Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حکومتی انسدادی اقدامات کی بدولت گزشتہ 15 ماہ میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ تیمور جھگڑا

شیئر کریں:

تمام اداروں کی مشترکہ کوششیں شامل ہیں، پولیو ورکرز، پولیس جوانوں نے جانوں کی قربانیاں دیں۔ شوکت یوسفزئی
قوم کے بچوں کا مستقبل عزیز، موذی مرض کا خاتمہ پہلی ترجیح ہے۔ کامران بنگش


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) حکومت کے مؤثر انسداد پولیو اقدامات کی بدولت گزشتہ 15 ماہ میں پولیو کا کیس سامنے نہیں آیا۔ اس موذی مرض کے خاتمے میں تمام ادارے مل کر کوششیں کر رہے ہیں اور اب تک انسداد پولیو مہمات کو کامیاب بنانے کے لیے کئی پولیو ورکرز اور پولیس جوانوں نے جان کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ قوم کے بچوں کا مستقبل عزیز ہے جسے محفوظ بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور بہت جلد نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورا ملک پولیو فری ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں ساڑھے 15 ملین کورونا ویکسین لگائی جا چکی ہیں۔ آئندہ ماہ ہونے والی خسرہ سے بچاؤ کی مہم کو بھی کامیاب بنائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر محنت و ثقافت شوکت علی یوسفزئی اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ اور ترجمان خیبرپختونخوا حکومت کامران خان بنگش نے پولیو کے عالمی دن کے موقع پر سول سیکرٹریٹ پشاور میں انسداد پولیو میں اہم کردار ادا کرنے والوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع رکن صوبائی اسمبلی رابعہ بصری، ڈویژنل کمشنرز، ریجنل پولیس آفیسرز، ای او سی کوآرڈینیٹر عبدالباسط، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر عارف، روٹری انٹرنیشنل، یونیسیف اور دیگر عالمی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے تاہم پاکستان اور افغانستان میں یہ اب بھی موجود ہے جس کی مکمل بیخ کنی کے لئے کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور حکومت کے اٹھائے گئے سنجیدہ اقدامات تسلسل سے جاری ہیں۔ انہی اقدامات کی بدولت میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ گزشتہ 15 ماہ میں پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ پشاور سے لئے گئے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو کے وائرس نہیں پایا گیا۔

صوبائی وزیر نے تمام سٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لئے کوششیں کی گئی ہیں۔ پولیس اہل کار وں اور پولیو ورکرز نے انسدادی مہمات کو کامیاب بنانے کے لئے جام شہادت نوش کرتے رہے ہیں۔ آئندہ 3 سالوں تک پولیو فری رہنا اصل چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت سے متعلق تمام تر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر صحت کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ دسمبر 2022 تک پرائمری سطح پر صحت کی بہترین سہولیات فراہم کر دیں گے۔ اس مقصد کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیا گیا ہے۔ صوبے کے دور دارز علاقوں میں صحت عملے کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کورونا ویکسینیشن کے حوالے انہوں نے کہا کہ صوبے میں ساڑھے 15 ملین ویکسینز لگائی جا چکی ہیں۔ 25 ایسے اضلاع ہیں جہاں پر 50 فیصد سے زائد کورونا ویکسینشین کی جا چکی ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ خیبرپختونخوا پہلا صوبہ ہے جس کی سو فیصد آبادی کو نجی و سرکاری ہسپتالوں میں مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔


صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت علی یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بڑے مقصد کے حصول کے لیے صرف حکومت نہیں بلکہ تمام اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین سے اپیل ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے ضرور پلائیں۔ 15 سے 27 نومبر تک ہونے والی خسرہ کے خاتمے کی مہم کو کامیاب بنانے کی ضرورت ہے جس میں 5 سے 15 سال تک کے بچوں خسرہ رویکسین لگائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے تک اسی طرح مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش کا دعویٰ ہے کہ ضم اضلاع سمیت پورے خیبرپختونخوا سے پولیو وائرس کا تقریباً خاتمہ کر دیا گیا ہے جس پر یہاں کے لوگ اور حکومت یکساں طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں وہ سول سیکرٹریٹ پشاور میں پولیو کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے خطاب کر رہے تھے  ورلڈ پولیو ڈے کے حوالے سے اس خاص جائزہ اجلاس میں وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر محنت شوکت یوسفزئی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش کے علاؤہ رکن صوبائی اسمبلی رابعہ بصری، ڈویژنل کمشنرز، پولیس، محکمہ صحت، روٹری انٹرنیشنل اور ایمرجینسی آپریشن سنٹر سمیت دیگر کئی متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی کامران بنگش نے اس موقع پر واضح کیا کہ صحتمند پاکستان وزیراعظم عمران خان کا وژن اور وزیراعلیٰ محمود خان کی زیرقیادت موجودہ صوبائی حکومت کا عزم ہے اس مقصد کیلئے خیبرپختونخوا بھر میں انسدادپولیو کی مہمات کو موثر بنا دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ جولائی 2020 سے آج تک صوبہ میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہ آنا ہمارے اخلاص اور کامیابی کی واضح دلیل ہے کامران بنگش نے اپنی حکومت کا یہ عزم دہرایا کہ پولیو کے مکمل خاتمہ تک ہم نے چین سے نہیں بیٹھنا ہم مزید محنت جاری رکھیں گے اور اگلے پندرہ ماہ میں عالمی ادارہ صحت کا وہ ٹارگٹ حاصل کر لیں گے جس کے تحت تین سال پولیو وائرس نمودار نہ ہونے والے کو پولیو فری ملک قرار دیدیا جاتا ہے انہوں نے اعتراف کیا کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں جبکہ ہمارے بہادر پولیو ورکرز قوم کے محسن اور ہیرو ہیں کامران بنگش کا کہنا تھا کہ ہائی رسک علاقوں سے بھی پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے جبکہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی عدم موجودگی بھی اہم سنگ میل ہے انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح رہا ہے اسی طرح یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ علماء کرام اور والدین نے بھی پولیو مہم میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے جبکہ کامیابی کا سفر جاری رکھنے کیلئے پولیو رضاکاروں کے ساتھ عوامی تعاون کی اشد ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کے تمام اداروں نے مل کر پولیو کے خاتمے کیلئے بھرپور محنت سے کام کیا ہے قبائلی اضلاع سے پولیو کیسز کا سامنے نہ انا بھی خوش آئند ہے اجلاس کے شرکاء نے امید ظاہر کی کہ پولیو کی مکمل بیخ کنی کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے اقدامات کو قومی اور عالمی سطح پر پذیرائی ملے گی جبکہ صوبائی حکومت اپنے اقدامات بدستور جاری رکھے گی حکومت نے اپنے سسٹم میں جو تبدیلیاں کرنی ہیں ضرور کرے گی شرکائے اجلاس نے اس سلسلے میں میڈیا کے تعاون اور کردار کو بھی سراہا۔


شیئر کریں: