Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال انٹر پرینیور شپ ایکسچینج ایکسپوزیم چترالی طلبہ کے لئے عظیم تحفہ ۔ تحریر: اشتیاق احمد

شیئر کریں:

گلوبلائزیشن کے اس دور میں دنیا کے لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب آچکے ہیں کہ ایک دوسرے سے رابطہ اور کسی بھی ملک کے بارے میں جانکاری،معلومات اور ویڈیو کالز کے ذریعے سات سمندر پار بیٹھے ہوئے افراد سے بھی قربت کا اتنا گمان ہو جاتا ہے جیسے وہ ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں اور اسی لئے دنیا کو گلوبل ویلج کہا جانے لگا ہے۔


انڈسٹریل انقلاب کے اس دور میں انسان کو ہونے والے اقدامات، تبدیلیوں کے بارے میں آگاہی اور اپنے آپ کو اس سانچے میں ڈھالنے کیلئے مشینوں کا استعمال مجبوری بن گیا ہے اور اپنے آپ کو ان تبدیلیوں کے ساتھ ایڈجسٹ کرکے اس سانچے میں ڈھلے بغیر آگے بڑھنا دیوانے کے خواب کے علاوہ کچھ نہیں اور ہاتھ کے بجائے مشین سے مستفید ہونے کا عمل اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے۔


چترال جیسے پسماندہ اور دور آفتادہ ضلع لیکن بہتر شرح خواندگی سے لیس علاقے میں بھی جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے اور ان کے استعمال کو آسان بنانے کیلئے چترال گرم چشمہ سے تعلق رکھنے والی نگہت اکبر شاہ صاحبہ کے دل میں ایک تڑپ اٹھ جاتی ہے اور میدان میں کچھ کر گزرنے کا خیال پیدا ہو جاتا ہے۔


نیشنل انکوبیشن سنٹر پشاور اور چترال یونیورسٹی کے تعاون سے چترال یونیورسٹی میں چترال انٹر پرونیور شپ ایکسچینج ایکسپوزیم (این آئی سی) کے تحت طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے لئے دو مہینوں پر محیط ایک ٹریننگ کا آغاز کیا گیا جس کے لئے پورے چترال سے تقریباً سات سو پچاس کے لگ بھگ طالب علموں نے اپلائی کیا اور قابلیت اور اہلیت جانچنے کے بعد سو طلبہ کو اس کے لئے اہل ٹھرایا گیا۔ان دو مہینوں کے کورس میں طلبہ و طالبات کو بلاگنگ اینڈ کنٹنٹ رائیٹنگ جس کے ماسٹر ٹرینر جناب شفیق احمد،گرافک ڈیزائیننگ کی جناب محمد طییب، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اینڈ ای کامرس جناب محمد نایاب، ورڈ پریس جناب آدیب حسین اور فوٹو گرافی اینڈ ویڈیو فلمنگ کے ماسٹر ٹرینر جناب عدنان الدین کی نگرانی میں ٹریننگ حاصل کریں گے یہ ماسٹر ٹرینرزحالیہ دنوں میں پشاور میں ہونے والے اس شعبے کی ٹریننگ حاصل کرکے آئے ہیں۔


چوتھے انڈسٹریل ریوالوشن کے تقاضوں کے مطابق چترال کے طلبہ و طالبات کو اس بڑے چیلنج سے نبرد آزما کرانے کے لئے یہ اپنی نوعیت کا پہلا کارنامہ ہے جس کے لئے بجا طور پر نگہت اکبر شاہ صاحبہ داد کے مستحق ہیں اور چترالیوں پر یہ ان کا بڑا احسان ہے۔ایک اندازے کے مطابق 2030 تک موجودہ سکلز تقریباً نا پید ہو جائیں گے اور آنے والے نئے چیلنجز اور ختم ہونے والے سکلز کی جگہ نئے اور جدید سکلز لیں گی اور ان دو مہینوں کی ٹریننگ سے یہ طلبہ و طالبات آپنے آپ کو ان چیلنجز کے لئے ہر حوالے سے تیار اور لیس کریں گے اور گھر بیٹھے لاکھوں روپے کمانے کی پوزیشن میں ہونگے، وہ وقت دور نہیں جب چترال کے طلبہ و طالبات اس جدید ٹیکنالوجی کے استفادے سے اپنے خاندانوں کی بہتر انداز میں کفالت کر رہے ہونگے۔

چونکہ پاکستان دنیا کا چوتھا فری لانسنگ والا ملک بن چکا ہے اور چترال کو بھی اس شعبے میں آگے لانے کے لئے جو قدم نگہت اکبر شاہ صاحبہ نے اٹھائی ہے اور اس کورس کو فنڈ کر رہی ہیں اسی سے ان سو افراد کے توسط سے ہزاروں افراد مستفید ہونگے اور انھیں اپنے قدم پر کھڑا کرنے میں ممد و معاون ہونگی۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بیروزگاری اپنے انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ایک اندازے کے مطابق پینسٹھ لاکھ ایسے گریجویٹس ہیں جو ابھی تک روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں تو اس طرح کے ٹریننگ پروگرامز کے ذریعے سے ان کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار مزید علاقوں تک بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس تحریر کے توسط سے ہم ان سے یہ استدعا بھی کرتے ہیں کہ پورے چترال کے طلبہ و طالبات کو اس سے استفادے کا موقع مل سکے۔یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل طلبہ جو اتنی بڑی تعداد میں اس ملک میں مقیم ہیں اس طرح کے پروگرامات سے مستفید ہو کر ملک و قوم کی بہتر خدمت کر سکیں اور اس طرح کے پروگرامات کے انعقاد سے چوتھے انڈسٹریل ریوالوشینز سے استفادہ ممکن ہو سکے اور پھر یہ خوشحال پاکستان کا ضامن بن سکے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے پروگرامات کی ہر طرف سے سرپرستی اور پذیرائی ہونی چاہئے اور کوئی بھی طالب علم اس سے مستفید ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اپنے آنے والی نسلوں کو دنیاکے اندر پیش ہونے والی تبدیلیوں اور انقلابات کے لئے پیشگی تیاری سے مزین پائیں۔۔


شیئر کریں: