Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تلخ و شیریں ۔ نومنتخب ضلعی صدر کی ترجیحات ۔ نثار احمد۔

شیئر کریں:

پیپلز پارٹی کسی دور میں پاکستان کی واحد وفاقی جماعت سمجھی جاتی تھی۔ یہی وہ اکیلی پارٹی تھی جس کی گہری جڑیں چاروں صوبوں کے عوام میں تھیں۔ ماضی میں ہر صوبے کی اسمبلی میں بھرپور نمائندگی رکھنے والی جماعت دن بدن سکڑ کر آج سندھ کی جماعت بنتی جا رہی ہے۔ پہلے اُس صوبے سے تقریباً اِس کا صفایا ہو گیا جہاں انیس سو سڑسٹھ(1967) میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر اس کا تولد ہوا تھا پھر اگلے مرحلے میں خیبر پختونخوا سے بھی عوامی حمایت کھو دینے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ گوکہ اس کا ووٹ بینک اب بھی تمام صوبوں میں موجود ہے لیکن پہلے جیسا نہیں۔

یہ کوئی چھوٹی پارٹی نہیں تھی۔ عشروں تک ملک کے چپے چپے پر زوالفقار بھٹو کی اس پارٹی کا طوطی بولتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کا شاید ہی کوئی کونا ہو جہاں بھٹو کا جیالا نہ رہتا ہو لیکن اس کی پہلی جیسی اثر پذیری اب نہیں رہی۔ جماعت کس نہج اور کس ڈگر پر چل کر اس حالت میں پہنچی اور کیسے پہنچی اس کا تجزیہ سیاسی تجزیہ کار ہی بہتر انداز میں کر سکیں گے بے نظیر بھٹو کی قیادت سے محروم ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اب  بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ایک دفعہ پھر اپنی کھوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے کوشاں دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں نہ صرف صوبائی سطح کی قیادت میں ردوبدل کیا گیا بلکہ ضلعی سطح کی قیادت کو بھی تبدیل کر کے نئے انرجٹک چہروں کو زمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

خیبرپختونخوا کے مسند ِ صدارت پر نجم الدین خان کو بٹھایا گیا ہے۔ نجم الدین خان پیپلز پارٹی کا پرانا چہرہ بھی ہے، سینئر ورکر اور قدآور رہنما بھی۔

چترال میں نئے سرے سے اس پارٹی میں روح پھونک کر اسے اٹھانے اور جیالوں کو متحرک کرنے کی زمہ داری انجینئر فضل ربی جان کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ انجینئر صاحب بلاول کی توقعات پر اترتے ہوئے اس چیلنج سے نمٹنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ آنے والا الیکشن ہی بتائے گا۔ سر دست انجینئر صاحب کا “سابقہ کارکردگی کارڈ” اس سوچ کی تائید کر رہا ہے کہ انجینئر صاحب کے لیے یہ کام زیادہ مشکل نہیں ہو گا۔ سن 1993 کو میٹرک کے امتحان میں ضلع بھر میں پوزیشن حاصل کرنے والا فضل ربی وہ واحد طالب علم تھا جسے اسلامیہ کالج میں داخلہ ملا تھا۔ ایف اے سی امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے سعودی عرب سدھار گئے لیکن ناسازی ء طبع کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس پاکستان آنا پڑا۔

Engr Fazle Rabi chitral

   سن 2001  میں پاکستان ہی کے  انجینئرنگ یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم کی تکمیل کر کے انجینرنگ کی ڈگری حاصل کر لی۔  پہلے گورنمنٹ  آف پاکستان، پھر اے کے ڈی این کے ساتھ بحیثیت ملازم وابستہ ہو گئے۔ اس ملازمت کے دوران آپ کو افغانستان اور تاجکستان کے اسفار کا موقع ملا۔ علم جُو طبیعت کو ملازمت راست نہیں آئی چنانچہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مزید تعلیم سے خود بہرہ ور کرنے کے لیے لندن چل دئیے۔ وہاں سے منیجمنٹ میں ڈپلومہ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر عملی زندگی میں جُت گئے۔ سن دو ہزار چھ میں اپنی کمپنی  Green alternative power pvt limited کی بنیاد رکھی پھر دو ہزار سات میں اسے  ختم کر کے شمالی علاقہ جات کی مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مینوفیکچرنگ کی طرف آ گئے یوں ٹربائن  اور دیگر سازو سامان بنانے والی ایک کامیاب کمپنی بنام Hydrolink Engineering Equipment company Pvt LTD کا آغاز کیا۔ یہ کمپنی خوب چلی۔ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے والی اس کمپنی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اسّی فیصد ملازمین چترال سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت بھی ڈیڑھ دو سو سو چترالی تعلیم یافتہ نوجوان  بطورِ ملازم اس کمپنی سے وابستہ ہیں۔ یوں یہ کمپنی چترال کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔


میرے استفسار پر اپنی سیاسی زندگی پر بات کرتے ہوئے انجینئر صاحب کا کہنا تھا ” سیاست کا آغاز زمانہ ء طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے کیا تھا۔ یونیورسٹی کے زمانے میں سرگرم کارکن ہونے کے ناتے قید و بند کی صعوبتیں بھی سہنی پڑی تھیں اور ایک آدھ تعلیمی سال بھی اسٹوڈنٹ پالیٹکس کی بھینٹ چڑھانا پڑا تھا۔ دو ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار سترہ تک جماعت اسلامی کے ساتھ فعال وابستگی رہی۔ سن دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں مولانا شیر عزیز کے ساتھ کورنگ امیدوار تھا۔ سن دو ہزار سترہ میں ایک اصولی اختلاف کی بنیاد پر جماعت اسلامی کو الوداع کہہ کر پیپلز پارٹی پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ تب سے لے کر آج تک اسی جماعت سے وابستہ ہوں۔

میرا عزم یہی ہے کہ بلاول کی توقعات پر اترتے ہوئے  پھر سے پیپلز کو چترال کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بناؤں گا۔ صدارت کی زمہ داری ملنے کے بعد میں نے اپنی کمپنی سے بطورِ چیف ایگزیکٹو استعفیٰ بھی اسی لیے دے دیا کہ یکسو ہو کر پارٹی کے معاملات چلا سکوں۔ اب دامے،درمے سخنے بس پارٹی کی ہی خدمت ہو گی”انجینئر صاحب کی ترجیحات میں “یُوتھ” کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “پہلے بھی اپنی کمپنی کے توسط سے نوجوانوں کے لیے بہت کچھ کیا اب پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے بھی نوجوانوں کو ساتھ لے کر نوجوانوں کے لیے بہت کچھ کروں گا۔ نہ صرف یو سیز کی سطح پر یوتھ وِنگ بحال و فعال ہو گا بلکہ خواتین ونگ کو بھی متحرک کیا جائے گا بالخصوص نوجوانوں کو ایک نئے ویژن، نئی سوچ اور مفید اہداف  و مقاصد سے روشناس کرانے کے لیے ہر ممکن جتن کروں گا۔” 


 حقیقت بھی ہے کہ نوجوان کسی بھی جماعت کا اثاثہ و سرمایہ ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے نوجوانوں کو اٹھانے اور کامیابی کی پگڈنڈیوں پر ڈالنے کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں ۔ اگر انجینئر صاحب اپنے سابقے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے واقعی میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کی تشکیل و صورت گری میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے میں ممد و معاون ثابت ہو گا بلکہ ہمارے معاشرے پر بڑا احسان بھی ہو گا۔اس میں دورائے نہیں کہ چترال کے نو منتخب صدر کی زندگی جدوجہد اور محنت سے عبارت ہے۔ انہوں نے محنت کر کے بزنس کی دنیا میں نام بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ آج کا نوجوان اپنی محنت کے بل بوتے پر مشکل سے مشکل ہدف بھی حاصل کر سکتا ہے۔

سیاست میں اس پہلو سے بھی انہیں ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ ایک طرف ٹاؤن چترال میں آپ کو مقبولیت حاصل ہے اور دوسری طرف ڑاسپور، یارخون اور لٹکوہ میں بھی آپ کے پرسنل فالورز کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ تھوڑی سی محنت اور پلاننگ کے زریعے چترال میں پارٹی کو ایک مستحکم پوزیشن دلانا آپ کے لیے زیادہ مشکل نہیں۔انجینئر صاحب کی شخصیت میں بظاہر کسی چیز کی کمی نہیں۔ سیاسی ورکر رہے ہیں اور طلبا سیاست کا حصہ بھی۔ خوش اخلاق بھی ہیں اور خوش مزاج بھی۔ نیک اطوار بھی ہیں اور نرم گفتار بھی۔ شخصیت میں کشش بھی ہے وقارومتانت بھی۔ شائستہ ہیں اور تہذیب آشنا بھی۔ آج چترال میں جس والہانہ اور مثالی انداز میں آپ کا استقبال کیا گیا یہ نومنتخب صدر کے لیے نیک شگون بھی ہے اور کامیاب سیاسی مستقبل کا اشارہ ۔  اس موقع پر ہم بھی نومنتخب صدر کو اس امید کے ساتھ مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ آپ چترال میں نفرت اور کریڈٹ کی سیاست کا خاتمہ کر کے مثبت انداز ِ سیاست متعارف کروانے میں اپنا بساط بھر کردار ادا کریں گے


شیئر کریں: