے ورکروں کو بے یارو و مدد گار چھوڑا گیا ۔تحریر: محمد ذاکر زخمی

ضروری نہیں کہ امیدوار ہرالیکشن میں جیت ہی جائے ہار کر بھی خود کو متحرک اور ورکروں کو حوصلہ دیا جاسکتا ہے اور زمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے علاقے کی تعمیرو ترقی میں حصہ دار بنا جاسکتا ہے ۔چترال کی سیاست اس سوچ اور فکر سے یکسر مختلف ہے ۔الیکشن کے بعد جیتے ہوئے من چاہے کچھ بھی کرسکتا ہے اس کے غلط کو غلط اور صحی کو صحی کہنے والے کوئی نہیں ہوتے ۔شیر جنگل کا بادشاہ کے مصداق وہ اپنے ہر فیصلے پر ازاد ہوتا ہے ۔چاہے اس کا اثر عوام پر مثبت پڑے یا منفی وہ کلی خودمختار ہوتا ہے۔ اپوزیشن کا کام یہ ہی ہوتا ہے ان غلط فیصلوں پر انہیں لگام دے اور صحیح فیصلوں پر ان کا ساتھ ہواس طرح مثبت سیاست کی بنیاد اپنے نسلوں کو فراہم کی جا سکتی ہے ۔

چترال کی سیاست کی ستم ظریفی یہ ہے کہ انتخابات کے بعد ناکام امیدوار اگلے الیکشن کے تاریخ اعلان ہونے تک اپنے کاروبار میں مگن رہتا ہے۔ اور کاغذات نامزدگی جمع کرکے انتخابی نشان لیتےہوئے اسے گلے لٹکاتے ہوئے عوام کے دکھ درد سہنے اور علاقے کو جنت بنانے کے خوش کن نعروں کے ساتھ حاضر خدمت ہوتا ہے ۔قرعہ فال کسی کے نام نکلنا الگ بات ہے ورنہ اس قسم کے لوگ لیڈر کہلانے کے قابل ہر گز نہیں۔ انہیں موقعہ پرست اور مطلب پرست ضرور کہا جا سکتا ہے ۔پاکستان مسلم لیگ نون کوئی مانے یا نہ مانے چترال کے محسن ہے خصوصا 2013 کے جنرل الیکشن میں چترال ان کے شدید مخالف کے امیدوار کو منتخب کرکے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی پہنچا دی۔اور نون کے امیدوار بری طرح شکست ہوئے۔

chitraltimes prince iftikhar ud din

مرکز میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی مضبوط حکومت بنی ۔پاکستان بھر میں آل پاکستان مسلم لیگ کی واحد جیتی نشست سےچترال کے منتخب کردہ اے پی ایم ایل کے واحد ممبر چترال سے موجود تھے ہونا یہ چاہیے تھا کہ نواز شریف اپنے شدید ترین مخالف ممبر کو یکسر نظر انداز کرتے اور ایسا کر بھی سکتا تھا لیکں نواز شریف چترال اور چترالیوں سے محبت کے خاطر اپنی انا اڑے انے نہیں دیا بلکہ دوسرے تمام ممبروں سے بڑھ کر اسے عزت دی اور ان کے ہر تجویز اور منصبوں کو چترال کے خاطر فوقیت دی۔ اور انہیں کاغذ پر منظوری دینے کے بجائے عملی طور پر منظور کرکے باقاعدہ کام دیکھنے کو ملا۔ان سب کے ذکر باعث طولت ہوگی۔لاواری ٹینل ہو یا،بجلی کا مسلہ،ٹیلی نار ہو یا گیس پلانٹ کا مسلہ مغربی روٹ ہو یا گرم چشمہ روڈ،زلزلہ کی تباہ کاری یا سیلاب کی ہر وقت نواز شریف چترال اور چترالیوں کو سینے سے لگاتےرہےاور ان کے دکھ درد میں عملی طور پر شریک رہے۔

اخری بارلاواری ٹنیل افتیتاح کے لیے جب ٹینل ایا تو برملا کہدیا کہ مجھے ووٹ دے یا نہ دیں میں چترال کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرتا رہونگا ۔مجھے چترال سے محبت ہے ووٹ سے غرض نہیں۔ کہنے کا مقصد نواز شریف کی احسانات ہیں چترال پر کوئی ڈھکی چھپی نہیں عیان ہیں۔ مخالفیں مخالفت کرتے رہے ان کے خلاف دل کھول کر پروپکنڈہ کرتے رہے حقیقت حقیقت ہی ہے ایک دن عیان ہونا ہے۔ اس میں شہزادہ افتخارالدین سابق ایم این اے کی کاوشوں اور جد جہد کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ چترال کی ترقی کے خاطر نواز شریف کا ساتھ دیا خود پارٹی کی لعن طعن برداشت کی کہنے والے پرویز مشرف سے بے وفائی کہہ سکتے ہیں لیکن چترال کی پسماندگی دور کرنے کے خاطر ان سے بے وفائی ضرور کی لیکن چترال سے بے وفائی نہیں کی اور دور اندیشی اور اعلی قابلیت کو برویے کار لا کر چترال کے لیے کئی میگا پروجیکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔اگر مبالعہ نہ ہو تو اس وقت بھی جو بڑے منصوبے چالو ہیں یا ان پر عمل کی باتیں ہو رہی ہیں ان سب میں کسی نہ کسی طرح شہزادہ افتخارالدین کے حصے ہیں۔

chitraltimes engineer amir muqam


ان تمام کے باوجود اگر ایک کردار کا ذکر نہ کی جائے تو نا انصافی اور تاریخ کو مسخ کرنے کی مترادف ہے۔چترال کی ترقی کے پیچھے ایک کردار ہمیشہ نمایان رہا ہے ۔ جنرل پرویز مشرف کے دل میں چترال کے لیے محبت پیدا کرنا ہو یا نواز شریف کو چترال کی طرف متوجہ کرنا وہ کردار پاکستان مسلم لیگ نواز کے موجودہ صوبائی صدر اینجینئر امیر مقام ہے۔ان دونوں اہم شخصیات کے دل میں چترال کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے اور چترال کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار امیر مقام کا ہی ہے۔ 2018 کے انتخابات کے بعد نہ صرف چترال بلکہ دوسرے علاقوں میں بھی نون لیگ کو خاطر خواہ کامیابی کسی نہ صورت نہ ملی اور چترال میں بھی نون لیگ سیٹ لینے میں ناکام ہوئی۔لیکن ناکامی کے بعد سے اب تک چترال میں نون لیگ غیر متحرک ہے۔ورکروں کے ساتھ رشتے ناطے ختم کر دیے۔میٹینگز وغیرہ بند ہوئے۔ ورکراب پت جھڑ کے پتوں کی طرح بکھر رہے ہیں ۔مایوس ہیں ۔انھیں سنبھالنے والا،حوصلہ دینے والا متحد رکھنے والا چترال لوئر اور اپر میں کوئی نہیں۔

آل پارٹیز اجلاس میں نون لیگ کی کرسی خالی پڑی رہتی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ میں بلانے کے لیے کوئی موزون بندہ نہیں لہذا وہ بھی خالی پڑی رہتی ہے۔ اگر کوئی جذباتی ورکر میٹنگ کال کرنے کی کوشش کرے تو برائے نام لیڈر ان کو کوستے ہیں۔خفا ہوتے ہیں اور ناراضگی کا اظہار کرتے۔ان تمام حالات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو بلدیاتی الیکشن میں جنرل کونسلر کے لیے امیدوار نون لیگ کے پاس نہیں۔یہاں اس وقت کوئی تنظیم نہ ضلعی سطح پر اور نہ تحصیل یا یوسی سطح پر موجود ہے ۔ان حالات میں ورکروں کی مایوسی بجا ہے کہ ایک پارٹی کی اتنی خدمات ہوتے ہوئے اسے دیدہ و دانستہ خاک میں ملا دی جاتی ہے۔اس وقت خصوصا” اپر چترال کے جملہ مایوس ورکرز ایک بار پھیر صوبائی صدر امیر مقام سے امید یں وابستہ کیے ہوئےہیں کہ امیر مقام اس پارٹی کو مزید بربادی سے بچانے میں کردار ادا کرکے مایوس اور بے یار و مدد گار کارکنوں کے حوصلہ بڑھائے۔ اور اسے منظم کرنے میں کردار ادا کرے۔ یاد رہے کسی بھی پارٹی کا منظم ہونا نہ صرف پارٹی کے مفاد میں ہے بلکہ علاقے میں اس کے کردار سے مثبت اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

chitraltimes mia nawaz sharif

شیئر کریں: