Chitral Times

May 24, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داریل تانگیر کا ژومال تنازع – تحریر: ثمرخان ثمر

شیئر کریں:

موضع گیال داریل اور تانگیر کے تین مواضع لرک ، دیامر اور رم شیخ کے مابین “ژومال” نامی چراگاہ بشمول جنگل مدتوں سے باعث تنازع بنا رہا ہے۔ فریقین مذکورہ اراضی کو اپنی اپنی ملکیت گردانتے رہے ، ہزاروں افراد اراضی اور جنگل پر تصرف حاصل کرنے کا خواب آنکھوں میں سجائے اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے ، اک نسل جوان ہو کر بوڑھی ہوگئی اور پیری کی منزل ضعف پر قدم رکھ کر تشنہ حسرتوں سمیت منوں مٹی تلے جا سوئی۔بچے بوڑھے ہوگئے اور بوڑھے گزر گئے لیکن تنازع جوں کا توں رہا ، بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا گیا۔نشو پاتا گیا ، شدت اور تمازت آتی گئی۔ کئی بار فریقین مورچہ زن ہوئے اور کئی بار خون ریز تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ 


یہ تنازع پہلی بار 1963 میں عدالت پہنچا۔ دیوانی مقدمات کیسے لوگوں کا بھُرتا بنا دیتے ہیں اور کیسے انتظار کے جاں گسل لمحات سے دوچار کرتے ہیں؟ سب جانتے ہیں۔ گزشتہ ستاون برسوں سے یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں چلتا رہا۔ چوٹی پر پہنچ کر واپس ایڑی پر آتا رہا۔فریقین کا کروڑوں پیسہ کورٹ کچہری کی نذر ہوگیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ لوگوں میں دوریاں ، نفرتیں ، کدورتیں ، چپقلشیں اور عداوتیں بڑھتی گئیں ۔ کئی مواقع ایسے آئے جب فریقین کے درمیان مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں ۔ الغرض دیوانی مقدمات کا فیصلہ عدالتوں سے نکل پانا محال ہے۔ مثل مشہور ہے “دِیوانی آدمی کو دیوانہ کر دیتی ہے” یہ مثل یہاں پر بالکل صادق نظر آتی ہے۔ دیوانی مقدمات کا تصفیہ عدالتوں سے ہو پانا بہت مشکل ہے۔ ایسے تنازعات کا واحد حل جرگہ ہے۔ 


جرگہ ہمارے قبائلی تنازعات، مسائل اور لڑائی جھگڑوں کو نمٹانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لڑائی جھگڑا اور لشکر کشی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ خواہ کتنی بھی جنگیں کیوں نہ لڑی جائیں،  کتنی بھی لشکر کشی کیوں نہ کی جائے،  جب تک “مذاکرات کی میز” پر فریقین روبرو بیٹھ نہیں جاتے،  تنازعات ختم نہیں ہو سکتے۔ تاریخ عالم پر نگاہ دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ دو اور دو ملکوں،  قوموں،  فریقوں یا خاندانوں کے مابین پیدا ہونے والا تنازع آخرکار مذاکرات کی میز پر روبرو بیٹھ کر ہی حل ہوا ہے۔ بےجا طاقت شہروں کے شہر تو اُجاڑ سکتی ہے مگر تنازع حل نہیں کر سکتی۔ لوگوں کے دلوں سے نفرت و عداوت کی چنگاری بجھا نہیں سکتی۔ حالیہ مثال ہمارے سامنے ہے کہ کیسے امریکہ اور اتحادی دولت و طاقت کے گھمنڈ میں افغانستان اُمڈ آئے اور دو دہائیوں تک افغان عوام پر ظلم و ستم اور جارحیت و بربریت کے پہاڑ توڑے؟  اور کیسے اس خودساختہ جنگ کا نتیجہ برآمد ہوا؟  کیا امریکہ اور اتحادی افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے باوجود فاتح کہلائے؟  کیا انھوں نے افغان عوام کو فتح کیا؟  کیا وہ ان کے دل جیت پائے؟  ہرگز نہیں۔ طاقت و دولت مسئلے کا حل نہیں ہے۔ واحد حل مذاکرات ہے اور یہ کام جرگہ ہی انجام دے سکتا ہے۔


ستاون برسوں میں ژومال تنازع حل فرمانے کے لئے کئی جرگے بنے، کچھ وقت لیا اور منظر سے غائب ہوئے۔ یعنی جرگے بنتے ٹوٹتے گئے۔ کوئی تصفیہ نہ ہوسکا، کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ یہ مسئلہ پوری شدت کے ساتھ قائم و دائم رہا۔ کامیاب جرگے کے لئے چند باتیں ناگزیر ہوتی ہیں۔ جرگہ خالص ہو،  غیرجانبدار ہو، بےلاگ اور بےلوث ہو۔ صادق و امین ہو، خشیت الہی ہو، وقت دے سکتا ہو اور فریقین کا مکمل تعاون حاصل ہو۔ اگر یہ باتیں موجود ہوں تو کوئی وجہ نہیں جرگہ اپنے نصب العین میں کامیاب نہ سکے۔ ہمارے یہاں قبائلی جرگہ سسٹم نہایت موثر اور کارآمد رہا ہے۔ تنازعات حل فرمانے کا یہ طریقہ نہایت پرانا ہے اور جتنا یہ قدیم ہے اتنا ہی سودمند ہے۔ ان علاقوں میں ننانوے فیصد تنازعات کا پائیدار حل جرگوں نے ہی نکالا ہے۔ کئی خاندانی دشمنیاں،  جن کی بھینٹ چڑھ کر کئی کئی افراد لقمہ اجل بن گئے اور آخر جرگہ بٹھانا پڑا اور دشمنیاں دوستیوں میں بدل گئیں۔ جرگے کا حجم بڑا ہونا اہم نہیں ہے اور نہ ہی ضروری ہے،  اہم بات یہ ہے کہ جرگہ کتنا مخلص اور غیرجانبدار ہے؟  ہم نے تین چار اراکین پر مشتمل جرگے بھی دیکھے ہیں جن کی مخلصانہ کاوشیں رنگ لے آئیں اور برسوں پر محیط دشمنیوں اور تنازعوں کا قلع قمع ہوگیا۔ 


الحمد للہ دیامیر اور کوہستان مردم خیز علاقے ہیں۔ نامی گرامی عمائدین ہیں، جرگوں کے ماہرین کی یہاں کمی نہیں ہے۔ ان علاقوں سے دس بارہ عمائدین کمر کس لیں تو مجھے اُمید ہے بہت جلد یہ مسئلہ دفنا سکتے ہیں۔ حکومت گلگت بلتستان کو چاہیے کہ ایسے جرگوں کا سرکاری سطح پر اہتمام کرے اور سرکار سرپرستی کرے۔ جرگہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون فرمائے۔عوام گیال داریل اور لرک دیامر تانگیر کو اب سوچنا ہوگا۔ یہ دور اب ان چیزوں کا نہیں رہا۔ فریقین کو لچک دکھانی ہوگی۔ “کچھ دو اور کچھ لو” پر عمل کرنا ہوگا۔ میں مذکورہ علاقوں کے عوام سے مخاطب ہوں۔ کتنا بھی زور لگا لیں، کتنی بھی لشکر کشی کرلیں، آپ ایک دوسرے کو ختم نہیں کر سکتے۔ جب تک مذکورہ علاقوں کا ایک فرد بھی زندہ ہے،  تنازع باقی ہے۔ یہ بزور طاقت حل ہونے والا مسئلہ نہیں ہے۔ کب تک نفرتیں پالتے رہیں گے؟  کب تک زمین کے ایک ٹکڑے کی خاطر لڑتے رہیں گے؟ پچھلی چھے دہائیوں میں سوائے نفرتوں کے،  کمایا کیا ہے؟ علمائے کرام،  عمائدین، باشعور اور تعلیم یافتہ افراد آگے آئیں۔ پائیدار امن تلاش کریں۔ رویوں میں لچک پیدا کریں۔ جب چھے دہائیوں میں کورٹ کچہریوں میں حل نہیں نکلا تو مستقبل میں بھی نکلنے کی آس نہیں ہے۔ یہ اُمید رکھنا ہی عبث ہے کہ عدالتوں سے دیوانی مقدمے کا فیصلہ نکلے گا۔


حالیہ کشیدگی کے بعد یہ بات انتہائی ناگزیر ہوگئی ہے کہ اس مسئلے کو اب دفن ہوجانا چاہیے۔ بخدا ایک ایک جوان کی زندگی ایسی ہزاروں چراگاہوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ خدانخواستہ دو چار گھروں میں صف ماتم بچھ جاتی تو ہمیں ادراک ہوجاتا۔ کف افسوس ملتے رہ جاتے مگر بےسود۔ آپ کے مدمقابل کافر نہیں، آپ کے مسلمان بھائی ہیں۔ ایسے معاملات میں جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ لمحوں کی غلطیوں کا خمیازہ انسان صدیوں بھگت لیتا ہے۔ میری دعا ہے رب ذوالجلال سے کہ برسوں پر محیط رنجشوں اور عداوتوں کو محبتوں اور اُلفتوں میں تبدیل کر دے۔ یہ خواہش اور دعا ان شااللہ “ژومال” کے آر پار رہنے والے ہر باسی کے دل میں ہوگی۔بس ذرا سی تحریک کی ضرورت ہے۔اللہﷻ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
54219