Chitral Times

Dec 2, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سکولوں میں کوالٹی ایجوکیشن کیلئے 3000 سکول لیڈرز کی خدمات حاصل کئے جائیںگے۔وزیرتعلیم

شیئر کریں:

6 ارب روپے کی لاگت سے صوبے کے 28 اضلاع کے 24 لاکھ سے زیادہ طلباء وطالبات کو فرنیچر فراہم کیا جائے گا


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے گورنمنٹ حسنین شریف ہائیر سیکنڈری سکول سٹی نمبر 1 پشاور میں سرکاری سکولوں میں فرنیچر فراہمی کا افتتاح کیا۔ صوبائی وزراء، ممبران اسمبلی، سیکرٹری ایجوکیشن، ضلعی ایجوکیشن آفیسرز اور طلباء و طالبات نے تقریب میں شرکت کی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے کہا کہ سرکاری سکولوں کے تمام طلباء و طالبات کو فرنیچر کی فراہمی ہمارا ہدف اور عمران خان کا وژن تھا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی حصوصی کاوشوں سے 6 ارب روپے کی لاگت سے 24 لاکھ سے زیادہ طلباء وطالبات کو فرنیچر فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلے ہوئے خیبر پختونخوا میں اب کوئی بھی بچہ ٹاٹ پر نہیں بلکہ کرسی پر بیٹھ کر پڑھے گا۔ پہلے مرحلے میں 12 لاکھ طلباء کو 3 ارب روپے اور دوسرے مرحلے میں بھی12 لاکھ طلباء کو 3 ارب روپے کی لاگت سے فرنیچر فراہم کیا جائے گا۔ جس سے تقریباً 95 فیصد طلباء و طالبات کو فرنیچر کی سہولت مہیا ہو جائے گی۔ اور اس انقلابی اقدام سے پورے صوبے کے بچوں کو فرنیچر فراہم کرکے ٹاٹ کلچر کا مکمل حاتمہ ہوگا۔

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے دیگر اہم کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے کہا کہ آؤٹ آف سکول بچوں کیلئے ڈبل شفٹ سکول پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اب بچے سیکنڈ شفٹ میں اپنے علاقوں میں ہائی لیول تعلیم حاصل کرینگے۔ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 120 سکولوں میں دوسری شفٹ شروع کرکے 3000 طلباء کو داخلہ دیا گیا ہے اور پروگرام کے دوسرے مرحلے میں 230 سکولوں کو منتحب کیا گیاہے جبکہ یہ تعداد000 1 سکولوں تک پہنچائی جائے گی۔ اور دوسرا مرحلہ عنقریب شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو بھاری بیگز سے چھٹکارا دلانے کیلئے ہلکا بستہ ایکٹ لائے ہیں۔ اسی طرح عمران خان کے وژن کے مطابق 4000 سکولوں میں 10 لاکھ پودے کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کے تحت لگائے گئے ہیں۔ اور یہ تعداد اگلے سال مزید بڑھائی جائے گی۔ طلباء و طالبات کی سہولت کیلیے صوبے کے تمام بورڈز میں سٹوڈنٹس فیسیلیٹیش مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکزمیں طلباء وطالبات کو ایک ہی چھت کے نیچے تمام سہولیات (معلومات) فراہم کی جاتی ہے۔ شہرام خان ترکئی نے کہا کہ میرٹ و شفافیت کو یقینی بنانے کیلیے ای ٹرانسفر کا اجراء کیا ہے۔ اب تمام تبادلے آن لائن ہوتے ہیں۔

اسی طرح امسال داخلہ مہم کا ہدف 8لاکھ مقرر کیا تھا اور 9 لاکھ 65 ہزار بچوں کو کامیابی سے سکولوں میں داخل کیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ امتحانات میں شفافیت کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کو ممکن بنایا گیا ہے۔اور پہلی گریڈ سے گریڈ 5 تک یکساں نصاب تعلیم کی کتابیں فراہم کی گئی ہیں۔اوردوسرے مرحلے میں گریڈ 6 سے گریڈ 12 تک کتابیں دی جائیں گی۔ جس سے امیر وغریب کے درمیان فرق ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے فروغ کے لیے خیبرپختونخوا سکول کرکٹ لیگ انڈر 16 کا آغاز کردیا ہے، 300 ٹیمیں منتخب ہیں اور 4000 کھلاڑی پریکٹس کریں گے۔جبکہ ایک ماہ میں 585 میچز ہوں گے۔ ڈیجیٹائزیشن پالیسی کے حوالے سے وزیر تعلیم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں سمارٹ سکول ایجوکیشن پروگرام شروع کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کیلئے کوڈڈ مائینڈز اور ہوپ 87 اداروں کیساتھ مفاہمتی یاداشتوں پر دستحط کر چکے ہیں۔ گرلز کمیونٹی سکول پروگرام میں کل 3500 سکول قائم ہیں،اور 1 لاکھ طالب علم داخل ہوئے ان میں 80٪ لڑکیاں ہیں جبکہ 99٪ خواتین ٹیچر ہیں۔ اسی طرح ٹیکسٹ بک بورڈ کو مکمل طور پر ڈیجیٹائزڈ کردیا گیا ہے۔ اور تمام درسی کتب ڈیجیٹلائز کی جائیں گی جوکہ ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی۔ اب ہر کوئی ویب سائٹ پر ای بک تک رسائی حاصل کر سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکولوں میں کوالٹی ایجوکیشن یقینی بنانے کیلیے سکول لیڈرز پروگرام متعارف کرایا ہے۔

پروگرام کے تحت 3000 سکول لیڈرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔جن میں 2500 گریڈ 16اور 190کو گریڈ 17 میں تعینات کیا جائے گا جن کا کام سکولوں میں صرف کوالٹی مانیٹر کرنا ہوگا۔ اسی طرح پی ٹی سی, کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کیلئے درخواست گزار کے ڈیٹا اکھٹا کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 700 اساتذہ جبکہ دوسرے مرحلے میں 1400 اساتذہ کو تعینات کیا جائے گا۔ جوکہ ڈبل شفٹ سکولز میں پڑھائیں گے۔ شہرام خان ترکئی نے گرلز اسٹائیپینڈ پروگرام کے حوالے سے کہا کہ اس منصوبے کے تحت 2.3 بلیین وظیفہ لڑکیوں کو فراہم کیا جا چکا ہے۔ اس وظیفے پروگرام کا مقصد ڈراپ آؤٹ کا تناسب کم سے کم کرنا اور لڑکیوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنا ہے۔ اسی طرح ذہین طلباء وطالبات کو میرٹ پر مبنی اسکالرشپ دیا جا رہا ہے۔ ستوری د پختون خواہ پروگرام کے تحت ہر بورڈ پوزیشن ہولڈرز کو 3 لاکھ 60 ہزار روپے سکالرشف دیا جاتاہے۔ جبکہ اساتذہ کی بہترین تربیت کیلئے پائیٹ کی تنظیم نو کی گئی ہے اور نیا ادارہ ڈی پی ڈی قائم کیا گیا ہے۔ غلط پوسٹنگ کا مکمل خاتمہ کر رہے ہیں۔ اب ہر استاد اپنے صحیح پوزیشن پر پڑھائے گا۔ رحمت اللعالمین (ص) وظیفہ پروگرام عنقریب پورے صوبے کے تمام سرکاری سکوں میں شروع کر رہے ہیں۔ سکولوں کی مانیٹرنگ کیلئے ٹیبلٹ ان اے سکول پروگرام شروع کر رہے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے شہرام خان ترکئی اور پوری ایجوکیشن ٹیم کی بہترین کارکردگی کی تعریف کی۔


شیئر کریں: