Chitral Times

Nov 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے جنگلات میں پڑے جلانے کی لکڑی کواُٹھانے کی اجازت دی جائے۔ آل پارٹیز اجلاس

شیئر کریں:

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز)آل پارٹی اجلاس ایم این اے چترال مولانا عبد الا کبر چترالی کی صدارت میں گورنر کاٹج چترال میں منعقد ہوا جس میں ایم پی اے چترال مو لانا ہدایت الر حمان ,وجیہ الدین جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی چترال،ایڈوکیٹ کوثر پی ایم ایل این ، عباد الرحمان نائب صدر اے این پی، قاضی نسیم سیکریٹری اطلاعات جے یوآئی،امیر علی پی ٹی آئی ،میر دولہ خان نائب صدر پی پی پی ،مولانا جمشید احمد نائب امیر جے آئی ،فضل ربی جان اور رحمت الہی نے شرکت کی ۔
اجلاس میں چترال میں سوختی لکڑی /شاہ بلوط اور دیار عمارتی لکڑی کے پرمٹ کے بارے میں غور کیا گیا اور آخر میں متفقہ طور پر درج ذیل قرار داد منظور کیا گیا۔


سردیوں کی آمد کی وجہ سے چترال میں سوختی لکڑی ناپید ہوچکی ہے جسکی بنیادی وجہ محکمہ جنگلات کی طرف سے جنگلاتی علاقوں میں سالوں سے پڑے ملبے کو اٹھانے پر پابندی لگانا ہے اور ڈی ایف او فارسٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ جس طرح ماضی میں ہوتا ارہا ہے اسی طرح مارکیٹ کو لکڑیوں کیلئے کھلا چھوڑ دیا جائے اور
اور محکمہ فارسٹ فی الفور جنگلاتی علاقوں میں پڑے ملبوں کو اٹھانے کا حکم دے تاکہ آمدہ سردیوں میں لوگوں کو تکلیف اٹھانا نہ پڑے۔


آل پارٹیز میں محکمہ فارسٹ کی اس موقف سے اتفاق نہیں کیا گیا کہ سوختی لکڑیوں کی آڑ میں غیر قانونی طور پر عمارتی لکڑیوں کو شامل کر کے لایا جا رہا ہے اور کہا گیا کہ غیر قانونی طور پر لکڑیوں کی ترسیل کو روکنا ادارے کا کام ہے تاہم اس بہانے عوام کو متاثر کرنا اور تکلیف پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔


اجلاس کے بعد چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ایم این اے مولانا عبد الاکبرچترالی نے بتایا کہ ہم چترال کے مختلف جنگلات میں جلانے کے قابل لکڑیوں کا ملبہ اُٹھانے کا مطالبہ کررہے ہیں جو جنگلات کے لئے نقصان کا باعث بننے کے ساتھ بارش میں دریا برد ہوکر افغانستان پہنچ جاتے ہیں۔ انھوں نے مذید بتایا کہ امسال ان ہی ملبوں کی وجہ سے کئی مقاما ت پر جنگلا ت میں آگ لگی ۔ جس کی وجہ سے کئی ہیکٹر پر محیط قیمتی درختان جل کر راکھ بن گئے جس سے قومی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ۔ لہذا محکمہ فارسٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ملبوں کو ہٹاکر مذید نقصان سے جنگلات کو بچانے کے ساتھ عوام کو سردیوں میں ایندھن کیلئے لکڑی مہیا کرے ۔


شیئر کریں: