Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت کا تاج ۔ تحریر: شمس الہدیٰ یفتالیٰ

شیئر کریں:

مملکتِ خداداد پاکستان انتظامی طور پر وفاق  اور چار صوبوں اور ایک عبوری صوبہ گلگت بلتستان میں تقسیم ہے۔ ہر صوبہ کسی ایک وجہ سے مشہور ہے۔ جیسے مینار پاکستان، مزار قائد، باب خیبر ، زیارت بلوچستان جبکہ وفاق میں فیصل مسجد ۔ یہ سب ان صوبوں کی  علامت بن چکے ہیں۔ اسی طرح  شہیدوں کی جنت نظیر عبوری صوبہ گلگت بلتستان کی بات کریں تو یہاں آپ کو ہر منظر ہر نظارہ اپکو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔ نہ جانے اس مٹی  میں ایسا کیا ہے     جو سب کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

لیکن موصوف گلگت بلتستان کی پہچان ہے۔ گلگت بلتستان انکی جان ہے یہ گلگت بلتستان کے شان ہے ، تاج ہیں۔ آپ ظفر_وقار_تاج ہے۔ ظفر وقار تاج کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ شنا زبان کے مشہور شاعر عبدول خالق تاج کے فرزند ارجمند ہے۔ ظفر وقار تاج نہایت شریف اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیں۔جو آپنی ڈیوٹی اور ذاتی زندگی بطریق احسن نبھاتے ہیں۔ وسیع دل و دماغ کے مالک ظفر وقار تاج زندگی کے ہر مسئلے کو وسیع تناظر میں کھلے دل و دماغ کیساتھ کھلی نظر سے بھی دیکھتے ہیں۔ اپ ایک پرفیکشنسٹ ہے۔ ہر لحاظ سے کامیاب شخص ہے زندگی کے ہر محاذ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والے ظفر وقار تاج ابتدائی تعلیم رزمک کیڈٹ کالج سے حاصل کی اسکے بعد تاریخی شہر لاھور اور شہر قائد سے اپنی تعلیمی سفر مکمل کر لی۔ ذندہ دلوں کے شہر لاھور سے زندہ دلی اور شہر قائد سے عہدو وفا لئے ظفر تاج اپنی سر زمین گلگت بلتستان کی خدمت اور سر بلندی کو اپنا نصب العین بنا لیا اور اپنی مٹی کی خدمت سے وابستہ ہوگئی ہے۔

کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ اتنی صلاحیتوں سے نوازتا ہے کہ خود کامیابی انکا پیچھا کرتے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے آپ سکریٹری سیاحت و ثقافت گلگت بلتستان ہے۔ چونکہ شاعری آپ کو وراثت میں ملی ہے اسلئے اس میدان میں بھی آپکا کوئی ثانی نہیں۔ آپ بیک وقت اردو اور شنا زبان میں شاعری کرتے ہیں۔ اردو زبان میں آپکی شاعری پر مبنی دو کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں ملک کے نامور شعراء کیساتھ مشاعروں میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔ لیکن آپ نے اپنی مادری زبان شنا کو تقویت دی شنا میں شاعری شروع کی اور انقلاب برپا کردیا، اس میں دو رائے نہیں ہے کہ جناب ظفر وقار تاج عصر حاضر کے شنا شاعری کے سر تاج ہیں آپ نے اپنے بے مثال کلام سے شنا شاعری میں جو شاندار اضافہ کیا ہے اس پر شنا زبان کو ناز ہے شنا زبان کی سرحدیں آپکی وجہ سے وسیع سے وسیع تر ہوئے۔

آپ نے شنا بولنے والوں کے لئے ان جمالیاتی تقاضوں کو پورا کیا جنکی کمی شنا بولنے والے ہمشہ سے محسوس کرتے رہے ہیں۔ آپ کے لکھے شنا گیت اتنے مقبول ہوئے کہ علاقائی حدون کو چیرتے ہوئے پشتو اور بلوچی جیسے زبانوں پر بھی اثر انداز ہوئیں۔ آپکے لکھے مشہو گیت “ستمگر ” کئی زبانوں میں ری میک ہوئی ہیں۔ یہ آپ کی اپنی مادری زبان سے محبت کا صلہ ہے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے شنیا زبان کو ایک الگ  پہچان دی۔ یقینا ایک شاعر ہی زبان کو زندہ رکھ سکتا ہے۔ مزید اپ ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو بھی لیڈ کرتے ہے جو شنا زبان کے علاوہ گلگت بلتستان میں بولی جانے والی دوسری تمام زبانوں پر بھی ریسرچ کرتی ہے ان کو زندہ رکھنے انکی تاویل کے لئے کام کرتا ہے۔ گلگت بلتستان کی ادب اور موسیقی کو اس بام عروج پر پہنچانے کا کریڈٹ یقیناً آپ کو ہی جاتا ہے۔

 ظفر کا وقار ہمشہ انچا رہا آپ ذات پات ، اونچ نیچ، رنگ و نسل جیسے تفریق سے پاک ہے۔ گلگت بلتستان اور چترال کے مابین امن امان اور پیار محبت کو اجاگر کرنے میں آپکا کلیدی کردار رہا ہے۔ میں آپ سے خاندانی تعلق کو ایک طرف رکھ کر  ایک چاہنے والے کی حیثیت سے آپکی خلوص عقیدت ،مہرو وفا ، آپکی محبت اور جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ یقینا آپ شنا شاعری کے غالب ہیں۔ 


شیئر کریں: