Chitral Times

Jul 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صحت کارڈ پلس منصوبے کو مستقل کرنے کیلئے قانون بنا رہے ہیں۔ تیمور جھگڑا

شیئر کریں:

یکم جنوری سے جگر کی پیوندکاری شامل، ساٹھ ہزار مریض ماہانہ مفت صحت سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔ وزیر صحت و خزانہ
صحت کارڈ انقلابی منصوبہ ہے۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ سے اسکی شفافیت پر ایک اور مہر ثبت ہو گی۔ کامران بنگش


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخوا کے شہریوں کو مستقل بنیادوں پر صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی کے لیے صحت کارڈ پلس منصوبے کو یونیورسل ہیلتھ کیئر ایکٹ کے تحت مستقل کرنے کے لیے قانونی شکل دے رہے ہیں تاکہ آئندہ آنے والی حکومتیں یہ سہولت عوام کو دینے کی پابند ہوں۔ پروگرام کے حوالے سے آگہی بڑھنے کے بعد صحت کارڈ سے ماہانہ 60 ہزار مریض مستفید ہو رہے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یکم جنوری سے جگر کی پیوندکاری بھی مفت ہو گی جبکہ مزید کئی مہنگے علاج والی بیماریاں کا علاج بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے۔ فری او پی ڈی اور چار قسم کا ٹاپ اپ پیکج رواں مالی سال صحت کارڈ کا حصہ بن جائے گا۔ صوبائی حکومت کا ہر پروگرام شفافیت کے ساتھ جاری ہے اور صحت کارڈ پلس منصوبے کے تھرڈ پارٹی آڈٹ سے اس پروگرام کی شفافیت پر ایک اور مہر ثبت ہو جائے گی۔ خیبرپختونخوا کا ہیلتھ انشورنس پروگرام دنیا کے کئی ممالک سے بہتر ہے۔

ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش نے صحت کارڈ پلس منصوبے کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کے معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صحت کارڈ پلس پروگرام کے محکمانہ آڈٹ کے علاوہ تھرڈ پارٹی بھی آئندہ تین سال کے لیے مرحلہ وار آڈٹ کرے گی۔ معاہدے کی تقریب کے دوران صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ پہلے فیز میں گزشتہ سال نومبر سے رواں سال جون تک کا آڈٹ کیا جائے گا جبکہ مجموعی طور پر نجی آڈٹ فرم 2024 تک تین سال مسلسل پروگرام کا آڈٹ کرے گی۔ اگر اس آڈٹ کے دوران کوئی بدعنوانی یا غلط استعمال کی نشاندہی ہوئی تو اس کے خلاف اقدامات کیے جائیں گے۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ سے حاصل ڈیٹا میڈیا سے شیئر کیا جائے گا۔ آڈٹ کے دوران پروگرام کی کارکردگی کو بھی جانچا جائے گا۔ ہسپتالوں کو پینل میں شامل کرنا اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی کارکردگی کو بھی مانیٹر کیا جائے گا۔

تیمور جھگڑا نے کہا کہ صحت کارڈ کے استعمال کے حوالے سے آگہی حاصل ہونے کے بعد اس کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ 60 ہزار شہریوں نے اس پر مفت علاج معالجے کی سہولت حاصل کی۔ اگر استعمال کی یہی شرح رہی تو ایک سال میں 7 لاکھ افراد یعنی 7 لاکھ گھروں کو مفت علاج کی سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری سے جگر کی پیوندکاری بھی اس میں شامل ہو گی۔ رواں مالی سال کے دوران ہی ٹاپ اپ پیکج بھی اس صحت کارڈ کا حصہ ہوگا جو کہ 4 مختلف کیٹیگریز پر مشتمل ہو گا۔ اسی طرح یونیورسل ہیلتھ کیئر ایکٹ کے تحت صحت کارڈ پلس سکیم کو مستقل کر رہے ہیں جس سے آئندہ آنے والی حکومتیں اس پروگرام کے تحت عوام کو مفت صحت سہولیات دینے کی پابند ہوں گی۔ ضم اضلاع کے شہریوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کر کے صوبے کے دیگر اضلاع کے برابر پیکج دیں گے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ صوبائی وزیر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اس سال تمام میڈیکل ٹیچنگ ہسپتالوں کا بھی تھرڈ پارٹی آڈٹ کروائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ منصوبہ صوبے کے عوام کے لیے ایک نعمت ہے اسی وجہ سے اسے عوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے اور صوبے کے لاکھوں شہری ملک بھر میں اس سے مستفید ہورہے ہیں۔ کامران بنگش نے کہا کہ صحت کارڈ انقلابی منصوبہ ہے اور یہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دل کے بہت قریب ہے۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ سے اس منصوبہ میں شفافیت پر ایک اور مہر ثبت ہو گی جبکہ اس میں موجود بہتری کی مزید گنجائش کا بھی پتا چل سکے گا۔ کامران بنگش نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں صوبے میں تمام منصوبے شفافیت سے جاری ہیں۔


شیئر کریں: