Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سپریم کورٹ کا خواتین کی وراثت کے حوالے سے بڑا فیصلہ، وراثت کا دعویٰ اپنی زندگی میں ہی کرسکتی ہیں

شیئر کریں:

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان کے جمعرات کو آنے والے ایک فیصلے کے مطابق کوئی خاتون اپنے والدین کے چھوڑے ہوئے اثاثوں میں وراثت کا دعویٰ صرف اپنی زندگی میں کر سکتی ہے۔

فیصلے کے مطابق کسی بھی خاتون کی اولاد کو ماں کی موت کے بعد ننھیال سے ایسے کسی دعوے کا حق حاصل نہیں ہے۔

عدالت عظمیٰ نے یہ حکم ایک ایسے مقدمے میں جاری کیا، جس میں پشاور سے تعلق رکھنے والی دو متوفی بہنوں کے بچوں نے اپنے نانا سے ماؤں کی وراثت کا دعوی دائر کیا تھا۔

بچوں کے نانا عیسیٰ خان نے اپنی دونوں بیٹیوں میں سے کسی کو اپنی وراثت میں حصہ نہیں دیا تھا، اور 1935 میں اپنی جائیداد اپنے بیٹے عبدالرحمان کو منتقل کر دی تھی۔

دلچسپ بات ہے کہ عیسی خان کی دونوں بیٹیوں میں سے کسی نے اپنی زندگی میں والد کی جائیداد میں اپنا حق نہیں مانگا تھا اور نہ جائیداد کی بھائی کے نام منتقلی کو چیلنج کیا تھا۔

تاہم متوفی بہنوں کے بچوں نے 2004 میں نانا عیسی خان کی جائیداد میں اپنی ماوں کا حصہ حاصل کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا۔ جسے پشاور کی مقامی سول عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے قبول کر لیا تھا۔

بعد ازاں عیسی خان کی اپیل پر پشاور ہائی کورٹ نے سول عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متوفی بہنوں کے بچوں کو وراثت حاصل کرنے کا حق نہیں دیا۔

عیسی خان کے نواسوں نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی۔

جمعرات کو اسلام آباد میں جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے اپیل خارج کرتے ہوئے عیسی خان کے حق میں دیا گیا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ’خواتین کو اپنے والدین کی طرف سے وراثت میں حق اپنی زندگی کے دوران ہی لینا ہوگا اور ایسا نہ کرنے پر ان کی اولاد اس سے محروم ہو جائے گی۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’قانون وراثت میں خواتین کے حق کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ تاہم دیکھنا ہوگا کہ خواتین خود اپنے حق سے دستبردار ہوں یا دعویٰ نہ کریں تو کیا ہو گا؟‘ (انڈیپنڈینٹ اردو)


شیئر کریں: