Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیرزادہ کی خدمات اب تک کے تمام منتخب نمائندوں سے مجموعی طور پر بھاری ہیں۔ عبدالطیف ودیگررہنما

شیئر کریں:

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) سینئررہنما اور سابق ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف عبدالطیف نے کہا ہے کہ وزیر زادہ پر انگلیاں اُٹھا کر بعض سیا سی بو نے اپنا سیا سی قد بڑھا نے کی کو شش کر رہے ہیں جبکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وزیرزادہ کی خدمات اب تک کے تمام منتخب نمائندوں سے مجموعی طور پر بھاری ہیں ۔


اتوار کے روز پی ٹی آئی کے دیگر رہنماوں الطاف گوہر ایڈوکیٹ،شفیق الرحمن صدر یوتھ،نذیر احمدایڈیشنل جنرل سیکرٹری یوتھ ملاکنڈڈویژن،سردار ایوبی صدر آئی ایس ایف،سجاد سینئر رہنما پی ٹی آئی،رضی الدین سابق تحصیل صدر،آیاز الدین سابق یوسی صدر کوہ ،سمی الدین صدر لیبر ونگ ودیگر کے ہمراہ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ ظر فی کا تقا ضا تو یہ ہے کہ تما م سیا سی جما عتیں وزیر زادہ کا شکر یہ ادا کرتے جو انکی نا اہلی اور نا کا میوں پر پردہ ڈالنے کی بہترین کوشش کررہے ہیں اور چترال کی تاریخ میں جو ریکاڈ تر قیا تی کا م شروع کئے گئے ہیں اس میں تحریک انصاف کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ وزیر زادہ کا کر دار مسلمہ ہے۔


ان کا کہنا تھاکہ مخصوص نشست پر صو بائی اسمبلی اور کا بینہ کا حصہ بننے والے اسی نو جوان کو صرف کا لا ش ویلی تک محدود کرنے کا مشورہ دینے والے سیاسی یتیموں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کا لا ش ویلی روڈ جیسے عظیم منصوبے کے علا وہ وزیر زادہ نے تینوں کا لا ش ویلی میں اب تک صحت، تعلیم،روڈ، حفاضتی بندوں اور دوسرے منصو بوں میں اب تک 325.4ملین روپے کے منصو بے یا تو مکمل ہو چکے ہیں یا تکمیل کے مرا حل میں ہیں ان میں بریر کے 425لا کھ، ایون یو سی کے 99لا کھ، بمبوریت کے 899لا کھ اور رومبور وادی کے 1831لا کھ روہے کے مختلف منصو بے شامل ہیں۔


پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہاکہ 30کروڑ روپے کی لا گت سے وادی کی سڑ کوں کی توسیع کا منصو بہ اس کے علا وہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہٹ دھرمی اور تنگ نظری کا کوئی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوسکاہو ورنہ وہ وزیرزادہ کے خلاف ایسے الفاظ استعمال نہ کرتے حالانکہ گزشتہ حکومتوں نے چترالی عوام کو جو لو لی پاپ دئے تھے۔ وہ سب کے سامنے عیاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ویز زادہ اگر اپنی محنت اور کوششوں سے کا لا ش ویلی روڈ کی زمین کی خریداری کے لئے 2ارب روپے کی خطیر رقم صو بائی حکومت سے منظورنہ کراتے تو اس روڈ پر آئند ہ دس سا لوں میں بھی کام شروع نہیں ہو سکتا تھا۔ اب جبکہ رود کا ٹھیکہ بھی ایوارڈ ہو چکا ہے۔ اب انگلی کٹا کر شہید وں میں نا م لکھوا نے کا ڈرامہ نہیں چلے گا اور وزیر زادہ اگر کا لا ش ویلی تک محدود ہوتے تو نہ شندو ر وڈ کے 17ارب روپے منظور ہوتے نہ گرم چشمہ روڈ پی ایس ڈی پی کا حصہ ہوتا اور نہ ہی مداک لشٹ کی تر قی کے لئے 4.8ارب روپے منظور ہو تے۔

عبد الطیف نے بتایا کہ وزیرزادہ کی کوششوں سے چترال ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ کالاش ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ جو کالاش کمیونٹی کے حقوق کی تحفظ کے ساتھ علاقے میں سیاحت کو فروع دینے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا

وزیرزادہ نے مذید بتایا کہ وزیرزادہ ہی کی کوششوں سے آرندو روڈ کیلئے خطیر رقم منظور ہوچکے ہیں بہت جلد سڑک پر کام شروع کیا جائیگا۔


انہوں نے کہا کہ اب اندازہ ہو چکا ہے کہ وزیر زادہ جس جا ن فشانی سے اپر اور لو ئیر چترال میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ انہی کاموں کی بنا پر آئندہ الیکشن میں مخالفین کی ضمانتیں ضبط ہونگی اور ان کا سیاسی سفر بھی ختم ہوگا۔

انھوں نے ان سیاسی رہنماوںکو مشورہ دیا کہ وہ اپنے منتخب نمائندگان سے سوال کریں کہ انھوں نے ابتک کون کونسے ترقیاتی کام سرانجام دئے ہیں جبکہ ایک مخصوص نشست پر منتخب ممبرکے خلاف آواز اُٹھانے کاکوئی جواز نہیں بنتا ۔

عبد الطیف نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے دور حکومت کے اخری مہینوں چترال میں ہوائی منصوبوں کا افتتاح کیا جوعوام کے آنکھوں میں دھول جھوکنے کے مترادف ہے۔ اب جبکہ چترال کے تین اہم سڑکوں پر کام شروع کردیا گیا ہے اس دوران پریس کانفرنس کرکے واویلا کرنا سمجھ سے بلاتر ہے ۔

انھوں نے سیاسی نمائندگان کو مشورہ دیا کہ وہ اگر وزیرزادہ کو شاباش نہیں دے سکتے تو انکی حوصلہ شکنی بھی نہ کریں، وہ چترال کیلئے دن رات ایک کرکے چترال میں ترقیاتی کاموں کا جال بجھارہا ہے۔ وہ تمام سیاسی وابستگیوں سے بلاتر ہوکر چترال کی خدمت کررہا ہے لہذا ان کو کام کرنے دیاجائے۔

chitraltimes pti abdul lateef press confrence2
chitraltimes pti abdul lateef press confrence1

شیئر کریں: