Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایڈوانس انکم ٹیکس کا نیا فارمولہ ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے گھروں میں کام کرکے کمانے والوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹیکس ان کے بجلی بلوں میں شامل کیا جائے گا۔ ان پروفیشنلز میں ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ نہ ہونے والے اکاونٹنٹس، وکلاء، ڈاکٹرز، انجینئرز، آرکٹیٹکس، آئی ٹی ماہرین، ٹویٹرز، ٹرینرز اور بیوٹیشنزسمیت گھروں میں بیٹھ کر خدمات فراہم کرنے والے سروس پر و ائیڈرز شامل ہیں ان سے ماہانہ بجلی بلوں کے ساتھ نارمل ود ہو لڈنگ ٹیکس کے علاوہ 80روپے سے لیکر 650روپے تک اضافی ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔اضافی ٹیکس سمیت بجلی کا بل 10ہزارسے زائد ہونے کی صورت میں مزید 17فیصد اضافی ٹیکس لگایا جائے گا۔

ایف بی آرنے اضافی ایڈوانس ٹیکس کی جو شرح مقرر کی ہے اس کے مطابق 600روپے ماہانہ بل کی صورت میں 80روپے، ایک ہزار بل پر 160روپے،3ہزار روپے ماہانہ بل پر 350روپے، 4ہزار 500روپے ماہانہ بل کی صورت میں 450روپے، 6ہزار روپے ماہانہ بل کی صورت میں 500روپے، 10ہزار ماہانہ بل پر650روپے اور 10ہزار روپے سے زائد ماہانہ بل کی صورت میں اسی تناسب سے اضافی ایڈوانس انکم ٹیکس لیا جائے گا۔ بیس ہزار روپے ماہانہ بل پر 7فیصد، 30ہزار روپے پر 10فیصد، 40ہزار پر 12فیصد، 50ہزار بل پر 15فیصد اور پچاس ہزار روپے سے زائد ماہانہ بل پر 17فیصد اضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ایف بی آر کو کسی سنگدل نے مشورہ دیا ہوگا کہ ایڈوانس ٹیکس خود جمع کرنے کے بجائے ٹی وی فیس کی طرح بجلی کے بلوں میں ڈالا جائے تو وصولی کے سو فیصد چانسز ہیں۔اگر کوئی شخص بطور احتجاج بجلی کا بل مقررہ وقت پر جمع نہیں کرائے گا تو اس کی بجلی کاٹ دی جائے گی۔

اس طرح سانپ بھی مرے گا اور لاٹھی بھی سلامت رہے گی۔ لاٹھی کا سلامت رہنا اس لئے ضروری ہے کہ جس کے ہاتھ میں یہ ہوتی ہے بھینس اسی کی ہوتی ہے۔ اور بھینس جس کی ہوگی دودھ بھی اسی کو دے گی۔ اور بھینس کے اصل مالک دیکھتے رہ جائیں گے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھروں میں کام کرکے اس کا معاوضہ وصول کرنے والوں کا تعین کیسے ہوگا۔ اور کتنی آمدن پیدا کرنے والوں پر یہ ٹیکس لاگو ہوگا۔وکیلوں، ڈاکٹروں، انجینئروں اور بیوٹیشن کا مرکز چلانے والوں کا کھوج لگانا شاید مشکل نہ ہو۔ کیونکہ ان طبقات سے جلنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے وہ اپنا غصہ اتارنے کے لئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایف بی آر والوں کو سب کچھ بتا سکتے ہیں۔ اگر بورڈ آف ریونیو والے ایسے لوگوں کی اطلاع دینے والوں کے لئے معقول انعام مقرر کرے تو کام مزید آسان ہوسکتا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کو ایف بی آر کے طرزوصولی پر کافی تحفظات بھی ہیں۔

وہ ہر مہینے بجلی، گیس، پانی، ٹیلی فون، موبائل کارڈ اور دیگر خدمات پر مختلف اقسام کے درجن بھر ٹیکس اور تنخواہ پر انکم ٹیکس ادا کرنے کے باوجود نان فائلر اور نان رجسٹرڈ کہلاتے ہیں۔اورانہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستان کا ہر شہری مختلف مصنوعات کے استعمال اور خدمات کے حصول پر ٹیکس ادا کرتا ہے جن میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، ایڈیشنل ٹیکس، محصول چونگی، سرچارج، ایڈیشنل سرچارج اور دیگر محصولات اور ٹیکسز شامل ہیں۔ریونیو جمع کرنے والے حکام بجلی اور گیس استعمال کرکے بل دینے سے انکار کرنے والے صنعت کاروں، کارخانے داروں، جاگیر داروں، برآمد کنندگان، بڑے تاجروں، افسروں، سرکاری محکموں، کنڈہ لگا کر اے سی چلانے والوں کا غصہ بھی بیچارے ٹیکس دھندگان پر نکالتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بڑے ٹیکس چوروں کا ناطقہ اگر کسی طریقے سے بند کردیا جائے اور ان سے آمدن کے حساب سے وصولیاں کی جائیں تو شاید ایف بی آر والوں کو اپنے گھر کا چولہا گرم رکھنے کے لئے محنت مزدوری کرنے والوں کو تنگ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔


شیئر کریں: