Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا عید میلاد النبی ﷺکے حوالے سے پیغام

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے عید میلادالنبیﷺ کے مبارک موقع پر پوری اُمت مسلمہ باالخصوص اہل پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری انسانیت کے لئے باعث سعادت ہے کیونکہ آپ کی آفاقی تعلیمات نے بنی نوع انسان کو اندھیروں سے نکال کر انسانیت کی معراج تک پہنچا دیا۔


عید میلادالنبی ﷺ کی مناسبت سے یہاں سے جاری اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ آپﷺ کی ولادت انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے، آپ ﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضہ ہے اور آپ ﷺ کی اسوہ حسنہ تمام انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے جس پر عمل پیرا ہوکر انسان دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپﷺ نے ہمیشہ انسانیت کی تکریم و محبت ، عفو و درگذر، عدل و انصاف کی بالادستی اور ظلم کے خاتمے کا درس دیا ہے۔ آپ ﷺکاخطبہ حجتہ الوداع ایسامنشور ہے جو رہتی دنیاتک نہ صرف مسلمانوںبلکہ دنیابھرکے انسانوں کی رہنمائی کاسرچشمہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ رحمت عالم کی تعلیمات کاکرشمہ تھاجس نے سب کو ایک صف میں کھڑاکرکے آقاوغلام کافرق مٹادیااور بلاامتیازرنگ و نسل فلاح انسانیت کادرس دیاجس کی بدولت اسلام دنےا کے کونے کونے تک پھیل گیا۔ انہوںنے کہاکہ محسن انسانیت کایہ انقلاب انسانی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ آپ ﷺانسانیت کے نجات دہندہ اورحقیقی محسن ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمیںکامےابی کےلئے اپنی زندگیوںمیں امانت ،دیانت ،خیرخواہی اوراسلامی بھائی چارے کوفروغ دےنا ہو گاباہمی اتحاداورقومی یکجہتی موجودہ حالات کااولین تقاضاہے۔ انہوںنے کہاکہ حقیقی اسلامی فلاحی مملکت کے قیام کیلئے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

محمود خان نے کہا کہ ریاست مدینہ کے سنہرے ا±صولوں کو اپنا کرہی ایک ترقیافتہ اسلامی فلاحی معاشرے کا قیام یقینی بنایا جا سکتا ہے اور موجود ہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک میں ریاست مدینہ اور صحیح معنوں میں ایک فلاحی اسلامی ریاست کے قیام کے لئے کوشاں ہے جس میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو، قانون سب کے لئے برابر ہو، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو، معاشرے کے نادار اور کمزور طبقوں کا خصوصی خیال رکھا جائے اور میرٹ کا بول بالا ہو۔


شیئر کریں: