Chitral Times

Oct 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ تعلیم اور کوڈڈ مائنڈز کے مابین سرکاری سکولوں میں سسٹم ایوکیشن پروگرام شروع کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) صوبائی وزیرتعلیم شہرام خان ترکئی کی موجودگی میں ایڈیشنل سیکرٹری ریفارمز اشفاق احمد اور کوڈڈ مائنڈز کی منیجنگ ڈائریکٹرآمنہ خیشگی نے سرکاری سکولوں میں سسٹم ایوکیشن پروگرام شروع کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ مفاہمتی یادداشت کے تحت کوڈڈ مائنڈز سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور طلباء وطالبات کو سسٹم ایجوکیشن پرتربیت دیں گے۔ منصوبے کے حوالے سے صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے کہا کہ یہ منصوبہ 5 سال تک جاری رہے گا اور فیز 1 کے تحت ابتدائی 50 سکولوں میں سسٹم ایجوکیشن پروگرام شروع کیاجائیگا جس کے کامیاب تکمیل پر اس کو پورے صوبے کے تمام سکولوں تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت کچی سے لیکرگریڈ 10 تک سسٹم ایجوکیشن کیلئے افرادی قوت کی فراہمی، ان کی تربیت، ٹیکنالوجی کی فراہمی، کورس کی ڈیزائن و دستیابی اور دیگر تمام سہولیات کوڈڈ مائنڈز فراہم کرے گی۔ شہرام خان ترکئی نے مزید کہا کہ 5 سالوں کے دوران طلباء وطالبات کو سسٹم ایجوکیشن کی 15 بین الاقوامی سرٹیفیکٹس بھی کورس کی تکمیل پردیے جائیں گے، جو کہ ان کے مستقبل میں بہت کا آمد ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ کے تحت خیبرپختونخواہ کے تمام اضلاع سے تقریبا 5 ہزار لوگوں کو ملازمت کے مواقع بھی میسرآئیں گے۔ جن کو بنیادی تربیت کی فراہمی کے بعد کلاسز لینے کی ہدایت ہوگی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ منصوبے میں طلباء وطالبات کو یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے فیز 1 میں ایک جیسے تناسب سے سکول منتحب ہوں گے اور بعد کی توسیع بھی اسی تناسب سے ہوگی۔ شہرام خان نے مزید کہا کہ کہ طلباء کی بہترین راہنمائی کیلئے سالانہ بنیادوں پر طلباء وطالبات کی جانچ پڑتال کیلئے صوبائی لیول کے پروگرام اور مقابلے بھی منعقد کئے جائیں گے۔

محکمہ معدنیات و معدنی ترقی سے متعلق سرمایہ کاری و تنازعات کے حل کیلئے تین رکنی مائنز اینڈ منرل ٹربیونل کے قیام کا فیصلہ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی نے محکمہ معدنیات و معدنی ترقی سے متعلق سرمایہ کاری و تنازعات کے حل کیلئے تین رکنی مائنز اینڈ منرل ٹربیونل کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹربیونل کی سربراہی سیشن جج سطح کے چئیرمین کریں گے جبکہ ایک تکنیکی اور ایک لیگل ممبر کی تقرری بھی کی جائیگی۔ تقرری کی جانچ پڑتال متعلقہ صوبائی وزیر یا معاؤن خصوصی، نمائندگانِ محکمہ ہائے اسٹیبلیشمنٹ و قانون اور ڈی جی محکمہ معدنیات و معدنی ترقی پر مشتمل کمیٹی کرے گی جبکہ حتمی تقرری کیلئے صوبائی کابینہ سے منظوری لینا لازمی ہوگا۔ تقرری کی جانچ پڑتال کیلئے منتخب کمیٹی ٹربیونل کی کارکردگی کا سالانہ جائزہ بھی لے گی۔یہ فیصلہ صوبائی وزراء پر مشتمل تشکیل کردہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جو منگل کو سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ صوبائی وزیرِ ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے اجلاس کی صدارت کی جبکہ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمد زئی، معاون خصوصی برائے اعلٰی تعلیم و اطلاعات کامران بنگش اور سیکرٹری محکمہ معدنیات سید نذر حسین شاہ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیر اعلٰی کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمد زئی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پائی جانے والی تقریباً 250 مختلف قسم کی معدنیات کی تلاش میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے سروے، لیز، کھدائی اور دیگر تمام متعلقہ لوازمات پورے کرنے سمیت سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شرکاءِ اجلاس نے محکمہ معدنیات کے پچھلے دو سالوں کے دوران زرمبادلہ میں 130 فیصد اضافے جبکہ 5 سو زائد تنازعات کا حل یقینی بنانے پر عارف احمد زئی اور ان کی ٹیم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔اس موقع پر معاؤن خصوصی برئے اعلٰی تعلیم و اطلاعات کامران بنگش کا کہنا تھا کہ صنعت و حرفت، معدنیات و سیاحت کو وسیع پیمانے پر فروغ دینا موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے دوسرے علاقوں کی طرح ضم اضلاع بھی قیمتی معدنی ذخائر سے مالا مال ہیں اور ان کی ترقی، سروے، لیز اور تلاش کی سرگرمیاں تیز کرنے کیلئے وزیر اعلٰی محمود خان کے وژن کے مطابق بھرپور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں.اجلاس میں وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے سیکرٹری محکمہ معدنیات کو مذکورہ ٹربیونل و ممبران کیلئے قواعد و ضوابط سے متعلق امور استوار کرنے کی ہدایات جاری کرنے سمیت محکمہ معدنیات کا رواں سال معدنی ذخائر کے کان کنوں کی فلاح و بہبود جس میں ان کے بچوں کی تعلیمی سکالرشپ و وظیفے بھی شامل ہیں، کی مد میں 20 کروڑ روپے خرچ کرنے پر معاؤن خصوصی عارف احمد زئی و سیکٹری محکمہ معدنیات کی کوششوں کو بھی سراہا۔


شیئر کریں: