Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میری ڈائری کے اوراق سے – استاد تجھے سلام – تحریر شمس الحق قمر

شیئر کریں:

میری ڈائری کے اوراق سے ————- (   آج تک  اُن کے  محبت سے بھر پور الفاظ   کی ڈھارس شامل حال ہے  – استاد تجھے سلام )

تحریر شمس الحق قمر

آج  اساتذہ کو سلام  پیش کرنے کا دن ہے   اور میں ماضی کے جھروکوں سےاپنی زندگی کے  اُن  نازک اور پُر پیچ   راستوں  کو دیکھ  رہا ہوں کہ جہاں   سے    محفوظ  گزرنے  میں   ہمارے اساتذہ  کی شاندار    راہمنائی کا کلیدی کردار  ہمیشہ  ساتھ رہا ۔ پیش تر  کہ میں اساتذہ کا  ذکر کروں میں اپنی قابلیت   کا  مختصر قصہ ضروری سمجھتا ہوں ۔

 سن 1985 میں عربی کے پرچے پرا عراب کی شدید بھرمار کی بدولت میٹرک پاس کہلائے  جانے  کا استحقاق  حاصل  ہوا  – میرے میٹرک کے پرچے سے عربی کے 100 میں سے 90 نمبروں کے بے جا حصول کو  میرے کُل حاصل شدہ  نمبروں سے خدا نخواستہ  منفی کیا جائے تو مجھے  تھرڈ ڈویشن  میٹرک پاس کا اعزاز  ضرور حاصل رہے گا –  میرے تعلیمی سفر کا لب لباب یہ ہے کہ   سکول  میں داخلے کی تاریخ  اب تک  درست  نہیں ہو سکی  ؟   بہر حال اس  گتھی  کو سلجھانے  کےلئے مجھے ہر حال میں  سن1985  سے 10 سال منہا کرنے ہوں گے تو معلوم ہوگا کہ میرے  سکول میں داخلے کا سن کونسا تھا  ۔

مشکل یہ ہے کہ  ابجد جب نکال لیتا ہوں تو میرے سکول میں  داخلہ  لینے کی عمر  9 سال پر منتج ہوتی ہے  ۔ لیکن میرے والد صاحب اور سکول ریکارڈ کے مطابق ہائی سکول بونی میں میرا داخلہ 6 سال کی عمر میں ہوا تھا    جوکہ   1972 بنتا ہے ۔ 72 میں اگر  داخلہ ہوا تھا    تومجھے   میٹرک  کرنے  میں 10 سال کے بجائے   13 سال  کیوں کر  لگے؟ اس پیچدار سوال کا جواب میرے ہم جماعت  رحمت اللہ  بزاندہ ،  محمدی  پرسنک، بودین    پرسنک،  حیدر شکراندہ ، دلبر  اور معراج بونی گول ، اسلم  ڑوقاندہ،   غلام مصطفی ، شاہ نواز ، سردار ولی تاج ،    زکریا    بونی ڈوک شمس الدین   اویر  اور  کئی  ایک پر منکشف ہے  ۔  آج تک اپنے آپ کو  اپنے  ہم عصروں میں کند ذہنی کا باوائے آدم  تصوّر     کرتے ہوئے بھی     اپنی قابلیت کے بیان میں تشنگی  باقی  محسوس ہوتی ہے  جو کہ سو فیصد درست  ہے   ۔

my teachers

مجھےآج کی طرح  یاد ہے جب میں جماعت پنچم میں تھا تو  میرے والد  صاحب  نے  اپنے  دوست  افضل استاد  ( چرون )کو میرے لیے  حساب کا ٹیوٹر  مقرر کیا  تھا ایک ایسا ٹیوٹر  جو  گھنٹوں  مغز ماری بھی کرے   اور اُجرت بھی نہ لے وہ   افضل استاد   ہی  ہو سکتے  تھے     ۔  موصوف والد  صاحب کے دوست  اورننھیال کی طرف سے میرے ماموں ہیں     ۔ آپ   اپنے دور کے    ریاضی   کے  نامور استادوں  میں شمار ہوتے تھے ۔  موصوف تقسیم کے باب میں پانچ دنوں تک  مسلسل عرق ریزی سے  مجھے پڑھانے کے بعد پُر امید تھے کہ اب اُن کی محنت  ضروررنگ لائے گی ۔ اُنہوں نے   تقسیم کے ایک سوال سے میرا امتحان لیا ۔ سوال  ( 4/2) کا تھا ۔ یعنی  چار چیزوں کو دو میں تقسیم  کرنا۔ میں نے بہت سوچ بچار کے بعد  6  جواب لایا  جو کہ میرے حساب سے بالکل درست جواب تھا  ۔  میرا جواب سن کر  سر کو  کوئی  حیرت نہ ہوئی   اور نہ ہی اُسے غصہ آیا   – یہی نہیں بلکہ اُنہوں نے مجھے  مزید پیار سے سمجھانے کی کوشش کی کیوں کہ وہ استاد تھے اور اُنہیں سکھانے کا گر آتاتھا

tufiq jan

لہذا موصوف نے عملی طور پر مجھے سمجھانے کی حکمت  عملی  اختیار کی  اور سامنے رکھی لکڑی کی چار  بوسیدہ کرسیوں کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا ” دیکھو ، وہ چار کرسیاں ہیں اور ہم دو لوگ ہیں اگر اُن چار کرسیوں کو ہم دو میں برابر برابر تقسیم کیا جائے تو آپ کو اور مجھے کتنی کرسیاں ملیں گی ؟ “   گویا اُس نے رائی کاپہاڑ  میرے کمزور شانوں پر  گرادیا یہ تو میرے لیے  پہلی والی تھیوری سے بھی زیادہ  تکلیف دہ سوال تھا ۔ کیوں کہ یہاں تو سوال کو عملی طور پر حل کرنا تھا ۔  مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا  ، لیکن میں اپنے پہلے والے جواب  پر  تا حا ل ثابت قدم رہتے ہوئے  دوبارہ  6 جواب نکالا ۔  سر   افصل کیوں کہ ایک  اعلیٰ    اپنے کام میں یکتا  پیشہ   تھے  لہذا   انہوں نے سب چھوڑ چھاڑ کےگھریلو    اور نجی گفتگو  شروع کی  اور  بیچ میں   میرے گھر ہستی کی تمام سرگرمیوں کی  دل کھول کر تعریف کی   ۔ مجھ میں حوصلہ پیدا  ہوتے دیکھا تو      مجھے    اس  بات کا   مزید حوصلہ  دیکر کہ  میں   پڑھائی میں بھی  اچھا ہوں البتہ تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے   جبکہ دوسرے طلبہ کے ساتھ   بہت زیادہ محنت کرنی  پڑتی ہے ، دوبارہ سوال کی طرف آئے    ۔

afzal ustad

   ہم سوال کی طرف دوبارہ آ ہی رہے تھے کہ  والد صاحب در آئے    اورسر افضل سے پوچھے”  لڑکا  کیسا  جا رہا ہے ؟  ”  اُن کا  یہ سوال       میرے لیے  قیامت  سے  کم  نہ تھا ۔ اب  زرا  ایک اچھے ٹیچر کا جواب سنیئے  ، بولے  ”  ماشا اللہ بہت تیز  بچہ ہے بس تھوڑی سی   محنت کرے  تو    ہم جماعتوں سےسبقت پا لے گا ۔”  آج تک  اُن کےمحبت  سے بھر پور الفاظ   کی ڈھارس شامل حال ہے ۔ انہوں نے  بہت نزاکت سے کام لیا تھا  کیوں میرا  پورا مستقبل اُن کے پیش نظر تھا ۔  کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔     لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام    آفاق کی اس کارگہ  شیشہ گری کا ۔  میری  زندگی میں  ایسے کئی ایک شیشہ گروں کا  ساحرانہ  کردار رہا ہے    کہ جنہوں نے بڑی نزاکت سے  مجھے ایک سانچے میں ڈھالا  ۔  آج چونکہ  اساتذہ   کا دن ہے  ۔ 

میں ایک  استاد کو ایک سے جدا  کر کے  قطعی  طور پر نہیں  دیکھ سکتا  یہ صرف   سر افضل کی کہانی نہیں  بلکہ  تمام  اساتذہ کی ہے  کیوں کہ   تمام   نے اپنی  بساط کے مطابق سر افصل   جیسی محبتوں سے نوازا ہے ۔ہمیں ہمارے زمانے کے  بہت سارے اساتذہ کے  نام معلوم   نہیں کیوں کہ اُس زمانے  میں  کسی استاد کو  نام سے   پکارنا معیوب سمجھا جاتا تھا  لہذا  ہم    اکثر اُن کے   علاقوں  کی نسبت سے   اُنہیں   یاد کرتے  تھے ۔ میں شروع سے لیکر آخر تک  بہت شریر طالب علم رہاں ہوں  لیکن آپ کی محبتوں  کی طفیل  میں معاشرے کا ایک اچھا انسان اور ملک کا ایک پرامن  شہری ہوں  ۔

   آج میں   اپنی زندگی اور اپنی اولاد  کی زندگی کو  آپ ہی کی   مرہونِ منت سمجھتا ہوں ۔   میرے  قابل  صد تحسین  اساتذہ  کرام !   میں آپ کا نام لیکر آپ  کو  دل سے تحسین و سلام پیش کرتا ہوں :

chitraltimes teachers day chitral


شیئر کریں: