Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاور میں ٹریفک روانی میں تعطل کا باعث 14 مقامات کی نشاندہی مکمل

Posted on
شیئر کریں:

پی ڈی اے، محکمہ ٹرانسپورٹ اور پولیس کو حل کے لیے پلان پیش کرنے کی ہدایت
صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک مسائل کا دیرپا اور قابل عمل حل نکالا جائے گا۔ تیمور جھگڑا۔ کامران بنگش


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک کی بلاتعطل روانی کو برقرار رکھنے اور درپیش مسائل کے دیرپا اور قابل عمل حل کے لیے وزیراعلیٰ محمود خان کی جانب سے تشکیل کردہ ٹریفک پلان کمیٹی کا تیسرا اجلاس صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ منظور خان، کمشنر پشاور ریاض محسود، سٹی چیف پولیس آفیسر عباس احسن، ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی عمارہ خان، چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید سمیت سینئر صحافی، سول سوسائٹی کے ارکان اور ٹریفک پلان کمیٹی کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔

اجلاس میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ٹریفک پولیس کی جانب سے پشاور شہر میں مختلف جگہوں پر ٹریفک روانی میں تعطل کا باعث بننے والے چوکنگ پوائنٹس اور بوٹل نیکس کے حوالے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چمکنی سے حیات آباد تک 14 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ ٹریفک کی روانی میں تعطل کا باعث بنتے ہیں اور ٹریفک لائینز کی نشاندہی اور تعداد بارے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی طرح ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور چوک چوراہوں پر بہتر ٹریفک منیجمنٹ کے لیے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی کے آئندہ اجلاس سے قبل چمکنی تا حیات آباد مکمل کوریڈور کی میپنگ اور مختلف اوقات اور دنوں میں ٹریفک کاونٹنگ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا جو کہ فیصلہ سازی میں کام آئیں گے۔ اسی طرح نئے ٹریفک جرمانوں پر یکم جنوری سے عملدرآمد کرنے اور شہر میں ان پانچ سے دس ان ٹریفک قوانین کی عملداری پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا گیا جن کی خلاف ورزی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، محکمہ ٹرانسپورٹ اور پولیس مل کر ٹریفک چوکنگ پوائنٹس اور تنگ مقامات کے حوالے سے پلان تیار کرکے کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کو مزید 3 سے 4 سو اہلکاروں کی فراہمی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی تمام ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے لیے صرف ایک ادارہ ہونے کی سفارش کرے گی۔ فی الوقت پبلک سروس وہیکل لائسنس محکمہ ٹرانسپورٹ جبکہ باقی ڈرائیونگ لائسنس ٹریفک پولیس جاری کرتی ہے۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ متعلقہ ادارے مل کر نو پارکنگ زونز، پارکنگ ایریاز اور پلاٹس سے متعلق کام کریں۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش نے کہا کہ پشاور شہر میں روزانہ 7 لاکھ گاڑیاں چلتی ہیں۔ ان سب گاڑیوں خصوصاً رکشا، ٹیکسی اور موٹر سائیکلوں سے متعلق قابل عمل ٹریفک پلان ترتیب دیا جائے جبکہ بہتر ٹریفک منیجمنٹ کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بروئے کار لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہ کرنے اور ان کو پاسداری کی جانب راغب کرنے کے لیے تمام ذرائع ابلاغ کو استعمال میں لایا جائے گا۔ اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر ایک آگہی مہم بھی زیر غور ہے کیونکہ شہریوں کو ٹریفک قوانین کی پاسداری سے متعلق باشعور بنائے بغیر ان مسائل کا حل ممکن نہیں۔


شیئر کریں: