Chitral Times

Jul 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال گول نیشنل پارک میں مارخوروں کی تعداد میں مسلسل کمی ہورہی ہے،انکوائری کی جائے۔ چترالی

شیئر کریں:

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز) ممبر قومی اسمبلی چترال مولانا عبد الاکبر چترالی نے چترال گول نیشنل پارک میں روز بروز گھٹتی مارخوروں کی تعداد پر شدید رد عمل کا اظہارکرتے ہوئےاسے چیف کنزرویٹر وائلڈلائف اور ڈی ایف او وائلڈ لائف کی غفلت عدم دلچسپی اور فرائض سے لاپرواہی قرار دیا ہے ۔ جمعرات کےروز چترال گول کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ کنزرویشن و پارک ایسوسی ایشن کے چیرمین و ممبران سلیم الدین ، حسین احمد ، مولانا جمشید احمد ، ناصر احمد ، بشیر احمد کے ہمراہ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے مولانا عبد الاکبر چترالی نے کہا ۔ کہ چترال گول نیشنل پارک قومی جانور مارخور ، قومی پرندہ چکور ، قومی درخت دیودار اور قدرتی حسن کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہورہے۔ اسی وجہ سے پروٹیکیڈ ائریا منیجمنٹ پراجیکٹ (PAMP) کے تحت مارخور کی افزائش کیلئے اسے نیشنل پارک قرار دیاگیا تھا ۔ جس کیلئے JEF نے بیس کروڑ روپے فراہم کئے تھے۔ اس سے جنگل کے تحفظ کیلئے تئیس واچرز اور دیگر سٹاف رکھے گئے ۔ جس سے مارخوروں کی تعداد بڑھ کر 2868 تک پہنچ گئی ۔ بد قسمتی سے 2016 سے سٹاف کو تنخواہیں دینا بند کر دیا گیا ۔ جس سے نیشل پارک میں مارخوروں کی تعداد میں مسلسل کمی آئی۔

اب وائلڈ لائف ڈویژن چترال گول کے سروے کے مطابق ماخوروں کی تعداد دو ہزار رہ گئی ہے ۔ جبکہ حقیقت میں ان کی تعداد 800 سے بھی کم رہ گئی ہے ۔ مولانا چترالی نے کہا ۔ کہ یہ وائلڈ لائف ڈویژن چترال گول اور چیف کنزر ویٹر وائلڈ لائف کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کہ ترقی کرتا نیشنل پارک زبون حالی کا شکار ہو چکا ہے ۔ جس سے چترال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے ۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ۔ کہ غیر جانبدار ادارے کے ذریعے ماخوروں کاسروے کرکے صحیح تعداد کو سامنےلایا جائے ۔ غفلت کے مرتکب آفیسران کے خلاف انکوئری کی جائے ۔

نیشنل پارک کے انتظامات کیلئے پارک ایسوسی ایشن کو فنڈ ریلیز کیا جائے۔تاکہ پارک کےملازمین کی تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔ ممبر قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا۔کہ وزیر اعلی کی طر ف سے اعلان کردہ ایک ہزار فارسٹ گارڈ میں سےچالیس فارسٹ گارڈز اور کمیونٹی واچرز کی آسامیاں چترال گول نیشنل پارک کیلئے مخصوص کئے جائیں۔ اور ایمر جنسی کیلئے سٹاک پائل فراہم کیا جائے۔ انہوں نے اسلام آباد میں JEF کے قائم کردہ انڈومنٹ فنڈ کو خیبرپختون خواہ منتقل کرنےکا بھی مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر پارک ایسو سی ایشن کے صدر سلیم الدین نے کہا ۔ کہ نیشنل پارک سے متعلق مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں مقامی کمیونٹی نیشنل پارک پر اپنا حق استفادہ دوبارہ بحال کرے گی ۔ جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ وائلڈ لائف اور ایف پی اے پر عائد ہو گی۔

انھوں نے مذید تفصیلات سے اگاہ کرتے ہوئے کہا کہ چترال گول کمونیٹی ڈویلپمنٹ اینڈ کنزرویشن یعنی پارک ایسوسی چترال گول سے ملحق ۱۱ دہیات اور بفر زون کے دو گاوں کے ویلج کنزرویشن کمٹیز کا ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ جس کا قیامPAMP پروجیکٹ کے دوران عمل آیا۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد PAMP پروجیکٹ کے اختتام پر VCCs کو پائدار بنیاد پرمحکمہ وائلڈ لائف چترال گول ڈویژن کے اشتراک سے خدمات فراہم کرنا اور VCCs کے ممبران/ عوام کے ذرائع جنگلی حیات اور ان کے مساکن کو تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ اس حوالے سے GEF نے 20کروڑ انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا جو ایف۔پی۔اے کے زیر نگرانی پاکستان کے تین نیشنل پارک جن میں ماچھیرا آزاد کمشیر اور ہینگول نیشنل پارک بلوچستان اور چترال گول نیشنل پارک کے کنزرویشن کے عمل کے لئے VCCs کو سالانہ کے بنیاد پر فنڈ فراہم کیا جاتا تھا۔

بدقسمتی سے یہ فنڈ2016سے چترال گول نشینل پارک و دیگر نیشنل پارک کو فراہم کر نا بند کیا گیا ہے۔ جس کے وجہ پارک ایسوی ایشن چترال کے کمیونٹی واچرز اور مینجمنٹ کو جن کی تعداد 23 ہیں تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہوئی۔ نتیجے کے طور پر مارخوروں کی تعداد 2016 میں 2366 تھیں, سال2017 2521,، میں سا ل 2018 میں 2692 اور سال2019 میں 2868 تھیں اب کم ہو کر سال 2020 میں 2000 رہ گئے ہیں یہ وائلڈ لائف ڈویژن چترال گول کے سروے کے مطابق ہے جب کہ غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق مارخوروں کی تعداد 800

ہے۔

چترال گول نیشنل پارک کے ملحقہ دہیات اور بفر زون کے کےVCCs انھوں نے مذید بتایا کہ نمائیندگان اس حوالے سے گزشتہ دو سالوں سے مارخوروں کی اس تیزی سے کم ہونے کے سلسلے میں ڈی۔ایف۔او وائلڈ لائف ڈویژن اور چیف کنزرویٹر خیبر پختوانخوہ کو بار بار درخواست کرنے پر اس نازک مسلے پر کوئی کارروائی یا اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔

لہذا گیارہVCCsکے نمایندگان اپنی حقوق اور چترال گول نشینل پارک بگٹرتی ہوئی خراب صورت حال کو قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی، کلامیٹ چینج منسٹری اور دیگر متعلقہ اداروں تک پہنچانے اور چترال گول نیشنل پارک کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے حسب ذیل مطالبہ کرتے ہیں

۱۔ غیر جانبدار ادارے کے ذرایع مارخور کے سروے کرا کر مارخوروں کے اصل تعداد کا تعین کیا جائے
۲۔ غفلت کے مرتکب افسران اور ذمہ دارن کے خلاف انکوائری کا آغاز کیا جایے
۳۔ چترال گول نیشنل پارک کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے چترال کے خیبر بنک میں قائم شدہ انڈومنٹ فنڈ جو محکمے وائلڈ لائف صوبے خیبر پختوانخوہ کی پروجیکٹ چترال گول مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کی طرف سے قائم ہوکر میچور ہوچکا ہے جو کنزرویشن کے مقصدکے لئے قائم کیا گیا ہے چترال گول نیشنل پارک کے انتظام و انصرام کے بہترین مفاد میں پارک ایسوی ایشن کے پرپوزل کے مطابق ریلیز کیا جائے تاکہ کمیونٹی واچرز اور مینجمنٹ کی تنخواہوں کی ادائیگی ہوسکے۔

۴۔ چترال گول نیشنل پارک کے جنگل کے تحفظ کو یقنی بنانے کے لئے جناب وزیر اعلی خیبر پختوانخوہ کے حالیہ اعلان کردہ ایک ہزار فارسٹ گارڈ کے مطابق چترال گول نشنل پارک کیلئے کم از کم دو فارسٹ گارڈ کمیونٹی واچرز میں سے بھرتی کئے جائیں تاکہ چترال گول نیشنل پارک کے جنگل کی تحفط ممکن ہو سکے۔ حفظ ما تقدم کے طور پر سٹاک پائل STOCK PILE)) فراہم کیا جائے۔

۵۔ اسلام آباد میں ایف۔پی۔اے کے زیرنگرانیGEFکی طرف سے قائم شدہ انڈومنٹ جس میں محکمے وائلڈ لاءٖف خیبر پختوانخوہ اپنا حصہ ڈال چکا ہے اور وزرات بھی صوبے کو منتقل ہوچکا ہے۔ انڈومنٹ فنڈ اسلام آباد کے بجائے صوبہ خیبر پختوانخوہ میں قائم میں کیا جائے

۶۔ مارخوروں کی بڑھتی ہوئی کمی کو جانچنے کے لئےDamages report، offence report سے VCCsکو آگاہ کیا جائے اور سٹاک میں موجود مارخور ٹرافی ان وینٹری رپورٹ فراہم کیا جائے۔

مذکورہ بالا مطالبات پورا نہ کر نے کی صورت میں عوام خود ساختہ پابندی نسبت حق استفادہ پھر سے بحال کریں گے جس کی صورت میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری محکمے وائلڈ لائف اور ایف۔پی۔اے پر عائد ہوگی جو بلاوجہ دو سالوں سے فنڈ فراہمی بند کر کے چترال گول نیشنل پارک سے ملحق آبادی کے حقوق غصب کر رکھا اور عوام میں روز بہ روز بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے۔

chitraltimes chitral gol conservancy press confrence


شیئر کریں: