Chitral Times

Feb 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ٹریفک حادثات، وجوہات اور تدارک ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

وفاقی حکومت نے ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کے استعمال کو سنگین جرائم کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزارت داخلہ اور وزارت قانون نے تجویز پیش کی ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے والے موٹرسائیکل سواروں کوایک ہزار روپے، کار ڈرائیوروں کوایک ہزار پانچ سو روپے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کو 2 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ موبائل فون پر ایس ایم ایس کرنا، کال کرنا، کال وصول کرنا، وائس میسج بھیجنا اور وڈیو بنانا خلاف قانون تصور کیاجائے گا۔ایک سروے کے مطابق ملک میں ماہانہ ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کی تعدادکورونا، کینسر، یرقان، گردوں کے امراض، ٹائیفائیڈ،امراض قلب اور دیگر بیماریوں میں جاں بحق کی تعداد سے دوگنی ہے۔ ٹریفک حادثات کی اہم وجوہات میں ڈرائیوروں کا موبائل فون استعمال کرنا، موسیقی سننا، نشہ کرنا، ٹریفک قوانین سے نابلد ہونا، تیز رفتاری، گاڑیوں میں نقص اور رات کے وقت سفر کرناشامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران اٹھارہ ٹریفک حادثات میں 25افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ بیس افراد شدید زخمی ہیں ان میں سے بارہ افراد کے زندگی بھر کے لئے معذور ہونے کا خدشہ ہے۔ پشاور اور اسلام آباد سے چترال کے لئے صرف رات کے وقت گاڑیاں جاتی ہیں کھلی سڑکوں پر تیز رفتاری سے گاڑی چلانے سے اکثر حادثات رونما ہوتے ہیں۔ تنگ اور دشوار پہاڑی راستوں پر رات کے وقت ڈرائیونگ کرتے ہوئے ڈرائیوروں پرنیند کے غلبے کی وجہ سے غنودگی طاری ہونا فطری امر ہے اور زیادہ تر حادثات ڈرائیوروں کی آنکھ لگنے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی اڈوں، بغیر روٹ پرمٹ چلنے والی گاڑیوں، رات کو سفر کرنے،سرکاری نرخنامے سے زیادہ کرایہ وصول کرنے کے خلاف کاروائیوں کی بارہا ہدایات دی ہیں لیکن ٹریفک پولیس کی سرپرستی میں چلنے والے ان اڈوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوپارہی۔

حکومت کورونا اور پولیو پر قابو پانے کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ امراض قلب و جگر کے لئے الگ ادارے بن رہے ہیں، جذام، زیابیطس اور دیگر امراض کے علاج کے لئے الگ ہسپتال بنائے جارہے ہیں لیکن کسی حکومت نے سب سے زیادہ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب ٹریفک حادثات کم کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ موٹر وے سمیت شاہراہوں کے کنارے 70سے زائد اقسام کے سائن بورڈ ز لگے ہوتے ہیں ان میں کچھ گول، کچھ چوکور اور کچھ تکون ہوتے ہیں۔ 44سائن بورڈز ان قوانین سے متعلق ہیں جن کی خلاف وزری پر جانی نقصان کا خدشہ ہوتا ہے جبکہ 32نشانات وہ ہیں جن کی خلاف ورزی پر ڈرائیور گرفتار اور گاڑی سرکاری تحویل میں لی جاسکتی ہے۔ 24سائن بورڈز میں پلوں، دریاؤں، نہروں، سکولوں، ہسپتالوں اور شہری آبادی کی نشاندہی ہوتی ہے ان نشانات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہاں سے گذرتے ہوئے رفتار کم کی جائے تاکہ جانی نقصان سے بچا جاسکے۔ سڑک پر دو سفید یا پیلے رنگ کی لکیریں ہوتی ہیں۔

انتہائی بائیں جانب کا حصہ سست رفتار گاڑیوں، درمیانی حصہ عام ٹریفک کے لئے مختص ہوتا ہے۔ سڑک کی انتہائی دائیں جانب کا حصہ ایمرجنسی یا وی آئی پی موومنٹ کے لئے مختص ہوتا ہے۔ عام گاڑیاں اسے صرف بیس سیکنڈ تک آگے والی گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کے لئے استعمال کرسکتی ہیں۔ ان ٹریفک نشانات کے بارے میں 80فیصد ڈرائیوروں کو علم ہی نہیں ہوتا۔قانون کے تحت دھواں دینے اور شور مچانے والی گاڑیاں سڑکوں پر چلانے کی ممانعت ہے کیونکہ اس سے فوگ اور نائیس پالوشن پھیلتی ہے۔ہماری سڑکوں پر ایسی درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں گاڑیاں روز چلتی ہیں قانون نافذ کرنے والوں کی توجہ کبھی اس طرف نہیں جاتی۔ ٹریفک حادثات اور اس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکنے کے لئے ضروری ہے کہ موٹر سائیکل سواروں سے لے کر موٹرکار، سوزوکی، لوڈر، ٹریکٹر، ٹرالی، ٹرک اور ہیوی گاڑیاں چلانے والوں کو لائسنس کے اجراء سے قبل ٹریفک قوانین کا امتحان پاس کرنے کا پابند بنایاجائے اورحادثے میں غلطی ثابت ہونے اورجانی نقصان پر لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کاڈرائیور کو پابند بنایاجائے۔


شیئر کریں: