Chitral Times

Dec 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترالی بازار پشاور، ارتقا، خدمات اور اہمیت – عنایت جلیل قاضی

شیئر کریں:

چترالی بازار پشاور، ارتقا، خدمات اور اہمیت – عنایت جلیل قاضی

مشہورزمانہ تاریخی بازار،قصہ خوانی کےعقب میں، ایک گلی نما بازار، ٹھٹی بازار کے نام سے ہوا کرتا تھا،جو ہندو اور انگریز ادوارمیں، پشاور کا بازار حسن کہلاتا تھا۔ اس بازارکے بالاخانوں میں، ڈھول کی تھاپ پر،پائل کی جھنکار میں، صنف نازک کی جسمانی شاعری رات گئے تک جاری رہتی۔ رات کے پچھلے پہر، رند، خماراور نیند سے بوجھل، نیم کھلی آنکھوں کے ساتھ ، قصہ خوانی،جہانگیرپورہ اور شاہ برہان کی گلیوں میں، تھرتھراتے، ڈگمگاتے قدموں اور خود کلامی کے ساتھ چلتے پھرتے نظرآتے۔ پھریوں ہوا، کہ اس بازار میں کچھ صوفی منش لوگ آئے، اوران کی کاوشوں سے، بازار حسن،اسلام آباد بازار بن گیا۔

یہ غالباً 1939 کی بات ہے، کہ لویر چترال کے گاٶں کُجو سے دو بھائی، قاضی خیر محمد اور قاضی محمد میاں، جوقاضیاں کُجو کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، اس بازار سے متصل جہانگیرپورہ بازار میں، ایک دکان کھول لی۔ چند سال بعد،1942میں، اپر چترال کے اویر نامی گاٶں سے شمس الرحمٰن انوری (قوم خوشے) نے میں ٹھٹی بازارمیں، چترالی مصنوعات کی دکان کھولی، اور یوں،اس بازار میں چترالی مصنوعات کی کاروبار کا آغاز ہوا۔ سلسلے چلتے رہے اورکارواں بنتے گئے اور اس وقت، اس بازار میں، چترالیوں کی کل 180 دکانیں ہیں (جبکہ ضلع پشاور میں چترالیوں کی کل دکانوں کی تعداد 850 سے ذیادہ ہے)۔ اس کاروبار سے وابستہ، سینگڑوں کاریگر، رزق حلال کما نے میں مصروف ہیں۔ یہ بازار، پشاور میں چترالیوں کی آماجگاہ اور پناہ گا ہے۔

chitrali bazar peshawar 4

یقیناً ، ابتدائی دور، نووارد چترالیوں کے لئے ایک مشکل دور ہوتا ہوگا، یہاں کے لوگ ماضی قریب تک، ذہنی طور پر چترالیوں کو قبول نہیں کرتے تھے۔ ان کی سادگی کی وجہ سے، اپنے سے کم تر سمجھنا، دھوکہ دینا، زور زبردستی کرنا روزمرہ کا معمول تھا۔ چترالیوں کے ساتھ، اکیسویں صدی میں بھی یہی کچھ ہوتا رہتا ہے، تو اس زمانے کی بات ہی کچھ اور ہوگی۔ ہماری شرافت ہماری طاقت نہیں، بلکہ ہماری کمزوری سمجھی جاتی ہے اور ہم، ہر قدم پر استحصال کا شکار نظر آتے ہیں۔ ذرہ سوچئے، اس زمانےمیں کن حالات سے یہ بہادر لوگ دوچار رہے ہوں گے۔ لیکن اس بازار کے ابتدائی لوگ ، دیانتداری، صداقت اور صبر سے کام لیتے رہے اور قلیل عرصے میں چترال کےلئے نرم گوشہ اور شناخت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان ابتدائی لوگوں میں، شمس الرحمٰن انوری، حافظ اویری، نادر خان، میراحمد بلبل، صالحین صاحب۔ حاجی سعیداللہ، حاجی رحمت خان،سیکریٹری نورغازی،صدر امان اللہ، ماسٹر ولی الدین، حاجی میر طانیت شاہ، حاجی عظیم،بزرگ حاجی۔ حسین حاجی۔ حاجی تکبیر خان، خان حاجی، ولی شاہ حاجی، حاجی محمد شاہ، حاجی عزت من شاہ المعروف کابلی جان،حاجی حبیب اللہ، گلسمبر خان، فضل خان ماما۔ میرزہ خان، عبدالواحد، حاجی گل محمد، اور حاجی غیاث الدین نے اچھے نام کمائے۔ بعد میں آنے والوں میں، صادق آمین مرحوم، حاجی خلیل الرحمان، حاجی فضل خان، شاکرالدین،محمد فاضل، حاجی صفدر حکیم ، حاجی حکیم، حاجی امان اللہ، عمرعظیم، قیوم لالہ، محمد طئیب ،حسن محمود، ابراہیم، دوردانہ خان، فیض اللہ، شکور اعظم، اسلام الدین،حاجی مقصود، حاجی ژنوژان، زار بہار، حاجی الیاس شیرعبداللہ اور شیرعزیز نے کاروبار میں نام کماکر صاحب جائداد ہوئے۔

چترالی بازار پشاور، چترالیوں کو بہت کچھ دے چکا ہے اور دے رہا ہے۔ اس حوالے سے سب سے اہم کام، کاروباری ذہن سازی ہے۔ چترالی، من حیث القوم، کاروبار کو ذیادہ پسند نہیں کرتے اور سرکاری ملازمت کے دلدادہ نظرآتے ہیں، لیکن اس بازار نے ان کو کاروبار کی طرف راغب کیا اور اس سے وابستہ لوگ، معاشی طور پر مستحکم ہوکر دوسرے لوگوں کے لئے مثال اور ترغیب کے سبب بنتے گئے۔ یوں اس بازار نے چترال کے کئی خاندانوں کو،غربت سے نکال کرآسودہ حال کردیا۔ پھر لوگ ملتے گئے ، کارواں بنتے رہے۔ 180 دکانیں اور ان سے جُڑے لگ بھگ تین ہزار کاریگر، چترالی مصنوعات کے روزگار سے وابستہ ہیں۔ اگر ہم ایک درمیانی دُکان کے حساب سے بازار کا جائزہ لیں تو، اس بازار میں لاکھوں کپھوڑ بنتے،اور بکتے ہیں جن سے اچھی خاصی آمدن ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ چترالی واسکٹ، کوٹ اور چوغے کی بھی بڑی مانگ ہے۔ ساتھ ساتھ سینگڑوں کاریگر، دان رات کام کرکے چترال کی اقتصادی ترقی میں بہت بڑا حصہ ڈال رہے ہیں۔

chitrali bazar peshawar1

تعلیم کے حوالے سے بھی اس بازار کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ چترال سے تعلق رکھنے والے کئی افسران، ڈاکٹرز اور دیگر لوگوں کا زمانہ طالب علمی میں اس بازار سے بلواسطہ یا بلا واسطہ تعلق رہاہے اور انتہائی مشکل اوقات میں اس بازار سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ بازار کے 180 دکانداروں اورسینگڑوں کاریگروں کے بچے اور رشتہ دار، پشاور میں دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کرچکے ہیں اور کر رہے ہیں۔ بازار سے وابستہ ہر فرد کے گھر میں کم ازکم ایک دینی یا دنیاوی تعلیم یافتہ ضرور موجود ہے۔ اس وقت ضلع پشاور کے اندر 90 مساجد کے خطیب اور امام چترالی ہیں اور ذیادہ تر کا تعلق بلواسطہ یا بلا واسطہ اسی بازار سے ہے۔ امسال، اسی بازار سے وابستہ ماجداللہ، سی ایس ایس پاس کر چکا ہے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹرخالد اقبال، انجنئر ظہیرالدین، انجنئر سیف اللہ، انجنئر نسیم اللہ، ایڈوکیٹ صادق امین، ایڈوکیٹ توفیق اللہ (صدر چترال لائرز فورم)، پروفسر ڈاکٹر جمیل چترالی۔سرجن ڈاکٹر محب الرحمان۔ سنئر صحافی عبدالودود بیگ۔ سابق سٹلمنٹ آفیسر شاہ نادر،پروفیسرڈاکٹراسداللہ ،معروف وکیل نیاز اے نیازی۔ ڈاکٹر محمد قاسم ، ایڈشنل ڈپٹی کمشنر عبدالولی چیف، پروڈیوسر نظام الدین ۔ ڈپٹی ڈائرکٹر محمد خالد، آئی ٹی کی دنیا کا ایک کامیاب نام عطاٗالرحمٰن، پرائڈ آف چترال کے ایڈمن خلیل احمد، سنئر صحافی فیاض احمد، معروف ٹووراوپریریٹر جلیل احمد اسی بازار سے وابستہ رہے ہیں۔

اس بازار کی سیاسی خدمات کے حوالے سے بات کی جائے تو، چترالیوں کو سیاسی شعور اور حقوق دلوانے کے حوالے سے اس بازار کے تاجروں نے ہراول دستے کا کام کیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ سب سے پہلے میر احمد بلبل، محمد نادر خان نے چترال یونئین تشکیل دے کر سیاسی بیداری کا آغاز کردیا۔ میر احمد بلبل پیپلزپارٹی کا جیالا تھا اور عمر کے آخری لمحے تک اس منشور سے جُڑے رہے۔ بعد میں صادق امین مرحوم نے بازار کا بھاگ ڈور سنبھالا تو پشاور میں چترالیوں کو ایک نئی شناخت مل گئی۔ چترالی بازار کے لوگ جلوس جلسوں میں، شاہراہیں بند کرنے کے قابل ہوگئے۔ صادق امین سیاسی طور پر عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ بلور برادران اور دوسرے سیاسی زعما، ان کے والد صاحب، ماسٹر ولی الدین کے شاگرد رہے ہیں۔ صادق امین مرحوم، پشتو، ہندکو اور اردو پر مکمل دسترس رکھتے تھے اور فن تقریر کے بھی ماہر تھے۔ سیاسی داوپیچ کے بھی ماہر تھے۔

chitrali bazar peshawar2

انہوں نے چترال یوتھ ارگنازئشین اور چترال تجار یونئین جیسی متحرک فورمز کی بنیاد رکھی۔ صادق امین کی سیاسی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میہں لکھی جائیں گی۔ سیاسی لحاظ سے اس وقت میدان عمل کے شیرعبدالطیف کا تعلق بھی اسی بازار سے ہے۔ عبدالطیف گزشتہ 22 سالوں سے تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ، ایک سنیر رہنما ہیں۔ عبدالطیف کے بھائی عبدالرزاق اس وقت چترالی بازار کے صدر نشین اور تحریک انصاف کے ایک فعال سیاسی کارکن ہیں۔ انجمن تاجران پشاور کے جائنٹ سکریٹری ہیں اور سیاسی داو پیچ سے باخبر ہیں۔ اسی بازار سے وابستہ شاکرالدین کاروبار، وکالت اور سیادست تینوں سے وابستہ ایک فعال چترالی ہے۔ سیاسی لحاظ سے، پیپلزپارٹی سے وابستہ ہے۔ صادق امین کے فرزند انجمند، فہد آمین، اس بازار کے نووارد ہیں۔ والد صاحب کی وفات کے بعد چترالی بازار کے کاروبار کے ساتھ جُڑگیا ہے۔ یہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، مٹی زرخیز ہے اور امید ہے کہ مستقبل قریب میں، والد صاحب کی سیاسی خلا کو پر کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔ لواری ٹنل تحریک ، پشاور میں چترالیوں کی سب سے بڑی تحریک تھی اور اس کا مرکز یہی چترالی بازار تھا۔ یہی دکاندار اپنا کام کاج چھوڑ کربھوک ہڑتالی کیمپ لگاتے رہے، جلوس جلسے کرتے رہے۔ مرکزی قائد مولانا عبد الاکبر کے ساتھ، جناب صادق امین مرحوم، جناب عبدالطیف اور دوسرے دکاندار، اپنا سب کچھ قربان کرتے رہے۔

chitrali bazar peshawar

چترالی بازار پشاور کی، چترال کے لئے سماجی خدمات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ بےسہارہ چترالوں کو سہارا دینا، بیماروں کو عطایات خون دینا، مُردوں کو دفنانا یا لاشوں کو چترال بھجوانے کی انتظامات کرنا اور چترال سے متعلق مسائل کو حل کرنا، گویا ان کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے اس بازار کی سب سے بڑی خدمت وزیر باغ پشاور میں ایک وسیع و عریض چترالی قبرستان کا قیام ہے۔ اس قبرستان کا کل رقبہ 84 مرلہ ہے جس کی اس وقت مالیت کم از کم 5 کروڑ روپے سے ذیادہ ہے۔ یہ جگہ 1991 میں خریدی گئی تھی اور تب سے اب تک اس میں کوئی 400 کے لگ بھگ چترالی مدفون ہیں۔ اور 200 تک مزید گنجائش باقی ہے۔ اس سے پہلے پشاور میں انتقال کرنے والے چترالیوں کے لئے تدفین کا انتظام کرنا یا میت کو براستہ افغانستان چترال بھجوانا انتہائی تکلیف کا معاملہ ہوا کرتا تھا۔ چترالی بازار کی کاوشوں کی بدولت، یہ انتہائی تکیلف دہ کام اسان ہو چکا ہے۔

chitrali bazar peshawar3

اس بازار اور اس کے مکینوں نے چترالی ثقافت کو بھی چترال سے باہر متعارف اور ترقی دینے میں ایک بےمثال کردار آدا کیا ہے۔ کپھوڑ، واسکٹ، چوغہ اور کوٹ، جو چترالی لباس اور شناخت کی علامت ہیں، اسی بازار کے طفیل پوری دنیا میں چھاگئے۔ کپھوڑ اب پورے صوبے کی پہچان بن چکا ہے، بلکہ افغانستان کے شمالی اضلاع بھی اس کو اپنا چکے ہیں۔ شمالی اتحاد نے ایک زمانے میں کپھوڑ کو وردی کا حصہ تک بنا رکھا تھا۔ چترالی بازار کے اندر چترالی کھیل تماشوں اور موسیقی کے دلدادہ بیٹھے ہوئے ہیں جو کئی بیروزگار فنکاروں اور کھلاڑیوں کو موسم سرما میں مہینوں تک مہمان بناکر رکھتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان پشاور میں جس وقت کھوار پروگرام کا اجرا ہوا، تو اسی بازار سے وابستہ لوگ،فنکار بھی بنے اور سامع بھی۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اس وقت کے ثقافت پسند لوگوں نے بڑے کردار آدا کئے۔ باالخصوص بچوں کے پروگرام میں حصہ لینے والے بچے، اسی بازار کے دکانداروں کے بچے ہوا کرتے تھے۔ حاضر وقت میں، زیباوار خان ہمدرد کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ہر وقت ان کی رہائش گاہ میں ستار، دف، جریکین اور ایک گلوکار موجود ہوتا ہے۔

chitrali bazar peshawar4

گھُڑ سواری سے لے کر فٹبال تک، مرغ زرین کے پر سے لیکر پیتاوا تک ، ہر ضرورت کی چیز ان کے پاس موجود ہوتی ہے اور ہر مشکل وقت میں کھلاڑی اور فنکار کا یہی سہارا بنتا ہے۔ فٹبال، چترالیوں کا ایک انتہائی پسندیدہ کھیل ہے جس کے لئے تمام چترالی جمعے کے دن کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے معروف عالم دین اور مقرر مولانا بجلی گھر نے کہا تھا کہ ” مجھے زندگی بھر دو چیزوں کی سمجھ نہیں آئی ایک چترالیوں کا فٹبال اور دوسری پاکستان کی سیاست، دونوں میں کوئی ضابطہ قانون کی پاسداری نہیں ہوتی” چترالی بازار سے وابستہ لوگوں نے شاہی باغ یا وزیر باغ میں فٹبال کے بے مثال ٹورنمنٹس منعقد کروائے۔ ان میں جو لوگ سر فہرست رہے ان میں میراحمد بلبل مرحوم، صادق امین مرحوم، وزیر خان، عبدالعلی خان، عبدالودود، شاہ نادر اور شاکر الدین قابل ذکر ہیں۔ 1988 سے 2005 تک کوئی 30 ٹورنامنٹس میں، راقم بھی ایک منتظم اور کامنٹیٹر کی حیثیت سے حصہ لیتا رہا ہے۔ انہی ٹورنمنٹس سے کھلاڑی ابھرے اور قومی فٹبال ٹیم تک، جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ ان تمام خدمات کے پیش نظر، دیگرچترالیوں کو چاہئے کہ اس کام اور کاروبار کو ہدف تنقید بناکر، ان پر طنز کے تیر برسانے کی بجائے ان کی خدمات کا ادراک اور اعتراف کریں تاکہ چترال کے ہزاروں بیروزگار نوجوان کاروبار کی جانب راغب ہوجائیں اور خودکُشی پر مجبور نہ ہوجائیں۔

chitrali bazar peshawar5

شیئر کریں: