Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاحتی مقامات تک رسائی کیلئے گیارہ ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کا جال بچھارہے ہیں – محکمہ سیاحت

شیئر کریں:

سیاحتی مقامات تک رسائی کیلئے گیارہ ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کا جال بچھارہے ہیں، ٹریکنگ کیلئے چار بڑے ٹریکس بھی منصوبے میں شامل ہیں، سیکرٹری محکمہ سیاحت


صوبے میں کیمپنگ پاڈز کے کامیاب پراجیکٹ کو توسیع دیتے ہوئے تیسرے مرحلے میں مزید 5 مقامات کی تلاش جاری، 20 مقامات تک پراجیکٹس کو بڑھایا جائے گا، ڈی جی کامران آفریدی


پشاو(چترال ٹائمز رپورٹ) سیکرٹری محکمہ سیاحت، ثقافت، کھیل، آثارقدیمہ، میوزیم و امورنوجوانان خیبرپختونخوا نے عالمی یوم سیاحت کی مناسبت سے کہاکہ محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا وزیراعظم عمران خان اورصوبائی حکومت کے وژن کے مطابق صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے متعدد منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے، یونائیٹڈ نیشن ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کا سال 2021 پرعالمی یوم سیاحت کا خیالیہ ” جامع ترقی کی سیاحت ” ہے۔محکمہ سیاحت خیبرپختونخوااور خیبرپختونخوا کلچر اینڈٹورازم اتھارٹی صوبے میں سیاحت کی ترقی اور نئے مقامات کی آباد کاری سمیت مختلف پراجیکٹ پر ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے۔سیکرٹری محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا محمد عابد مجید نے کہاکہ سیاحتی مقامات تک رسائی کیلئے گیارہ ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔خیبرپختونخوا میں سیاحوں کو بہترین سیاحتی ماحول فراہم کررہے ہیں۔صوبے کا رخ کرنے والے سیاح صوبے کے سیاحتی مقامات کی خوبصورتی بحال کرنے میں حکومت کیساتھ تعاون کریں۔

محکمہ سیاحت کالام کو کمراٹ سے ملانے کیلئے سڑک کی تعمیرسمیت ایون تا کالاش، بمبوریت اور رمبور وادی،چترال تا گرم چشمہ سڑک تعمیر کی جائے گی جبکہ اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی سڑکوں کا جال بچھایا جائے گا تاکہ سیاح باآسانی سیاحتی مقامات تک پہنچ سکیں۔ عالمی یوم سیاحت پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کیپٹن (ر) کامران احمد آفریدی نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام ہو رہا ہے۔صوبے کے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے بڑھتے رش کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ سیاحت سیاحوں کیلئے نئی سیاحتی وادی گنول سمیت دیگر مقامات متعارف کروارہا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ٹریکنگ کے شوقین افراد کیلئے چار مقامات پر ٹریکس بھی بنائے جائینگے۔ جن میں ایبٹ آباد کی حسین وادی ٹھنڈیانی تا نتھیاگلی ٹریک جو کہ ٹھنڈیانی سے برینگلی، ڈگری بنگلہ سے میران جانی ٹاپ اور نتھیاگلی میں اختتام پذیر ہو گا۔ اس ٹریک پر 1500 سال پرانے درخت بھی موجود ہیں۔ انگریز دور کا یہ ٹریک 40 کلومیٹر پر محیط ہے۔

دوسرا ٹریک ٹھنڈیانی تا ستو بنگلہ ہے جوکہ 1902 میں انگریز دور میں بنایا گیا تھا۔ تیسرا ٹریک وادی کاغان میں وادی ماہنور سے بیاری فارسٹ، آنسو جھیل اور پھر سیف الملوک جھیل تک ہے جو کہ تین دن اور 2 راتوں پر مشتمل ٹریک ہے۔ چوتھا ٹریک شنکیاری ٹاپ سے کنڈ بنگلہ، شہید پانی، ندی بنگلہ تا موسیٰ کا مصلحہ 40کلومیٹر ٹریک منصوبے کا حصہ ہے۔ان ٹریکس پر سیاحوں کیلئے آرام گاہیں، بیت الخلاء سمیت ٹوور گائیڈ اور دیگر سہولت فراہم کی جائینگی۔کمراٹ تا مداکلشت چترال کیبل کار کی فزیبلیٹی مکمل کر لی گئی، وادی چترال کی تاریخی ثقافت، کیلاش وادی کی ثقافت اس کی بحالی،سیاحتی مقامات میں ٹریفک کی روانی بحال رکھنے اور سیاحوں کی سہولیات کیلئے ٹورازم پولیس کی بھرتی، صوبائی حکومت کے زیراہتمام تمام سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور گیسٹ ہاؤسز کو نجی شعبے میں لیز پر دینے، صوبے کے 10سیاحتی مقامات پراپنی نوعیت کے منفرد کیمپنگ پاڈز کی نجی شعبے کو لیز پر منتقلی کا عمل، آثارقدیمہ کی سائٹس پر ہیریٹیج ٹورازم کی بحالی سمیت دیگر ترقیاتی کام جاری ہیں۔

اس کے علاوہ کیمپنگ پاڈز جو کہ پہلے مرحلے میں ٹھنڈیانی، شاران، بشیگرام، یخ تنگی، شیخ بدین میں لگائے گئے اس کے بعد گبین جبہ، کالاش، الئی بٹگرام، مہابن اور شہید سر بونیر میں نئے لگائے گئے جو اس سال سیاحوں کیلئے کھولے جائینگے جبکہ اس کامیاب منصوبے کے بعد حکومت نے اس منصوبے کو برھاتے ہوئے دس نئے مقامات پر یہ کیمپنگ پاڈز نصب کرنے کی ہدایت دی ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں پانچ نئے مقامات کی تلاش جاری ہیں۔اس کے علاوہ کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے ڈویژنل سطح پر دفاتر کا قیام، 167 ریسٹ ہاؤسز کو لیز پردینے سمیت مختلف مقامات پر سکی ریزورٹ بنانے کیلئے بھی کنسلٹنسی جاری ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کے وژن کے مطابق صوبے میں سیاحت کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے ہوم سٹے پراجیکٹ کا آغاز کررہے ہیں جس میں محکمہ امورنوجوانان اور خیبربینک کے تعاون سے سیاحتی مقامات پر نوجوانوں کو قرضے فراہم کئے جائینگے جس میں وہ بازار کے قریب اپنے گھروں کا ایک کمرہ سیاحوں کیلئے ٹورازم کے بتائے ہوئے ماڈل کے تحت تیار کرینگے جہاں وہ یہ کمرے سیاحوں کو رہائش کیلئے فراہم کرینگے اور ان سے کرایہ وصول کرکے روزگار کما سکیں گے۔ خیبرپختونخوا کلچر اینڈٹورازم اتھارٹی صوبے میں شامل ہونے والے ضم اضلاع کی 7 ڈسٹرکٹس میں بھی سیاحت کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں۔ جس میں مختلف مقامات کا سروے کیا جا رہا ہے جہاں پر کیمپنگ پاڈز، پکنک سپاٹس، سیاحتی مقامات تک سڑکوں کی فراہمی، آرام گاہیں، سیاحتی و ثقافتی سرگرمیوں، فیسٹیول کا انعقاد اور بہت کچھ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس سے ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کے بعد سیاح ان ضم اضلاع کی جانب بھی سیر وتفریح کیلئے جا سکیں گے۔


شیئر کریں: