Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں پہلی مرتبہ ڈینگی بخار کا مثبت کیس سامنے آیا،مبتلا ایک نوعمر طالب علم ہے۔ہسپتال ذرائع

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال میں پہلی مرتبہ ڈینگی بخار کا مثبت کیس سامنے آیا ہے جس میں مبتلا ایک نوعمر طالب علم ہے جس کا تعلق گرم چشمہ کے نواحی گاؤں نارکوریت سے ہے جس نے گزشتہ تین ماہ سے ضلع سے باہر کا سفر بھی نہیں کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ذرائع کے مطابق نارکوریت سے تعلق رکھنے والے 19سالہ آفتاب عالم کو منگل کی صبح تیز بخار کی شکایت ہونے پر ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان میں ڈینگی بخار کے علامات دیکھتے ہوئے ڈینگی کا ٹیسٹ کرایا جس میں نتیجہ مثبت آیا۔ انہیں ہسپتال کے جنرل وارڈ میں داخل کیا گیا ہے جبکہ ان کے بیڈ کے اوپرمچھرد انی لگائی گئی ہے۔

ذرائع نے چترال ٹائمز کوبتایاکہ اس سے قبل بھی دو افراد کو ڈینگی بخار میں مبتلا پائے گئے تھے لیکن وہ ایک ہفتے کے اندر پشاور اور سوات سے ہو آئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر لویر چترال حسن عابد نے رابطہ کرنے پر بتایاکہ انہوں نے محکمہ صحت کے پبلک ہیلتھ کوارڈینیٹرکو ہدایات جاری کردی ہے کہ مریض کے گاؤں کا معائنہ کرکے ڈینگی مچھر کے لاورا کی موجودگی کا جائزہ لینے کے ساتھ گرم چشمہ کے پوری ایریا میں دھونی دی جائے جہاں آلو کا سیزن ہونے کی وجہ سے ڈاؤن کنٹری سے بڑی تعداد میں تاجر اور ٹرک ڈرائیور اور کنڈکٹر میں گرم چشمہ آتے ہیں جوکہ اس کا سبب بن سکتے ہیں۔

KP Chief Secretary Dangue meeting


دریں اثنا چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز نے ہدایت کی ہے کہ ڈویژنل کمشنرز اور محکمہ صحت کے حکام ڈینگی وائرس

کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ یہ ہدایات چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے ڈینگی وائرس کے بارے میں سول سیکرٹریٹ پشاور میں منگل کے روز منعقدہ اعلی سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں انتظامی سیکرٹریز اور محکمہ صحت کے حکام نے شرکت کی جبکہ ڈویژنل کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ ڈینگی وائرس کے تدارک کیلئے اقدامات کو مسلسل جاری رکھا جائے۔ جن اضلاع میں ڈینگی کیسز رپورٹ ہو رہے وہاں پر باقاعدہ طور پر فوگنگ، لاروا کش سپرے اور دیگر احتیاطی تدابیر پر بھر پور توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا حکومتی اقدامات بارے میں عوام کو آگاہی دینے کے لئے محکمہ صحت اور محکمہ اطلاعات ملکر اقدامات یقینی بنائیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں ڈینگی وائرس سے اب تک ایک موت واقع ہوئی ہے۔چیف سیکرٹری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈینگی وائرس کی روک تھام اور تدارک کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جن اضلاع میں ڈینگی کے کیسز کا تناسب زیادہ ہو وہاں زیادہ مستعدی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ڈینگی وائرس کے خطرات سے بچا جا سکے۔دریں اثناء چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے کورونا ویکسینیشن بارے میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ھدایت کی کہ لازمی کورونا ویکسینیشن ریجیم کے تحت تمام اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژنل کمشنرز اپنے متعلقہ ڈویژنز میں محکمہ صحت کے ساتھ مل کر لازمی ویکسینیشن کے اس مرحلے کے دوران اہداف کو بروقت پورا کریں۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں کورونا ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک کے لیے متعین اہداف کو حاصل کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ 12 سال سے زائد عمر کے بچوں اور سکولوں کے طلبہ کی ویکسینیشن حکومت کی ترجیح ہے۔ لازمی کورونا ویکسینیشن ریجیم کے تحت تمام اضلاع میں ویکسینیشن کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے سختی سے ہدایت دی کہ شادی ہال، شاپنگ مالز، ٹرانسپورٹ اڈوں اور دیگر عوامی دفاتر میں سہولیات کے حصول کو لازمی ویکسینیشن ریجیم کے تحت کورونا ویکسین سرٹیفیکیٹ سے مشروط کیا جائے۔

خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے 62 نئے مریض، کیسز کی تعداد 1724 ہو گئی۔ محکمہ صحت
140 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج، 918 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ رپورٹ


دریں اثنا خیبرپختونخوا میں گزشتہ روز ڈینگی بخار میں مبتلا 62 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ صوبے بھر میں اب تک 1724 ڈینگی وائرس کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اس وقت 140 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ 918 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ صوبے بھر میں مشتبہ مریضوں کی تعداد 15722 ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ 38 مریض پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں 19، مردان میڈیکل کمپلیکس میں 18، ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں 10 اور کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور اور نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال پشاور میں 9، 9 مریض زیر علاج ہیں۔ صوبے بھر میں سب سے زیادہ کیسز 384 پشاور سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ نوشہرہ سے 333، بونیر سے 234، خیبر سے 158، صوابی سے 105، مردان سے 96 اور مانسہرہ سے 75 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پشاور کے 8 علاقوں کو ڈینگی کے زیادہ کیسز رپورٹ ہونے پر ہاٹ سپاٹ ڈکلیئر کیا گیا ہے جن میں سربند، اچنی، سفید ڈھیری، چارسدہ روڈ، دانش آباد، کینال روڈ، بورڈ بازار اور تہکال بالا شامل ہیں۔ اسی طرح نوشہرہ کے جہانگیرہ، شیدو اور زیارت کاکا صاحب کو ڈینگی کے حوالے سے ہاٹ سپاٹ ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈینگی سے زیادہ متاثر تیسرے ضلع بونیر کے دو علاقوں ماہی خیل اور ڈوخیل کو ہاٹ سپاٹ ڈکلیئر کیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں ڈینگی کے خاتمے کے لیے بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ڈینگی وائرس کے حوالے سے ہاٹ سپاٹس پر خصوصی نگرانی اور حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ محکمہ صحت کے جاری انٹگریٹڈ وکٹر کنٹرول اینڈ ملیریا کنٹرول پروگرام کے تحت گھروں، آؤٹ ڈور سائٹس اور پانی کی ٹینکیوں کی انسپکشن کا عمل جاری ہے اور ڈینگی لاروا کی موجودگی کی صورت میں اسے کیمیکلی اور میکینکل طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے۔ ڈینگی تدارک اقدامات کے حوالے سے جاری محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق رواں سال اب تک صوبے بھر میں 71 لاکھ سے زائد گھروں کا معائنہ کیا گیا ہے جن میں سے 2 ہزار 886 گھروں میں ڈینگی لاروا پایا گیا۔ اسی طرح 2 کروڑ 61 لاکھ 50 ہزار کنٹینرز کی انسپکشن کی گئی جن میں سے 4 ہزار 204 میں ڈینگی لاروا پایا گیا۔

محکمہ صحت کی ٹیموں نے ڈینگی لاروا کے خاتمے کے لیے 5 لاکھ سے زائد آؤٹ سائٹس کا معائنہ بھی کیا جن میں سے 1 ہزار 147 جگہیں مثبت پائی گئیں۔ ڈینگی لاروا کے حوالے سے مثبت پائے جانے والے گھروں، کنٹینروں اور آؤٹ ڈور سائٹس پر سے لاروا کی افزائش کی جگہوں کا کیمیکلی اور میکینکلی دونوں طریقوں سے خاتمے کیا گیا۔ انٹگریٹڈ وکٹر کنٹرول اینڈ ملیریا کنٹرول پروگرام کے منیجر ڈاکٹر رحمان آفریدی کا کہنا تھا کہ لاروا کی انسپکشن کے حوالے سے یہ سرگرمیاں جاری ہیں اور ان میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اب تک صوبے بھر میں 36 ہزار 799 جگہوں پر مچھر مار سپرے کیا جا چکا ہے۔ ڈینگی ہاٹ سپاٹس علاقوں میں نگرانی اور مربوط اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر رحمان آفریدی نے بتایا کہ ایسے علاقوں میں شہریوں کو مچھر سے بچاؤ کے لیے نیٹ بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق مختلف اضلاع میں عوام کو ڈینگی کے حوالے سے آگہی فراہم کرنے کے لئے مرد اور خواتین کے لیے الگ الگ سیشنز کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے اور اب تک 2 لاکھ کے قریب اسی طرح کے سیشن منعقد کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح
سیمینارز اور آگہی واکس کا بھی انعقاد کیا گیا ہے۔


شیئر کریں: